مسجدمیں امامت ۔۔۔۔۔ کوئی آسان کام نہیں ہے (70)۔
کیا آپکو بھی یہ لگتا ہے کہ مسجد کا امام پانچ منٹ کے لئے مسجد میں آتا ہے اور نماز پڑھا کر چلا جاتا ہے تو اسکی کیا عزت ؟ فقط پانچ منٹ کا کام ہے ۔
مگر دوستو! آپکا یہ خیال غلط ہے ۔ مسجد کی امامت دنیا کا سب سے مشکل کام ہے کیونکہ اس میں کوئی بھی چھٹی نہیں ہوتی ۔ ہر ہر چھٹی کے لئے امام کو ایک ذہنی اذیت سے گزرنا پڑتا ہے ۔ جمعہ ہو، اتوار ہو یا پھر عید کا دن ۔ نماز تو بہرصورت امامت کروانی ہے ۔ اور مقتدی لوگوں کا بھی یہ نظریہ ہوتا ہے کہ خواہ کوئی بھی موقع ہو لیکن امام صاحب کو وقت سے پہلے بہرصورت پہنچنا چاہئے ۔
پھر کچھ لوگ یہ شکوہ کرتےہیں کہ امام کو پیسے نہیں لینے چاہئے بلکہ خالی وقت میں کوئی کام دھندا کرکے پیسے کمانے چاہئے ۔ تو یہ بات کہنا آسان ہے مگر اس پر عمل کرنا تقریباًناممکن ہے ۔ کیونکہ امام کو نماز کے وقت سے کم از کم پندرہ بیس منٹ پہلے ذہنی طور پر تیار رہنا پڑتا ہے ۔ وضو اور دیگر ضروریات سے جلدی فارغ ہونا پڑتا ہے ۔ جیسے آپ آزاد ہیں کہ کبھی دوسری رکعت میں ، کبھی تیسری رکعت میں اور کبھی چوتھی رکعت کے بھی بعد پہنچ جاتے ہیں ۔ مگر امام کے پاس یہ اختیار نہیں ہوتا ۔ اُس نے دنیا کا ہر کام ہرصورت میں چھوڑ کر استنجا اور وضو سے فارغ ہوکر عین وقت پر مصلیٰ پر پہنچنا ہوتا ہے ۔ یہ چیز اُسکو کسی بھی دوسرے کام میں مشغول ہونے سے مانع ہوتی ہے ۔
دوسری بات یہ ہے کہ کوئی بھی ملازمت یا کاروبار یا روزگار کے لئے انسان کا ذہنی اور جسمانی طور پر آزاد ہونا ضروری ہوتا ہے ۔ یعنی اُسکو پورا وقت کاروبار کو یا ملازمت کو دینا پڑتا ہے حالانکہ امام صاحب کا کوئی ٹائم ٹیبل ایسا نہیں ہوتا ۔ سردیوں میں دن چھوٹے ہوتے ہیں تو امام صاحب کا ٹائم ٹیبل بدل جاتا ہے ۔ گرمیوں میں جب دن بڑے ہوتے ہیں تو پھر الگ ٹائم ٹیبل اور نمازوں کا مسلسل اوقات بدلتے رہنا بھی ایک ایسا امر ہے جس کی وجہ سے کوئی بھی امام دوسرا کام نہیں کرسکتا ۔
تو ان ائمہ کرام کی قدر کریں۔ یہ لوگ جو صرف پانچ منٹ کے لئےآکر امامت کرواتے ہیں وہ درحقیقت کتنی قربانیاں پس منظر میں دے رہے ہوتے ہیں، وہ آپ نہیں جانتے۔
اگر امام کی اہمیت کو جاننا ہو تو صحیح اندازہ اُس وقت ہوتا ہے کہ اگر وہ چھٹی پر چلے جائیںاور پھر عارضی امام کا بندوبست کرنا مسجد انتظامیہ کے لئے کتنا مشکل ہوتا ہے۔ میں نے ایک مرتبہ دیکھا کہ محلہ کی مسجد کے امام صاحب رخصت پر تھے۔ تو عین نماز کے وقت دس پندرہ بندوں میں کوئی بھی ایسا شخص موجود نہیں تھا جو امامت کرواسکے۔ پھر ایک نوعمر حافظ کو مصلیٰ پر بھیج دیا گیا جو کہ اتنا پریشان ہوگیا کہ رکوع سے اٹھتے وقت اللہ اکبر کہنے لگا۔ جب نمازیوں نے لقمہ دیا تو اُسکو پھر بھی گھبراہٹ میں سمع اللہ کہنا نہ آیا۔ حتیٰ کہ اُس نے پیچھے مڑکرنمازیوں کو سوالیہ انداز میں دیکھنا شروع کردیا مگر مرتے کیا نہ کرتے ۔ زبردستی اُسکو لقمہ دیتے دیتے نماز مکمل کروائی۔۔۔۔
تو ایسے مواقع پر پھر خوب قدر ہوتی ہے ۔ ۔۔
نوٹ : یہ ’’آج کی بات‘‘ ایک بہت ہی مفید سلسلہ ہے جس میں حذیفہ محمد اسحاق کی طرف سے مشاھدات،خیالات اور تجربات پر مبنی ایک تحریر ہوتی ہے ۔ یہ تحریر ہماری ویب سائٹ
Visit https://readngrow.online/ for FREE Knowledge and Islamic spiritual development.
پر مستقل شائع ہوتی ہے ۔ ہر تحریر کے عنوان کے آگے ایک نمبر نمایاں ہوتا ہے ۔ جس اسکی قسط کو ظاہر کرتا ہے کہ یہ کون سی قسط ہے ۔ پچھلی قسطیں بھی ہماری ویب سائٹ پر دستیاب ہیں ۔ اگر کوئی پیغام یا نصیحت یا تحریر آپکو پسند آتی ہے تو شئیر ضرور کریں ۔ شکریہ ۔
مزید اپڈیٹس کے لئے ہمارے واٹس ایپ چینل کو ضرور فالو کریں
https://whatsapp.com/channel/0029Vb0Aaif4o7qSPFms4g1M

