مرید اور شیخ میں مناسبت ِ طبعی ہونا چاہیے
بسلسلہ ملفوظات حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی نور اللہ مرقدہ
ارشاد فرمایا کہ مرید اور شیخ میں مناسبت ِ طبعی ہونا چاہیے، تکلف اور تصنع اور کھینچا کھینچ سے کام نہیں چلتا۔ میاں بی بی کا سا قصہ ہے کہ دونوں میں نباہ جب ہی ہوسکتا ہے جب کہ طبعی مناسبت دونوں میں ہو اور اس مناسبت کا کوئی ضابطہ اور قاعدہ نہیں جیسے کہ مرد و عورت میں مناسبت کا معیار کچھ حسن و جمال نہیں۔ بعضی عورت حسین ہوتی ہے مگر میاں سے نہیں بنتی اور بعضی عورت بد صورت ہوتی ہے اور میاں بی بی میں موافقت خوب ہوتی ہے اسی واسطے حدیث میںمخطوبہ کے دیکھ لینے کی اجازت ہے بلکہ اس کی تحریض(شوق دلانا،ترغیب دینا) ہے ۔(آداب ِ شیخ و مرید، صفحہ ۴۰)
حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ تعالیٰ کے یہ ملفوظات شیخ و مرید کے باہمی ربط اور آداب سے متعلق ہیں ۔ خود بھی پڑھیں اور دوستوں سے بھی شئیر کریں ۔
مزید ملفوظات پڑھنے کے لئے ہماری ویب سائٹ
https://readngrow.online
اپنے پاس محفوظ کرلیں ۔
اس طرح کے ملفوظات روزانہ اس واٹس ایپ چینل پر بھی بھیجے جاتے ہیں
https://whatsapp.com/channel/0029VaJtUph4yltKCrpkkV0r
چینل جوائن کریں

