مدرس کا تدریس کے دوران کسی سے باتیں کرنا خیانت ہے
ملفوظاتِ حکیم الامت مجدد الملت حضرت مولانا محمد اشرف علی تھانوی رحمۃ اللہ علیہ
ایک صاحب نے عرض کیا کہ میں ایک جگہ مدرس ہوں ، بعض لوگ اوقاتِ تعلیم کے وقت پاس آکر بیٹھ جاتے ہیں ، ان سے باتیں کرنے میں جو طلبہ کا حرج ہوتا ہے، کیا یہ خیانت ہوگی؟ فرمایا کہ بیشک خیانت ہے ، ان لوگوں کو منع کر دینا چاہیے کہ یہ کام کا وقت ہے۔ عرض کیا کہ جو اس وقت تک ہوچکا یا آئندہ ایسا اتفاقاً پھر ہوجائے تو کیا اس کا کوئی بدل ہوسکتا ہے؟ فرمایا کہ سوائے توبہ کے اور کوئی بدل نہیں۔ عرض کیا کہ خارج اوقات میں کام کردیا جائے فرمایا کہ یہ بھی اس کا بدل نہیں ہے، فرضوں کے قائم مقام نفلیں تھوڑا ہی ہوسکتی ہیں ۔ کام کے وقت کام کرنا چاہیے اور لوگوں کو منع کر دینا چاہیے۔
نوٹ:- یہ ملفوظات ڈاکٹر فیصل صاحب (خلیفہ شیخ الحدیث حضرت مولانا عبدالمتین بن حسین شاہ صاحب دامت برکاتہم العالیہ) نے انتخاب فرمائے ہیں۔ اور انکو حضرت مولانا محمد زبیر صاحب (فاضل جامعہ دارالعلوم الاسلام لاہور 2023) نے تحریر فرمایا ہے ۔
یہ ملفوظات آپ ہماری ویب سائٹ
https://readngrow.online
پر بالکل مفت میں پڑھ سکتے ہیں ۔
براہ مہربانی یہ پوسٹ اپنے واٹس ایپ اور دیگر سوشل میڈیا پر شئیر کریں ۔

