مختلف صحابہ رضی اللہ عنہم کو نصیحتیں
حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ روایت فرماتے ہیں کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یمن کا حاکم بنا کر بھیجنے لگے تو میں نے عرض کیا‘ یا رسول اللہ مجھے وصیت فرمائیے۔ (جس پر عمل کروں) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اپنے دین (کے اعمال) میں اخلاص برتنا‘ ایسا کرنے سے تجھے تھوڑا عمل بھی کافی ہوگا۔(لترغیب و الترہیب ص 54)
حضرت ام انس رضی اللہ عنہا روایت فرماتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) مجھے وصیت فرمائیے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا گناہوں کو چھوڑ دے۔ کیونکہ یہ ہجرت کا سب سے افضل درجہ ہے‘ اور فرائض کی پابندی کر‘ کیونکہ یہ افضل ترین جہاد ہے‘ اور اللہ کا ذکر کثرت سے کر کیونکہ تو کوئی ایسی چیز لے کر اللہ کے پاس نہیں پہنچے گی جو اس کے ذکر کی کثرت سے زیادہ اس کو محبوب ہو۔ (الترغیب ج 3 ص400از طبرانی)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک صاحب نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) میں سفر کرنا چاہتا ہوں‘ آپ مجھے وصیت فرما دیں‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ سے ڈرنا‘ اور ہر بلندی پر اللہ اکبر کہنا‘ جب وہ صاحب چلے گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو دعا دیتے ہوئے بارگاہ خدا وندی میں یوں عرض کیا:۔
اے اللہ اس کے راستہ کو مختصر فرما دے اور اس پر سفر آسان فرما۔(مشکوٰۃ المصابیح ص314از ترمذی)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ‘ روایت فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ عورتوں کے ساتھ اچھا سلوک کرنے کی وصیت میری طرف سے قبول کر لو‘ کیونکہ عورتیں پسلی سے پیدا کی گئی ہیں‘ اور بلاشبہ پسلی کے اوپر کا حصہ بہت زیادہ ٹیڑھا ہوتا ہے‘ سو اگر تم اس کو سیدھی کرنے لگو گے تو توڑ دو گے اور یوں ہی ٹیڑھی ہی رہے گی‘ لہٰذا تم عورتوں کے بارے میں میری وصیت قبول کر لو۔ (مشکوۃ المصابیح ص 280از بخاری و مسلم)
حضرت علی رضی اللہ عنہ‘ روایت فرماتے ہیں کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نصیحت فرمائی کہ اے علی رضی اللہ عنہ اپنی ران نہ ظاہر کرو‘ کسی زندہ یا مردہ کی ران کی طرف دیکھو۔ (مشکوٰۃ المصابیح ص 269 از ابو دائود ‘ ابن ماجہ)
حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ روایت فرماتے ہیں کہ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) مجھے وصیت فرمائیے۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جتنا بھی ہو سکے اللہ سے ڈر اور ہر پتھر اور درخت کے پاس اللہ کا ذکر کر‘ اور جب تو کوئی گناہ کرے تو اس سے توبہ کر‘ پوشیدہ گناہوں کی پوشیدہ توبہ کر اور جو گناہ علانیہ کیا ہو اس کی توبہ علانیہ کر۔ (الترغیب و الترہیب ص 93ج 4 از طبرانی)
حضرت معاذ رضی اللہ عنہ روایت فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرا ہاتھ پکڑ کر تھوڑی دور مجھے ساتھ لے چلے اور پھر ارشاد فرمایا: اے معاذ رضی اللہ عنہ! ۔میں تجھے اللہ سے ڈرنے اور سچ بولنے اور عہد پورا کرنے اور خیانت سے بچنے کی وصیت کرتا ہوں۔
اور یہ وصیت بھی کرتا ہوں کہ یتیم پر رحم کیا کر‘ اور پڑوس کی حفاظت کیا کر‘ غصہ کو پیا کر‘ بات نرمی سے کیا کر‘ سب مسلمانوں کو سلام کیا کر ‘ امام (یعنی مسلمانوں کے امیر) کے ساتھ لگا رہ‘ (یعنی اس کا ساتھ نہ چھوڑ) قرآن شریف کی سمجھ حاصل کر‘ آخرت سے محبت کر‘ حساب (آخرت)سے گھبرایا کر‘ دنیا کی امیدیں کم کر اور اچھے عمل کر‘ پھر فرمایا۔ اے معاذ! میں تجھے اس سے منع کرتا ہوں کہ تو کسی مسلمان کو گالی دیوے‘ یا کسی جھوٹے کو سچا بتا دے‘ یا کسی سچے کو جھوٹا بتائے‘ یا مسلمانوں کے منصف امیر کی نافرمانی کرے‘ یا یہ کہ زمین میں فساد کرے۔
پھر فرمایا: کہ اے معاذ تو اللہ کو یاد کر‘ ہر درخت اور پتھر کے پاس‘ اور جب بھی کوئی گناہ ہو جائے توبہ کر‘ پوشیدہ گناہ کی پوشیدہ توبہ اور علانیہ گناہ کی علانیہ توبہ کر۔ (الترغیب و الترہیب ج 4 ص 107از بیہقی فی کتاب الزہد)
اگرآپ کو یہ واقعہ پسند آیا ہے تو اسکو شئیر ضرور کریں اور اس طرح کے دیگر اسلامی واقعات اور اولیاء اللہ کے حالات و تذکرے آپ ہمارے ویب سائٹ
https://readngrow.online
پر بالکل مفت میں پڑھ سکتے ہیں ۔
تمام اسلامی مواد اور دیگر کیٹگریز کو دیکھنے کے لئے یہ لنک وزٹ کریں
https://readngrow.online/readngrow-categories/
نیز ہم اس ویب سائٹ کی مفید چیزوں کو اس واٹس ایپ چینل پر بھی شئیر کرتے رہتے ہیں ۔
https://whatsapp.com/channel/0029VaviXiKHFxP7rGt5kU1H
یہ چینل فالو کرلیں ۔

