مثالی سسر اور مثالی داماد
خلیفہ عبدالملک بن مروان نے مشہور تابعی بزرگ اور مسجد نبوی کے امام سعید بن مُسیّب رحمہ اللہ کے پاس اپنا ایلچی بھیجا۔۔۔ اس نے آ کر عرض کی کہ خلیفہ کی خواہش ہے کہ آپ اپنی بیٹی کی شادی ولی عہد ولید بن عبدالملک رحمہ اللہ سے کر دیں۔۔۔ آپ کی صاحبزادی بہت خوبصورت اور سیرت و کردار میں یکتا تھی۔۔۔ عالمہ او رفاضلہ تھی۔۔۔ تو امام سعید بن مُسیّب رحمہ اللہ نے بلا تامل انکار کر دیا۔۔۔
نمائندے نے عرض کی: ’’کیا آپ عزت و شان‘ جاہ و منصب اور مال و دولت کا انکار کرتے ہیں اور خلیفہ کا مقام و مرتبہ آپ کی نگاہ میں کچھ حیثیت نہیں رکھتا؟‘‘۔
سعید بن مُسیّب رحمہ اللہ نے جواب دیا: ’’جب ساری دنیا اللہ تعالیٰ کے نزدیک ایک مچھر کے پَر کے برابر بھی نہیں ہے تو پھر خلیفہ بھی اسی بے وقعت دنیا کا ایک حصہ ہیں۔۔۔‘‘ نمائندہ نے کہا: ’’آپ کے بارے میں مجھے خلیفہ کی ناراضگی کا ڈر ہے۔۔۔‘‘۔
سعید بن مُسیّب رحمہ اللہ نے جواب دیا:۔
ترجمہ
’’سچے مومنوں کا (ان کے دشمنوں سے) دفاع اللہ تعالیٰ خود فرماتا ہے۔۔۔‘‘
یہ جواب سن کر خلیفہ کا نمائندہ افسوس اور ندامت سے منہ لٹکائے ہوئے واپس ہوگیا۔۔۔
امام سعید بن مُسیّب رحمہ اللہ مسجد نبوی میں اپنے شاگردوں کو روزانہ عصر کی نماز کے بعد درس دیتے تھے۔۔۔ شاگردوں میں عبداللہ نامی ایک زاہد اور تقویٰ شعار نوجوان بھی شامل تھا۔۔۔ اتفاق سے وہ گزشتہ چند روز سے سبق میں حاضر نہ ہوا تھا۔۔۔ ایک روز درس شروع ہوا تو آپ کی نظر اپنے شاگرد پر جا پڑی۔۔۔ پوچھا:۔
’’تم گزشتہ کئی روز سے درس میں نظر نہیں آئے۔۔۔ کہاں غائب تھے؟‘‘
عبداللہ نے عرض کی: ’’حضرت! میری اہلیہ کا انتقال ہوگیا اور میں گھر میں مصروف رہا۔۔۔‘‘ آپ نے فرمایا: ۔۔۔۔’’ہمیں اطلاع کیوں نہ دی ۔۔۔۔تاکہ ہم بھی تعزیت کیلئے آ جاتے؟‘‘۔
عبداللہ نے جواب دیا: ’’استادِ محترم! میں نے آپ کو اطلاع دینے سے اس لیے گریز کیا تاکہ طلباء علوم نبوت کی یہ جماعت آپ کی تعلیم سے مستفید ہوتی رہے۔۔۔ آپ کا وقت نہایت قیمتی ہے آپ کے دروس میرے غم میں شریک ہونے سے کہیں زیادہ اہم ہیں۔۔۔‘‘۔
سعید بن مُسیّب نے پوچھا: ’’بیوی کی وفات کے بعد کسی عورت کو پیغام نکاح بھی دیا ہے؟‘‘ عبداللہ نے عرض کی: ’’اللہ آپ پر رحم کرے۔۔۔ بھلا کون اب مجھ سے شادی کریگا کیونکہ میرے پاس چند درہم سے زیادہ کی رقم نہیں۔۔۔‘‘۔
آپ نے فرمایا ’’اگر میں اپنی صاحبزادی تمہارے نکاح میں دے دوں تو تمہیں قبول ہے؟‘‘۔
عبداللہ نے مارے حیرت اور تعجب سے نگاہیں جھکا دیں۔۔۔ یہ میں کیا سن رہا ہوں؟ امام سعید بن مُسیّب رحمہ اللہ کی دامادی کا شرف؟ اسے اعتبار نہ آیا۔۔۔ استاد نے دوبارہ پوچھا تو شاگرد رشید نے اثبات میں سر ہلا دیا۔۔۔
عبداللہ بن ابی ودَاعہ بیان کرتے ہیں کہ اللہ کی قسم! مجھے اپنے استاد محترم کی باتوں پر یقین نہ آیا۔۔۔ مگر اچانک انہوں نے لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کیا۔۔۔ وہ مسجد نبوی تھی۔۔۔ انہوں نے میرے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھا۔۔۔ اور نکاح پڑھانا شروع کیا۔۔۔
اور سنتِ نبوی کے مطابق تین درہم مہر کے عوض عبداللہ بن ابی وداعہ سے نکاح کر دیا ۔۔۔‘‘۔
جب مسجد نبوی میںآپ کا درس ختم ہوا تو وہ اپنے گھر واپس آئے۔۔۔ دیکھا کہ ان کی صاحبزادی قرآن پاک کی تلاوت کر رہی ہے۔۔۔
سعید بن مُسیّبؒ: ’’کتاب اللہ کو سمجھ بھی رہی ہو؟‘‘۔
صاحبزادی: ’’ہاں والد محترم! البتہ ابھی ایک بات کا مفہوم نہیں سمجھ پا رہی ہوں۔۔۔
سعید بن مُسیّبؒ: ’’بیٹی! وہ کونسی بات ہے؟‘‘ صاحبزادی: قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: کہ مجھ سے دنیا اور آخرت کی بھلائی کا سوال کرو۔۔۔
’’مجھے یہ تو سمجھ آگیا کہ آخرت کی بھلائی سے مراد جنت ہے‘ لیکن یہ دنیا کی بھلائی سے کیا مراد ہے؟‘‘۔
سعید بن مُسیّبؒ: ’’اے میری بیٹی! دنیا کی بھلائی سے مراد وہ نیک خاتون ہے جو نیک شوہر کے نصیب میں آئے۔۔۔ اور آج اللہ تعالیٰ نے تجھے نیک شوہر عطا فرما دیا ہے‘ لہٰذا آئو تجھے تیار کرکے تیرے سُسرال پہنچا دیں۔۔۔‘‘۔
پھر سعید بن مُسیّب رحمہ اللہ اپنی صاحبزادی کو خود ہی لے کر اپنے داماد کے گھر پہنچ گئے۔۔۔ ادھر عبداللہ اپنے گھر کے اندر شادی کے انتظام کے بارے میں فکر مند بیٹھے تھے کہ دروازہ پر دستک کی آواز ان کے کانوں سے ٹکرائی۔۔۔
عبداللہ نے پوچھا: ’’کون؟‘‘ آواز آئی: ’’سعید‘‘۔
عبداللہ کا بیان ہے: ’’میں دروازہ کھولنے کے لیے کھڑا ہوا اور مجھے یہ خدشہ لاحق ہو گیا کہ شاید استادِ محترم کے دل میں اس شادی کے متعلق کوئی بات آگئی ہے اور اس رشتہ کو نبھانے کا خیال نہیں ہے‘ یا خو دان کی لڑکی نے ہی میرے ساتھ شادی کے رشتہ میں منسلک ہونے سے انکار کر دیا ہے۔۔۔ لیکن جب دروازہ کھولا تو استاد محترم دروازے پر تشریف فرما ہیں اور مجسمہ حسن و جمال‘ پیکر شرم و حیا‘ عروسی جوڑے میں ملبوس ان کی صاحبزادی پیچھے کھڑی ہے۔۔۔‘‘۔
عبداللہ بن ابی وَداعہ: ’’ایسی بھی کیا جلدی تھی استاد محترم‘ جو اتنی تکلیف اٹھانے کی زحمت فرمائی؟‘‘۔
سعید بن مُسیّبؒ: اے عبداللہ! اللہ تعالیٰ کو یہ ناپسند ہے کہ کوئی شخص بغیر بیوی کے ایک رات بھی گزار ے کہیں شیطان اس کو اپنے شکنجے میں نہ لے۔۔۔ یہ اپنی بیوی لے جائو۔۔۔ اللہ تعالیٰ تیرے لیے اس میں برکت عطا فرمائے اور اس کے لیے تجھ میں برکت دے اور تم دونوں کو خیر و بھلائی سے نوازے۔۔۔ یہ کہہ کر سعید بن مُسیّب رحمہ اللہ دروازے ہی سے واپس چلے گئے اور دلہن اپنے شوہر کے گھر داخل ہوگئی۔۔۔
عبداللہ کا بیان ہے کہ میں نے اپنی والدہ کو جب بتایا تو پہلے تو انہیں اعتبار نہ آیا۔۔۔ پھر جب حقیقت جانی تو بے حد خوشی کا اظہار کیا۔۔۔ پھر میں نے چھت پر چڑھ کر پڑوسیوں کو آواز دی۔۔۔ پڑوسی آئے اور پوچھا: ’’کیا بات ہے عبداللہ؟‘‘۔
میں نے بتایا: عالم جلیل سعید بن مُسیّب رحمہ اللہ نے اپنی صاحبزادی سے میری شادی کر دی ہے اور دلہن کو خود پہنچا بھی گئے ہیں‘ وہ میرے گھر میں موجود ہے۔۔۔
پھر مرد اور عورتیں سب میرے گھر تشریف لائے۔۔۔ عورتوں نے دلہن کو سنوارا سجایا‘ تیار کیا ۔۔۔ یہ سارا کام خوشنما اسلامی ماحول میں انجام پایا‘ جس میں رسم و رواج کا کوئی شائبہ تک نہ تھا۔۔۔ پھر یہ سارے لوگ میرے شکریے کے ساتھ اپنے گھروں کو لوٹ گئے۔۔۔
جب میں حجلہء عروسی میں داخل ہوا تو میرے سامنے ایک حسن و جمال کی پیکر‘ کتاب اللہ کی حافظہ سنت رسول کی عالمہ اور حق زوجیت کی عارفہ جلوہ افروز تھی۔۔۔
شادی کے ابتدائی ایام نہایت خوبصورت تھے۔۔۔ وہ واقعی بہترین بیوی تھی۔۔۔ ایک ہفتہ کے بعد سعید بن مُسیّب رحمہ اللہ سے ملاقات ہوئی‘ پوچھنے لگے: ہمارے مہمان کو کیسا پایا؟ میں نے کہا: اتنا ہی اچھا جتنا آدمی تصور کر سکتا ہے۔۔۔ اور پھر ایک دن میں نے اپنی بیوی سے کہا: ’’کئی دن گزر چکے ہیں‘ علم کے حلقے میں نہیں جا سکا۔۔۔ میں آج سے دوبارہ علم حاصل کرنے کے لیے جائوں گا۔۔۔‘‘۔
اس نے پوچھا: ’’کدھر کا ارادہ ہے؟‘‘ میں نے بتایا: ’’سعید بن مُسیّب رحمہ اللہ کے درس میں جانا ہے۔۔۔‘‘۔
اس نے عرض کیا: ۔۔۔’’میرے ہی پاس رہیں۔۔۔ سعید بن مُسیّب کا علم میرے ہاں سے ہی آپ کو ملتا رہے گا۔۔۔‘‘ چنانچہ عبداللہ بن ابی و داعہ بیوی سے درس لینے لگے۔۔۔۔
کچھ دنوں کے بعد سعید بن مُسیّب جب ملاقات کے لیے تشریف لائے تو پوچھا: ’’اے عبداللہ! درس میں آنے کا سلسلہ منقطع کیوں کر دیا؟‘‘۔
عبداللہ بن ابی وداعہ نے جواباً عرض کیا: ’’کیونکہ میں نے سعید بن مُسیّب رحمہ اللہ کا علم ان کی صاحبزادی کے پاس پالیا ہے۔۔۔‘‘۔
اگرآپ کو یہ واقعہ پسند آیا ہے تو اسکو شئیر ضرور کریں اور اس طرح کے دیگر اسلامی واقعات اور اولیاء اللہ کے حالات و تذکرے آپ ہمارے ویب سائٹ
https://readngrow.online
پر بالکل مفت میں پڑھ سکتے ہیں ۔
تمام اسلامی مواد اور دیگر کیٹگریز کو دیکھنے کے لئے یہ لنک وزٹ کریں
https://readngrow.online/readngrow-categories/
نیز ہم اس ویب سائٹ کی مفید چیزوں کو اس واٹس ایپ چینل پر بھی شئیر کرتے رہتے ہیں ۔
https://whatsapp.com/channel/0029VaviXiKHFxP7rGt5kU1H
یہ چینل فالو کرلیں ۔

