مثالی تربیت
علامہ اقبال رحمۃ اللہ علیہ اپنی سفر حیات میں لکھتے ہیں … جب میں سیالکوٹ میں پڑھتا تھا تو صبح اُٹھ کر روزانہ قرآن پاک کی تلاوت کرتا تھا … والد مرحوم وظائف سے فرصت پاکر آتے اور مجھے دیکھ کر گزرجاتے … ایک دن صبح کو میرے پاس سے گزرے تو مسکرا کر فرمایا … کبھی فرصت ملی تو میں تم کو ایک بات بتائوں گا … میں نے دوچار دفعہ بتانے کی ضد کی تو فرمایا … جب امتحان دے لو گے تب … جب امتحان دے چکا اور لاہور سے آیا تو فرمایا … جب پاس ہوجائو گے … تب … جب پاس ہوگیا اور پوچھا تو فرمایا … بتائوں گا …ایک صبح کو جب حسب دستور قرآن کی تلات کررہا تھا تو وہ میرے پاس آگئے اور فرمایا … بیٹا!… جب تم قرآن پڑھا کرو تو یہ سمجھو کہ یہ قرآن تم ہی پر اُتر رہا ہے … یعنی اللہ تعالیٰ خود تم سے ہم کلام ہے …
تیرے ضمیر پہ جب تک نہ ہو نزول کتاب گرہ کشاہیں نہ رازی بندہ صاحب کشاف
ان کا یہ فقرہ میرے دل میں اُتر گیا … اور اس کی لذت دل میں اب تک محسوس کرتا ہوں … ایک دفعہ ایک سائل سوال کرتا ہوں ہمارے دروازے پر آیا … اس نے صدا دی اور بری طرح اُڑ گیا … میرے شباب کا زمانہ تھا … مجھے اس کی ضد پر غصہ آیا … میں نے اسے پیٹا اور اس کی جھولی زمین پر اُلٹ دی … والد صاحب کا دل اس بے رحمی پر بھر آیا … ان کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے۔ انہوں نے فرمایا … قیامت کے دن جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گرد تمام اُمت جمع ہوگی … جس میں مجاہد … حکیم … شہید … زاہد… صوفی … عالم… اور گنہگار ہر قسم کے لوگ ہوں گے … اور اس مظلوم سائل کی فریاد پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھ سے دریافت فرمائیں گے … کہ ہم نے ایک بندہ مسلم کو تیری فرزندی اور نگرانی میں دیا تو اسے بھی آدمی نہ بناسکا تو میں کیا جواب دوں گا…؟
اگرآپ کو یہ واقعہ پسند آیا ہے تو اسکو شئیر ضرور کریں اور اس طرح کے دیگر اسلامی واقعات اور اولیاء اللہ کے حالات و تذکرے آپ ہمارے ویب سائٹ
https://readngrow.online
پر بالکل مفت میں پڑھ سکتے ہیں ۔
تمام اسلامی مواد اور دیگر کیٹگریز کو دیکھنے کے لئے یہ لنک وزٹ کریں
https://readngrow.online/readngrow-categories/
نیز ہم اس ویب سائٹ کی مفید چیزوں کو اس واٹس ایپ چینل پر بھی شئیر کرتے رہتے ہیں ۔
https://whatsapp.com/channel/0029VaviXiKHFxP7rGt5kU1H
یہ چینل فالو کرلیں ۔

