مایوس کیوں کھڑا ہے۔۔۔۔ ہمت مرداں۔۔۔ مدد ِخدا
۔۱۹۲۵ء کی ایک گرم رات ایلوستار کے ایک غریب سکول ماسٹر کی جھونپڑی میں ایک بچہ پیدا ہوا۔ والد کی آمدنی کم تھی اور مسائل زیادہ، چنانچہ وہ بچہ چھٹیوں میں منڈی میں کیلے بیچتا تھا۔ وہ ایک عام سا دُبلا پتلا نوجوان تھا جس کی شخصیت میں کوئی کشش نہیں تھی۔والد نے قرض لے کر اسے سنگاپور بھیجا جہاں سے وہ طب کی تعلیم پاکر واپس آیا۔ وہ رات گئے تک مریض دیکھتا رہتا۔ ۱۹۵۷ء میں اس نے لکھنا شروع کردیا۔ اس کی باتوں میں عجیب طرح کی کشش اور دلربائی تھی، دیکھتے ہی دیکھتے وہ عوام میں مشہور ہونے لگا۔۱۹۶۴ء میں اس نے الیکشن لڑا، کامیاب ہوا اور پارلیمنٹ میں جابیٹھا۔ ۱۹۶۹ء میں وہ الیکشن ہارگیا، پارٹی نے اسے نکال دیا۔ اس نے پارٹی سے نکل کر The Malay dialama کے نام سے بڑی شان دار کتاب لکھی جس نے مقبولیت کے تمام ریکارڈ توڑ دیئے۔ پارٹی نے اس کی مقبولیت سے مجبور ہو کر اسے واپس لے لیا۔۱۹۷۴ء میں وہ دوسری بار رُکن پارلیمنٹ بنا، اسے وزیرتعلیم بنادیا گیا، چار سال بعد وہ ڈپٹی وزیراعظم بنا اور ۱۹۸۱ء میں وزیراعظم۔ سکول ماسٹر کے اس دسویں بچے کا نام مہاتیر محمد ہے جس نے اپنے خلوص، لگن، مسلسل جدوجہد اور اللہ تعالیٰ سے تعلق کی بناء پر ۱۹۹۶ء میں ملائیشیا کو ایشین ٹائیگر بنادیا۔ اس کی ترقی کی سالانہ شرح آٹھ اعشاریہ چھ ہوگئی۔ ’’اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ‘‘ ملک میں تقریباً سو فیصد روزگار ہوا اور غربت مکمل طور پر ختم ہوگئی۔
کتنے خوش قسمت ہیں وہ لوگ جو اپنی موجودہ خستہ حالی پر مایوس ہوکر بیٹھ نہیں جاتے ۔۔۔بلکہ ہر حال میں اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہیں، خداداد صلاحیتوں کا کھوج لگاتے ہیں۔۔۔۔رضائے الٰہی کے حصول کے لیے ایک منزل اور راستہ مقرر کرتے ہیں اور آخری سانس اس سکون سے لیتے ہیں کہ وہ اپنی منزل کے قریب ہوچکے ہوتے ہیں۔۔۔ رب ان سے راضی ہوتا ہے اور وہ اس سے راضی ہوتے ہیں۔
اگرآپ کو یہ واقعہ پسند آیا ہے تو اسکو شئیر ضرور کریں اور اس طرح کے دیگر اسلامی واقعات اور اولیاء اللہ کے حالات و تذکرے آپ ہمارے ویب سائٹ
https://readngrow.online
پر بالکل مفت میں پڑھ سکتے ہیں ۔
تمام اسلامی مواد اور دیگر کیٹگریز کو دیکھنے کے لئے یہ لنک وزٹ کریں
https://readngrow.online/readngrow-categories/
نیز ہم اس ویب سائٹ کی مفید چیزوں کو اس واٹس ایپ چینل پر بھی شئیر کرتے رہتے ہیں ۔
https://whatsapp.com/channel/0029VaviXiKHFxP7rGt5kU1H
یہ چینل فالو کرلیں ۔

