ماہتاب عرب کی نظر کیمیا اثر
جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس خدمت کا ثبوت تو اس درجہ کھلا ہوا ہے کہ نصاریٰ اور یہود کی تاریخیں بھی ان سے لبریز ہیں، خدا جانے وہ کونسا کیمیاوی اثر تھا جو ہر شخص کو ایمان لاتے ہی ایک منٹ بلکہ اس سے بھی کم مقدار میں صرف ایک نظر سے اس انتہائی مرتبہ پر پہنچا دیتا تھا جو ہزار سال کی ریاضت و مجاہدہ سے بھی حاصل ہوجائے تو ارزاں ہے، آج سطح زمین پر کون شخص ہے جو اس کا انکار کرے کہ آپ جس وقت وحشت میں ڈال دینے والے دعوے کو پکارنے کے لئے تن تنہا مکہ میں کھڑے ہوئے خود آپ کے لئے بھی ایسا خوفناک منظر تھا کہ دیکھنے والوں کے دل دہلے جاتے تھے، اور ہاتھ پائوں کپکپائے جاتے تھے، پھر آپ پر ایمان لانے والوں کی مصیبت کا تو پوچھنا ہی کیا، اس پر ان حضرات کی پختگی و ثبات قدم درے کھائے، بالو کی ریت پر عین دوپہر کی چلچلاتی دھوپ میں لٹائے گئے، بدن پر تیل ملا جانا برداشت کیا، گرم پتھروں پر جھلسنا گوارا کیا، زخم کھائے، خون کے فوارے بہے مگر ’’احد احد‘‘ کا کلمہ جس کی مٹھاس دل میں بیٹھ چکی تھی زبان سے نہ ہٹا پر نہ ہٹا، خود سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت بے بس تھے اور کسی قسم کی اعانت نہ کرسکتے تھے، اپنے طفل نو آموز کی یہ تکلیف دیکھتے اور یوں فرما کر چلے جاتے کہ اے بلال ’’صبر، صبر‘‘۔۔
عورتیں نظر کیمیاوی اثر سے متاثر ہوئیں تو زنجیروں میں جکڑنا پسند کیا، برہنہ کی گئیں، سر اور پیشانی کے بال پکڑ کر سنگریزوں پر گھسیٹی گئیں، شرم گاہوں پر نیزے اور برچھیاں ماری گئیں، آخر جاں بحق تسلیم ہوئیں، مگر سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا کفر نہ ہوسکا پر نہ ہوسکا۔
حضرت صہیبؓ گرفتار کرکے غلام بنائے گئے، بکنا قبول کیا، مشکیں کسی گئیں، کال کوٹھڑی میں رکھے گئے، کھانا بند کردیا گیا، فاقوں پر فاقے برداشت کئے مگر یہ نہ ہوسکا کہ جو کلمہ زبان سے پڑھ لیا تھا، ایذا رساں دشمنوں کے پنجہ ظلم سے صرف بچنے کے لئے اس کا ظاہری محض بصورت توریہ انکار کرجائیں، آخر سولی پر لٹکائے گئے اور کہا گیا کہ اپنے اسلام سے باز آئو تو نجات و راحت ملے، مگر اس پاک نفس کو تو راحت اسی میں تھی کہ جس کیمیا اثر نے اپنا بنالیا ہے اس کی عظمت کے خلاف بات زبان پر نہ آنے پائے، اس لئے ہنسے اور کہہ دیا کہ اس خیال سے در گذر کرو جو کچھ کرنا ہے آخر سولی پر چڑھ کر یہ کلمات کہتے ہوئے کہ:’’یا اللہ اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو میرا آخری پہنچا دیجیئو‘‘۔
دنیا سے سدھارے اور انکار و کفر کا کلمہ زبان پر لانا بھی گوارہ نہ کیا۔
ایک دو نہیں بلکہ ہزارہا واقعات ہیں جنہوں نے اس بات کا ثبوت دیدیا ہے کہ آپکی نظر میں وہ اثر تھا کہ جس پر پڑی اس کو کمال اطاعت کے انتہائی مرتبہ پر پہنچا کر ہٹی، ایک جوان شخص نے صد آرزو نکاح کیا اور جب تمنائوں کی پوری کرنے والی گھڑی آئی کہ پہلی شب میں وصال کا وقت قریب پہنچا تو کان میں آواز پڑی کہ سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم اپنے لوگوں کو جنگ میں لے جانے کے لئے بلا رہے ہیں، اس آواز کا سننا تھا کہ موت کا خوفناک میدان اور خون کی ندیوں اور نالوں کا جنگل اس پیاری بی بی کے نظارہ سے زیادہ پیارا معلوم ہونے لگا، جس کو ہجر پر ہجر کی تکلیفیں جھیل کر آج حاصل کیا تھا، چنانچہ فوراً تیر کمان اور تلوار و نیزہ سنبھال کر احد کی وادی میں آپہنچے اور دو چار وار کے بعد شربت شہادت پی کر میٹھی نیند سو رہے۔
جنگ بدر کا ہولناک منظر نظر کے سامنے تھا اور سرداران قریش کا عشرت و نشاط میں ڈوبا ہوا مست لشکر آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر قلیل جماعت کو ڈرا رہا تھا کہ ایک انصاری نونہال جس کی نوجوانی پر دشمن کو بھی ترس آنا چاہئے، خورجی (توشہ دان) میں چھوارا نکال کر کھاتا ہوا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچا اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ! اگر میں لڑتا لڑتا مر جائوں تو کیا انعام ملے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’جنت‘‘۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے اس لفظ کا نکلنا تھا کہ اس ہونہار کے قلب پر بجلی کوند گئی، خدا جانے اس کو کس قدر آپ کی سچائی کا اعتماد تھا جس نے اس کو حصول جنت میں بیتاب بنادیا، نہ اس کو اپنی جوانی کا لحاظ ہوا کہ ابھی دیکھا ہی کیا ہے؟ نہ ماں باپ کا خیال آیا کہ مجھ بغیر ان کا کیا حال ہوگا؟ نہ نیزہ کی سنان یا تلوار کی دھار سے ڈر معلوم ہوا کہ چبھنے سے کیا تکلیف ہوگی؟ سب کچھ اس کے ذہن سے محو ہوگیا اور جنت جس کا نام حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے نکلا تھا گویا اس کے سامنے آکھڑی ہوئی، کہ اس کو منہ میں پڑی ہوئی کھجور کا نگلنا دشوار پڑگیا، آخر اس کو تھوکا اور یہ کہہ کر کہ:’’بخ بخ اس کے کھانے میں دیر ہوتی ہے‘‘۔
آگے بڑھا اور شہید ہو کر جنت کو سدھارا۔ابو سفیان کی بیوی ہندہ جنہوں نے کسی وقت میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا حمزہؓ کے سینہ کو چاک کرے کلیجہ نکالا اور اس کو دانتوںسے چبا کر یہ کہتے ہوئے تھوکا تھا کہ ’’آج میرے کلیجہ میں ٹھنڈک پڑ گئی‘‘۔
جس وقت مسلمان ہوئیں تو حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر کہنے لگیں کہ: ’’یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کل آپ کے منہ سے زیادہ مجھے کوئی مبغوض منہ نہ معلوم ہوتا تھا اور آج آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے سے زیادہ دنیا بھر میں کوئی چہرہ محبوب نہیں آتا‘‘۔
غرض دس بیس واقعات ہوں تو کوئی نظیر میں پیش کرے یہاں تو جو حالت ہزاروں نو مسلم صحابہ اور نو آمیز طلبہ علم رسالت کی ہوئی وہ سب کو معلوم ہے کہ ناز پروردہ شاہزادوں اور امن و عافیت کی زندگی گزارنے والے نبی زادوں، یعنی قریش اور اہل عرب نے مسلمان ہو کر کیا کیا کچھ تکلیفیں نہیں اٹھائیں؟ گھر چھوڑے، بے وطن ہوئے، دولت چھوڑی ، ثروت چھوڑی، مال چھوڑا، حکومت چھوڑی، کنبہ سے منہ موڑا، بی بی بچوں سے علاقے توڑے، بچپن کے یاروں اور مدت کے احباب و آشنائوں سے نا آشنا ہوئے، عزت کو خیرباد کہا، راحت بالائے طاق رکھی، تلواروں کی چھائوں میں آئے، فاقوں کے بستر پر لیٹے، مزدوریاں کیں، کئی کئی فاقوں پر شکم سیری کے لئے پانی کے بھاری ڈول کنوئوں سے کھینچے اور ایک ایک ڈول پر ایک ایک چھوارا لے کر پیٹ بھرا، غرض ہر قسم کی مصیبتوں میں جو کچھ پڑا سب ہی برداشت کیا، مگر ایمان کی حلاوت جس سے زبان و قلب آشنا ہوچکی تھی نہ چھوٹی پر نہ چھوٹی، آخر وہ کونسی داب تھی جس نے ان کو تھام رکھا تھا اور وہ کونسی لذت تھی جس کو ان تمام دشواریوں پر غلبہ حاصل ہورہا تھا۔
ابوجندلؓ جو ایمان لانے کی سزا میں مکہ کے اندر پابہ زنجیر اور اندھیری کوٹھڑی میں قید تھے موقع پا کر عین اس وقت جب کہ میدان حدیبیہ میں صلح نامہ کی تکمیل ہورہی تھی کسی تدبیر سے بھاگ آئے اور یوں سمجھ کر کہ مسلمان مجھے ضرور اپنی پناہ میں لے لیں گے اسلامی لشکر میں آکر گر پڑے، مگر پریش کے اصرار پر کہ ابو جندلؓ کو واپس کردو، حضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ابو جندلؓ کا ہاتھ ان کے باپ کے ہاتھ میں پکڑا دیا یہ وہ وقت تھا کہ ایمان کی آزمائش کے لئے اس سے دشوار گھاٹی شاید مشکل سے ملے کہ خود مسلمان ہی ابو جندلؓ کو کفار کا تختۂ مشق بنانے کے لئے کافروں کے حوالے کررہے ہیں مگر اللہ رے خداوندی سفر کی نظر کیمیا اثر کہ ابو جندلؓ روتے ہیں اور دہائی دیتے ہیں کہ میں بڑی مصیبت سے بھاگا ہوں اب مجھے دشمنوں کے حوالے نہ کرو اور حضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ:’’اے ابو جندلؓ! صبر کرو خدا تمہارے لئے کوئی دوسری سبیل نکالے گا‘‘۔
چنانچہ ابو جندلؓ بہ ہزار یاس پھر زندان مصیبت میں داخل ہوئے مگر وہ کلمہ توحید جس کی حلاوت و شیرینی سے زبان قلب ایک دفعہ آشنا ہوچکی تھی نہ چھوٹا پر نہ چھوٹا وائے حیف کہ ان واقعات کو دیکھتے ہوئے کسی پھوٹے منہ سے یہ بہتان کا کلمہ نکلے کہ:’’اسلام بزور شمشیر پھیلا‘‘(مولاناعاشق الٰہی میرٹھی رحمہ اللہ شمارہ نمبر 9)
اگرآپ کو یہ واقعہ پسند آیا ہے تو اسکو شئیر ضرور کریں اور اس طرح کے دیگر اسلامی واقعات اور اولیاء اللہ کے حالات و تذکرے آپ ہمارے ویب سائٹ
https://readngrow.online
پر بالکل مفت میں پڑھ سکتے ہیں ۔
تمام اسلامی مواد اور دیگر کیٹگریز کو دیکھنے کے لئے یہ لنک وزٹ کریں
https://readngrow.online/readngrow-categories/
نیز ہم اس ویب سائٹ کی مفید چیزوں کو اس واٹس ایپ چینل پر بھی شئیر کرتے رہتے ہیں ۔
https://whatsapp.com/channel/0029VaviXiKHFxP7rGt5kU1H
یہ چینل فالو کرلیں ۔

