لڑکیوں کی جلدی شادی نہ کرنے کے مفاسد
ملفوظاتِ حکیم الامت مجدد الملت حضرت مولانا محمد اشرف علی تھانوی رحمۃ اللہ علیہ
ارشاد فرمایا کہ بعض ناعاقبت اندیش کنواری لڑکیوں کو بالغ ہوجانے کے بعد بھی کئی کئی سال بٹھلائے رکھتے ہیں اور محض ناموری کے سامان کے انتظار میں ان کی شادی نہیں کرتے۔ حتی کہ بعض لڑکیاں تیس تیس اور کہیں چالیس چالیس برس کی عمر کو پہنچ جاتی ہیں اور اندھے سر پرستوں کو کچھ نظر نہیں آتا کہ اس کا کیا انجام ہوگا۔ حدیثوں میں اس پر جو وعید آئی ہے کہ اگر اس صورت میں عورت سے کوئی لغزش ہوگئی تو وہ گناہ باپ پر بھی لکھا جاتا ہے یا جو (بھی باپ کے قائم مقام مثلاً بھائی) ذی اختیار ہو اس پر بھی لکھا جاتا ہے۔ اگر کسی کو اس وعید کا خوف نہ ہو تو دنیا کی آبرو کو تو دنیادار بھی ضروری سمجھتے ہیں سو اس میں اس کا بھی اندیشہ ہے، چنانچہ کہیں حمل گرائے گئے ہیں، کہیں لڑکیاں کسی کے ساتھ بھاگ گئی ہیں۔ اگر کسی شریف خاندان میں ایسا نہ ہو تب بھی وہ لڑکیاں ان سرپرستوں کو تو دل ہی دل میں کوستی ہیں اور چونکہ وہ مظلوم ہیں اس لیے ان کا کوسنا خالی نہیں جاتا۔ ان لوگوں کو یہ بھی شرم نہیں آتی کہ خود باوجود بوڑھے ہوجانے کے ایک بڑھیا کو جو اس لڑکی کی ماں ہے خلوت میں لے جاکر اس کے ساتھ عیش و عشرت کرتے ہیں اور جس غریب مظلوم کی عیش کا موسم ہے وہ پہرہ داروں کی طرح ماما (نوکرانی) کے ساتھ ان کے گھر کی چوکسی ( چوکیداری) کرتی ہے۔ کیسا بے ربط خبط ہے۔
نوٹ:- یہ ملفوظات ڈاکٹر فیصل صاحب (خلیفہ شیخ الحدیث حضرت مولانا عبدالمتین بن حسین شاہ صاحب دامت برکاتہم العالیہ) نے انتخاب فرمائے ہیں۔ اور انکو حضرت مولانا محمد زبیر صاحب (فاضل جامعہ دارالعلوم الاسلام لاہور 2023) نے تحریر فرمایا ہے ۔
یہ ملفوظات آپ ہماری ویب سائٹ
https://readngrow.online
پر بالکل مفت میں پڑھ سکتے ہیں ۔
براہ مہربانی یہ پوسٹ اپنے واٹس ایپ اور دیگر سوشل میڈیا پر شئیر کریں ۔

