لوگوں کو ترغیب دلا کر بیعت کے لیے لانے سے نفرت
بسلسلہ ملفوظات حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی نور اللہ مرقدہ
ارشاد فرمایا کہ اس بات سے مجھ کو سخت نفرت ہے کہ لوگوں کو گھیر گھیر کر لایا جائے ۔ ان کو ترغیب دے کر ، کرامتیں اور فضائل بیان کر کرکے معتقد بنایا جائے ،مجھ کو تو ایسی باتوں سے غیرت آتی ہے ۔ نتیجہ اس کا یہ ہوتا ہے کہ طالب مطلوب اور مطلوب طالب بن جاتا ہے ۔ بازاری عورتوں کا سا پیشہ کہ جیسے وہاں چھینا جھپٹی رہتی ہے ، وہ لوگوں کو پھنساتی رہتی ہیں اور خود وہ بھی شب و روز بناؤ سنگھار میں رہتی ہیں تاکہ لوگ پھنسیں ، بس یہی حالت آج کل بعض مشائخ کے یہاں ہو رہی ہے ۔ مجھ کو تو بحمد اللہ اس سے طبعی نفرت ہے ، میری تو کھلی ہوئی حالت ہے ۔ اگر کسی کو پسند ہو تو آؤ میرے پاس آ کر اللہ کا نام معلوم کرلو اور اگر پسند نہ ہو تو کہیں اور جاؤ۔ نہ میں کسی کی وجہ سے اپنا طرز اور مسلک بدل سکتا ہوں، نہ مروجہ اخلاق اختیار کر سکتا ہوں ، نہ غلامی اور چاپلوسی مجھ سے کسی کی ہو سکتی ہے ۔ ہاں خدمت کو تیار ہوں ، خادم ہوں مگر شرط یہ ہے کہ سلیقہ اور طریقہ سے خدمت لی جائے ۔ بے طریقہ اور بے ڈھنگے پن سے مجھ سے نہ کوئی خدمت لے سکتا ہے ، نہ میں خدمت کر سکتا ہوں۔ صاف صاف جو بات ہے ، ڈنکے کی چوٹ کہتا ہوں ۔خود بات صاف کرتا ہوں ،دوسروں سے بھی ایسی ہی صاف بات چاہتا ہوں ۔ پھر چاہے کوئی میرے پاس آئے خواہ نہ آئے۔(آداب ِ شیخ و مرید، صفحہ ۲۲۰)
حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ تعالیٰ کے یہ ملفوظات شیخ و مرید کے باہمی ربط اور آداب سے متعلق ہیں ۔ خود بھی پڑھیں اور دوستوں سے بھی شئیر کریں ۔
مزید ملفوظات پڑھنے کے لئے ہماری ویب سائٹ
https://readngrow.online
اپنے پاس محفوظ کرلیں ۔
اس طرح کے ملفوظات روزانہ اس واٹس ایپ چینل پر بھی بھیجے جاتے ہیں
https://whatsapp.com/channel/0029VaJtUph4yltKCrpkkV0r
چینل جوائن کریں

