قواعد فقہیہ اور اختلاف علماء

قواعد فقہیہ اور اختلاف علماء

فرمایا کہ بعض اوقات قواعد فقہیہ کسی خاص واقعہ میں متعارف ہو جاتے ہیں ایک عالم کی نظر ایک ضابطہ پر ہوتی ہے ۔ دوسرے کی نظر دوسرے ضابطے پر اس لئے اختلاف رائے پیدا ہونا ناگزیر ہو جاتا ہے ۔ سورۂ عبس میں جس واقعہ کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر عتاب آیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک غریب نابینا مسلمان کی طرف زیادہ توجہ دینے کے بجائے رئوسا ء مشرکین کی طرف زیادہ توجہ کیوں فرمائی۔ یہاں بھی یہی صورت پیش آئی کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیش نظر یہ قاعدہ تھا کہ اُصول دین کی تعلیم مقدم ہے۔ فروع کی تعلیم پر رئوسا مشرکین سے جو خطاب ہو رہا تھا وہ اُصول دین کی تعلیم کا تھا، نابینا صحابی جو کچھ بات کرتے وہ فروع دین کے متعلق ہوتی کیونکہ وہ مومن اور اصول دین کے پہلے سے پابند تھے ۔ اس لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو ان سے مقدم کردیا لیکن اس کے بالمقابل ایک دوسرا ضابطہ بھی تھا۔ جس پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اس وقت نظر نہ گئی وہ یہ کہ وہ کام مقدم رکھنا چاہئے جس کا نفع متوقع اور اس کے کامیاب ہونے کی امید زیادہ ہو بمقابلہ اس کام کے جس کا نفع موہوم اور کامیابی کی توقع کم ہو ۔ یہاں معاملہ ایسا ہی تھا کہ رئوسا ء مشرکین کے تعلیم اصول کا اثر موہوم تھا اور مسلمان کے لئے تعلیم فروع کا نفع یقینی اس لئے قرآن کریم نے اس کو ترجیح دینے کی ہدایت فرمائی اور عتاب اس پر ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس ضابطہ پر توجہ کیوں نہ فرمائی۔(ملفوظات حکیم الامت جلد نمبر ۲۴)

Most Viewed Posts

Latest Posts

تقلید کا دور کبھی ختم نہیں ہو سکتا

تقلید کا دور کبھی ختم نہیں ہو سکتا حکیم الاسلام حضرت مولانا قاری محمد طیب صاحب رحمہ اللہ فرماتے ہیں:۔۔’’اجتہاد فی الدین کا دور ختم ہو چکا توہو جائے مگر اس کی تقلید کا دور کبھی ختم نہیں ہو سکتا‘ تقلید ہر اجتہاد کی دوامی رہے گی خواہ وہ موجودہ ہو یا منقضی شدہ کیونکہ...

read more

طریق عمل

طریق عمل حقیقت یہ ہے کہ لوگ کام نہ کرنے کے لیے اس لچر اور لوچ عذر کو حیلہ بناتے ہیں ورنہ ہمیشہ اطباء میں اختلاف ہوتا ہے وکلاء کی رائے میں اختلاف ہوتا ہے مگر کوئی شخص علاج کرانا نہیں چھوڑتا مقدمہ لڑانے سے نہیں رکتا پھر کیا مصیبت ہے کہ دینی امور میں اختلاف علماء کو حیلہ...

read more

اہل علم کی بے ادبی کا وبال

اہل علم کی بے ادبی کا وبال مذکورہ بالا سطور سے جب یہ بات بخوبی واضح ہوگئی کہ اہل علم کا آپس میں اختلاف امر ناگزیر ہے پھر اہل علم کی شان میں بے ادبی اور گستاخی کرنا کتنی سخت محرومی کی بات ہے حالانکہ اتباع کا منصب یہ تھا کہ علمائے حق میں سے جس سے عقیدت ہو اور اس کا عالم...

read more