قرآن مجید کے ادب و احترام کی برکت
سلطنت عثمانیہ کا نام روشن کرنے والا ایک غریب شخص تھا جو ایک گائوں میں رہتا تھا ،مفلس تھا تنگ دست تھا ، مگر مسافروں کی خدمت کرنا اس کا شعار تھا ،مہمان نوازی اس کا کام تھا گھر میں کھانے کو نہ ہوتا تو بھی مہمان کی تواضع کرتا تھا ۔ گائوں والوں نے تنگ کرنا شروع کیا آخر اسے گھر سے باہر نکال دیا ۔ دنیا کا قاعدہ ہے جب کسی کو تکلیف پہنچتی ہے تو اسے خدا یاد آتا ہے چنانچہ عثمان بھی اپنے پیر صاحب کی طرف دوڑا اور پیر صاحب کی خدمت میںپہنچ کر عرض کیا یا حضرت !مجھے گائوں والوںنے گائوں سے باہر نکال دیا ہے میرے پاس کچھ نہیں ، اب میں کہاں جائوں ؟ پیر صاحب نے کمال شفقت سے اسے اپنے مکان کے اندر آنے کا حکم دیا ۔ اپنا کمرہ اس کے حوالے کر کے آپ اندر تشریف لے گئے ، عثمان تھکا ماندہ تو تھا ہی ،کمرے میں لیٹ گیا ، تھوڑی دیر بعد کیا دیکھتا ہے کہ جس طرف اس کے پائوں تھے اسی طرف قرآن مجید رکھا ہوا ہے ،عثمان تھا تو جاہل مگر ایمان کا مضبوط تھا ، سچا مسلمان تھا جب اس نے کلام مجید کو دیکھا تو کانپ گیا وہ اٹھ کر بیٹھ گیا ، قرآن مجید کے نزدیک جاکر ہاتھ باندھ کر کھڑا ہو گیا ۔ درگاہ ایزدی میںگڑگڑاتا اور توبہ استغفار کرتا رہا ۔ روتا تھا اور عرض کرتا تھا کہ ’’میر ے مولا!مجھ سے بے ادبی ہوئی ہے،اس مکان میں تیرا کلام پاک رکھا تھا اور میں پائوں پسارے پڑا رہا، مجھے معاف فرما اور میرا گناہ بخش دے ‘‘ رات بھر کھڑا روتا رہا ،پچھلے پہر حضرت پیر صاحب تشریف لائے ۔ آپ نے فرمایا ’’عثمان مبارک ہو !آج رات قرآن شریف نے بارگاہ ایزدی میں تیری سفارش کی ہے یہ سفارش منظور ہو گئی ، تیرے لیے حکم ہوا ہے کہ’’تو بادشاہ تیری اولاد بادشاہ ‘‘عثمان نے رو کر کہا حضرت گائوں والوں نے تو مجھے گھر تک سے جواب دے دیا ،گائوں سے باہر نکال دیا ،لیکن پیر صاحب نے فرمایا کہ ’’غم مت کر تو بادشاہ اور تیری اولاد بادشاہ ‘‘عثمان حیران تھا ، بار بار عرض کر تا تھااور یہی جواب پاتا تھا ۔
آخر پیرصاحب کی اجازت پا کر رخصت ہو ا،باہر نکلا ہی تھا کہ اسے بارہ سوار ملے انہوں نے اسے ایک گھوڑا دیا اور کہا کہ ہم آپ کے غلام ہیں آپ کا ہر حکم ماننے کو تیار ہیں عثمان ان سپاہیوں کو لے کر آگے بڑھا ۔ راستے میں ایک گائوں آیا ۔ عثمان نے اس گائوں کے سردار سے کہا کہ اطاعت قبول کرو یا میدان میں اترو اس نے کچھ روپیہ پیش کیا اور متابعت قبول کی ،عثمان کوچ کرتا جاتا اور روپیہ اور فوج جمع کرتا جاتا تھا ۔ اس زمانے میں روم کا بادشاہ عیسائی تھا جب اسے یہ معلوم ہوا کہ عثمان کے پاس روپیہ بھی ہے اور فوج بھی ۔ تو اسے فوج کا افسر بنا دیا ۔ آخر عثمان کمانڈر انچیف بن گیا اس بادشاہ کے اولاد نرینہ نہیں تھی اس کے مرنے کے بعد عثمان بادشاہ ہو ا سلطنت عثمانیہ اسی کی یادگار ہے قرآن کریم کا یہ معجزہ آج تک آل عثمان کو یاد ہے سلطان عبد الحمید خان غازی مرحوم و مغفور نے حکم دیا تھا کہ ایام جنگ میں ان کی تمام رعایا قرآن مجید کی تلاوت کیا کرے ۔ اسی قرآن مجید کے طفیل ترکوں کو یہ عزت نصیب ہوئی ہے۔ اسلامی مما لک میں پہلے قرآن شریف کا بڑا ادب واحترام کیا جاتا تھا لیکن اس زمانے میں یہ صفت محمودہ مفقود ہے۔
اگرآپ کو یہ واقعہ پسند آیا ہے تو اسکو شئیر ضرور کریں اور اس طرح کے دیگر اسلامی واقعات اور اولیاء اللہ کے حالات و تذکرے آپ ہمارے ویب سائٹ
https://readngrow.online
پر بالکل مفت میں پڑھ سکتے ہیں ۔
تمام اسلامی مواد اور دیگر کیٹگریز کو دیکھنے کے لئے یہ لنک وزٹ کریں
https://readngrow.online/readngrow-categories/
نیز ہم اس ویب سائٹ کی مفید چیزوں کو اس واٹس ایپ چینل پر بھی شئیر کرتے رہتے ہیں ۔
https://whatsapp.com/channel/0029VaviXiKHFxP7rGt5kU1H
یہ چینل فالو کرلیں ۔

