قاضی شُریح ؒ کامثالی نکاح

قاضی شُریح ؒ کامثالی نکاح

شعبی ؒ کہتے ہیں ایک دفعہ کوفہ کے قاضی شریح مجھے ملے اور کہنے لگے اے شعبی ! شادی کرنی ہو تو قبیلہ بنی تمیم کی عورت سے کرو ، کیونکہ بنی تمیم کی عورتیں بہت عقلمند ہیں ۔ میں نے پوچھا : آپ نے ان میں کیا عقل دیکھی ہے ؟ کہنے لگے میں دوپہرکے وقت ایک جنازے سے واپس آ رہا تھا جب میں بنی تمیم کے گھروں کے قریب سے گزرا تو میں نے ایک گھر کے دروازے پر ایک بوڑھیا دیکھی جس کے پہلو میں ایک لڑکی کھڑی تھی میں اس بوڑھیا کی طرف گیا اور اس سے پانی مانگا ، لڑکی کہنے لگی آپ کو کونسا مشروب پسند ہے ؟ میں نے کہا جو مل جائے وہی پسند ہے بوڑھیا نے لڑکی کو ڈانٹا اور کہا ! دودھ لے آ ! کیونکہ یہ آدمی مجھے مسافر لگتا ہے لڑکی دودھ لینے چلی گئی تو میں نے بوڑھیا سے پوچھا یہ لڑکی آپ کی کیا لگتی ہے ؟ بوڑھیا نے بتایا یہ جریر کی بیٹی زینب ہے میں نے پوچھا اس کا نکاح ہو چکا ہے یا ابھی فارغ ہے کہنے لگی نہیں ابھی فارغ ہے میں نے کہا کیا آپ مجھ سے اس کا نکاح کریں گی ؟ بوڑھیانے کہا اگر تم ہمارے ہم پلہ ہوئے تو کر دیں گے ۔
میں نے اس بوڑھیا کو وہیں چھوڑا اور اپنے گھر کی طرف چل پڑا تاکہ مشورہ کروں جب میں نے ظہر کی نماز پڑھی تو میں نے اپنے چند معزز دوست یعنی علقمہ ، اسود اور مسیب کو ساتھ لیا اور اس لڑکی کے چچا کے پاس چل دئیے اس کے پاس پہنچے اس نے ہمارا خیر مقدم کیا پوچھا اے ابو امیہ کیسے تکلیف کی ؟ میںنے کہا آپ کی بھتیجی زینب کیلئے نکاح کا پیغام لے کر آیا ہوں اس نے جواب دیا کہ آپ سے اس کا نکاح کرنے میں کوئی رکاوٹ نہیں ہے القصہ یہ کہ اس لڑکی سے میرا نکاح ہو گیا ۔
جب میرا نکاح ہو چکا تو مجھے ندامت ہوئی اور میں نے سوچا کہ بنی تمیم کی عورتوں میں کون سی خوبی ہے ؟ یہ تو بہت سخت دل ہوتی ہیں چنانچہ میں نے دل میں فیصلہ کر لیا کہ اس کو طلاق دے دیتا ہوں پھر خیال آیا کہ نہیں ایسا کرنا غلط ہے رخصتی کے بعد دیکھ لیں گے اگر اس میں کوئی ایسی بات نہ ہوئی تو ٹھیک ورنہ پھر طلاق دے دوں گا ۔
جب رخصتی ہوئی تو بنی تمیم کی عورتیں بڑی سادگی کے ساتھ اسے میرے گھر پہنچا گئیں میں اس کے پاس گیا تو مجھے خیال آیا سنت طریقہ یہ ہے کہ آدمی جب پہلی دفعہ بیوی کے پاس جائے تو دو رکعت نفل پڑھے اور اللہ سے نئی بیوی کی خیر کی دعاکرے اس کے شر سے پناہ مانگے چنانچہ میں وضو کرنے لگا دیکھا تو وہ بھی وضو کر رہی ہے پھر میں نے نماز پڑھی تو اس نے بھی نماز پڑھی جب میں نماز پڑھ چکا تو اس کی سہیلیاں آئیں اور مجھے زعفران سے رنگا ہوا ایک کپڑا اوڑھایا جب سب چلے گئے تو میں اس کے قریب گیا میں نے اس کی پیشانی کی طرف ہاتھ بڑھایا تو اس نے کہا ابو امیہ ٹھہرو! پھر وہ کہنے لگی :’’میں اللہ تعالیٰ کی تعریف کرتی ہوں اور اسی سے معاونت کی خواستگار ہوں اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی آل پر درود بھیجتی ہوں اس کے بعد بات یہ ہے کہ میں اجنبی عورت ہوں مجھے آپ کے اخلاق و عادات کا کوئی علم نہیں ہے لہذٰا آپ اپنی پسند مجھے بتا دیں تاکہ میں اس پر عمل کروں اور ناپسند بھی بتلا دیں تاکہ میں اس سے پرہیز رکھوں ، یقینا آپ کیلئے بھی اپنے قبیلہ میںنکاح کے مواقع موجود تھے اور میرے لئے بھی اپنے قبیلہ میں نکاح کے مواقع موجود تھے لیکن اللہ تعالیٰ جب کسی کام کا فیصلہ کرتے ہیں تو ہو کر ہی رہتا ہے بہر حال اب آپ میرے مالک ہو گئے ہیں لہٰذا اب میرے ساتھ وہی معاملہ کریں جس کا آپ کو اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے یا تو اچھے طریقے سے مجھے اپنے پاس رکھیں یا حسن سلوک کے ساتھ چھوڑ دیں بس میں اپنی یہ بات کہہ کر اپنے لئے اور تمام مسلمانوں کیلئے اللہ عظیم سے بخشش کی دعا کرتی ہوں ‘‘۔
پھر میں نے اس سے کہا :میں بھی اللہ ہی کی حمد بیان کرتا ہوں اور اسی سے مدد چاہتا ہوں اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کی اولاد پر درود بھیجتا ہوں اور اس کے بعد یہ کہ آپ نے ایسی بات کہی ہے کہ اگر آپ اس پر قائم رہیں تو یہ میرے لئے بڑی خوشدلی ہو گی اور اگر آپ نے اس کو چھوڑ دیا تو آپ کا یہی کام آپ کے خلاف دلیل ہو گا بہر حال میں فلاں فلاں چیز کو پسند کرتا ہوں اور فلاں کو نا پسند کرتا ہوں پس آپ میری طرف سے کوئی بھلائی دیکھیں تو اسے پھیلائیں ـ۔۔۔۔۔ اور اگر کوئی برائی دیکھیں تو اس کی پردہ پوشی کرنا پھر وہ پوچھنے لگی میرے گھر والوں کی ملاقات کے بارے میں آپ کی پسند کیا ہو گی ؟ میں نے کہا: بس میں یہ چاہتا ہوں کہ میرے سسرال والے مجھے کوفت میں نہ ڈال دیں پھر میں نے پوچھا کہ آپ کے کون سے ہمسائے ایسے ہیں جن کا اپنے گھر آنا آپ پسند کرتے ہیں تاکہ میںان کو آنے دوں اور کون سے ایسے ہیں جن کا آنا آپ کو پسند نہیں تاکہ میں بھی ان کو ناپسند ہی رکھوںمیں نے کہا :فلاں قبیلہ والے صالح ہیں اور فلاں اچھے نہیں ۔
پس شعبی ! وہ رات میں نے اس کے ساتھ گزاری گویا وہ رات میری زندگی کی خوشگوار ترین رات تھی اور پھر ایک سال گزر گیا میں نے اپنی پسند کے خلاف اس کا کوئی عمل نہیں دیکھا جب سال گزرنے والا تھا ایک دن میں عدالت سے اٹھ کر گھر آیا کہ اس کے پاس ایک بوڑھیا بیٹھی ہے جو اس کو کچھ سمجھا رہی ہے میں نے پوچھا یہ کون ہے تو اس نے بتایا یہ آپکی ساس ہے میں نے اس کا خیر مقدم کیا جب میں بیٹھا تو بوڑھیا نے مجھے سلام کیا اور میں نے وعلیکم السلام کہا پھر اس نے مجھ سے پوچھا : آپ نے اپنی بیوی کو کیسا پایا ؟ میں نے کہا بہت ہی اچھی بیوی ہے اور بہت ہی خیر خواہ رفیقہ ہے آپ نے اس کی بہترین تربیت کی ہے اللہ تعالیٰ آپ کو جزائے خیر عطا کرے ۔ اس کے بعد اس نے مجھے نصیحتیں کیں پھر پوچھا آپ کیا پسند کرتے ہیں کہ آپ کے سسرال کب ملنے آیا کریں میں نے کہا جیسے وہ چاہیں صحیح ہے ۔ پھر وہ ہر سال کے اختتام پر آتی تھی اور مجھے نصیحتیں کرتی تھی ۔ اے شعبی : وہ بیوی میرے ساتھ بیس سال رہی میں نے کبھی اس میں کوئی قابل اعتراض چیز نہیں دیکھی ۔
یہ واقعہ :۔ہمارے لئے اپنے اندر کئی سارے سبق لئے ہوئے ہے سب سے پہلی بات یہ ہے کہ اسلام کے دور اول میں نکاح کس طرح سادگی اور آسانی سے ہوتے تھے اور آج ہمارے معاشرے میں نکاح کتنی پیچیدگیوں سے ہوتے ہیں اور نہ معلوم پھر کیاکیا پریشانیاں اور کوفتیں پیش آتی ہیں ۔
دوسری بات یہ کہ نکاح کے بعد طلاق اگرچہ اچھا عمل نہیں ہے مگر میاں بیوی میںمناسبت نہ ہو اور گزارہ ہوتا نظر نہ آتا ہو تو پھر اس میں کوئی عیب یا عار نہیں ہے نہ مرد کیلئے نہ عورت کیلئے ہاں یہ ضروری ہے کہ قرآن کریم کی تعلیم کے مطابق عمل کرے ، کہ رکھے تو اچھے طریقے سے رکھے اور طلاق دے تو بھی اچھے طریقے سے ۔ہمارے ہاں بد قسمتی سے یہ فضاء ہے کہ اگر خدا نخواستہ میاں بیوی میں نہیں بنتی تو تب بھی ایک دوسرے کو گھسیٹیںگے اور مرد حضرات تو بعض دفعہ بہت زیادتی کرتے ہیں نہ اچھی طرح سے رکھتے ہیں نہ طلاق دیتے ہیں یہ بہت بڑا ظلم ہے ۔تیسری بات یہ کہ بیٹی کی شادی کرنے کے بعد ہمارے ہاں بچی کے والدین کا رویہ نا مناسب ہوتا ہے خواہ مخواہ بیٹی اور داماد کے معالات میں مداخلت کی جاتی ہے اور چھوٹی چھوٹی بات پر بیٹی کو گھر بیٹھا دیتے ہیںاس کی وجہ سے بہت زیادہ نقصان ہوتے ہیں کئی سارے واقعات پیش آ چکے ہیں کہ قتل و خونریزی ہوئی اور اس طرح دو خاندان بربادی کے گڑھے میں جا گڑے۔اس رویہ اور طریقہ کار کا اسلام میں کوئی تصور نہیں ہے یہ جاہلانہ اور ہندوانہ ذہنیت ہے مسلمان گھرانوں میں ان چیزوں کی قطعاً گنجائش نہیں ہے ۔ بیٹی اور داماد کے ساتھ خیر خواہانہ اور صلح پسندی کا رویہ رکھیں اور پھر اس کے فائدے دیکھیں ۔( شمارہ نمبر34)

اگرآپ کو یہ واقعہ پسند آیا ہے تو اسکو شئیر ضرور کریں اور اس طرح کے دیگر اسلامی واقعات اور اولیاء اللہ کے حالات و تذکرے آپ ہمارے ویب سائٹ
https://readngrow.online
پر بالکل مفت میں پڑھ سکتے ہیں ۔
تمام اسلامی مواد اور دیگر کیٹگریز کو دیکھنے کے لئے یہ لنک وزٹ کریں
https://readngrow.online/readngrow-categories/
نیز ہم اس ویب سائٹ کی مفید چیزوں کو اس واٹس ایپ چینل پر بھی شئیر کرتے رہتے ہیں ۔
https://whatsapp.com/channel/0029VaviXiKHFxP7rGt5kU1H
یہ چینل فالو کرلیں ۔

Most Viewed Posts

Latest Posts

ایک گنہگار کو توبہ کی توفیق

ایک گنہگار کو توبہ کی توفیق ایک واقعہ سنئے! سیدنا موسیٰ علیہ السلام کے زمانے میں ایک نوجوان کو گناہ کی عادت تھی۔ لوگوں نے بات موسیٰ علیہ السلام تک پہنچائی، حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اس کو بلا کر سمجھایا۔ وہ پھر بھی مرتکب ہو گیا، پھر سمجھایا، پھر مرتکب ہو گیا۔ حضرت...

read more

خواب ہدایت کا ذریعہ بنا

خواب ہدایت کا ذریعہ بنا ہم ایک دفعہ رشیا گئے ، ماسکو میں ایک نوجوان ملا، اس سے بات ہوئی تو اس نے کہا کہ کلمہ پڑھایئے، ہم نے کلمہ پڑھا دیا اور وہ مسلمان بن گیا۔ اس نے کہا کہ میں بائیس گھنٹے کی مسافت سے آیا ہوں، ہمارا ایک کلب ہے ’’ پریذیڈنٹ کلب‘‘ جس میں پینتالیس مرد...

read more

ایک گنہگار کو توبہ کی توفیق

ایک گنہگار کو توبہ کی توفیق ایک واقعہ سنئے! سیدنا موسیٰ علیہ السلام کے زمانے میں ایک نوجوان کو گناہ کی عادت تھی۔ لوگوں نے بات موسیٰ علیہ السلام تک پہنچائی، حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اس کو بلا کر سمجھایا۔ وہ پھر بھی مرتکب ہو گیا، پھر سمجھایا، پھر مرتکب ہو گیا۔ حضرت...

read more