قاری محمد طیب رحمۃ اللہ علیہ کی تواضع

قاری محمد طیب رحمۃ اللہ علیہ کی تواضع

حضرت قاری محمد طیب رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے بہت جلدی مدرسے کا مہتمم بنا دیا۔ جوانی کی عمر تھی ویسے بھی بڑی خوبصورت شخصیت تھے۔ اتنا پر انوار چہرہ تھا کہ بندہ ان کو دیکھ کر متاثر ہوئے بغیر نہیں رہتا تھا۔ اور طبیعت میں نفاست بھی بہت تھی۔ بیٹھنے اٹھنے پہننے میں ایک نزاکت تھی۔ اتنا پر انوار چہرہ تھا کہ ہمارے حضرت خود فرماتے ہیں کہ میری ان سے پہلی ملاقات حرم میں ہوئی۔ جب میںنے انہیں دیکھا تو دیکھ کے حیران ہوا اور میں نے ان سے پوچھا کہ آپ نے اتنا پر نور چہرہ کیسے بنایا؟ حضرت قاری صاحب نے جواب دیا کہ میں نے یہ نہیں بنایا میرے شیخ نے بنایا ہے۔
ہمارے جیسا کوئی ہوتا تو اپنی تعریف میں پتہ نہیں آگے سے کیا دنیا آسمان کے قلابے ملا دیتا۔ تواضع یہ چیز ہے کہ یہ چہرہ میں نے نہیں بنایا میرے شیخ نے بنایاہے۔ (ج ۲۹ ص ۱۳۷)

اگرآپ کو یہ واقعہ پسند آیا ہے تو اسکو شئیر ضرور کریں اور اس طرح کے دیگر اسلامی واقعات اور اولیاء اللہ کے حالات و تذکرے آپ ہمارے ویب سائٹ
https://readngrow.online
پر بالکل مفت میں پڑھ سکتے ہیں ۔
تمام اسلامی مواد اور دیگر کیٹگریز کو دیکھنے کے لئے یہ لنک وزٹ کریں
https://readngrow.online/readngrow-categories/
نیز ہم اس ویب سائٹ کی مفید چیزوں کو اس واٹس ایپ چینل پر بھی شئیر کرتے رہتے ہیں ۔
https://whatsapp.com/channel/0029VaviXiKHFxP7rGt5kU1H
یہ چینل فالو کرلیں ۔

Most Viewed Posts

Latest Posts

ایک گنہگار کو توبہ کی توفیق

ایک گنہگار کو توبہ کی توفیق ایک واقعہ سنئے! سیدنا موسیٰ علیہ السلام کے زمانے میں ایک نوجوان کو گناہ کی عادت تھی۔ لوگوں نے بات موسیٰ علیہ السلام تک پہنچائی، حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اس کو بلا کر سمجھایا۔ وہ پھر بھی مرتکب ہو گیا، پھر سمجھایا، پھر مرتکب ہو گیا۔ حضرت...

read more

خواب ہدایت کا ذریعہ بنا

خواب ہدایت کا ذریعہ بنا ہم ایک دفعہ رشیا گئے ، ماسکو میں ایک نوجوان ملا، اس سے بات ہوئی تو اس نے کہا کہ کلمہ پڑھایئے، ہم نے کلمہ پڑھا دیا اور وہ مسلمان بن گیا۔ اس نے کہا کہ میں بائیس گھنٹے کی مسافت سے آیا ہوں، ہمارا ایک کلب ہے ’’ پریذیڈنٹ کلب‘‘ جس میں پینتالیس مرد...

read more

ایک گنہگار کو توبہ کی توفیق

ایک گنہگار کو توبہ کی توفیق ایک واقعہ سنئے! سیدنا موسیٰ علیہ السلام کے زمانے میں ایک نوجوان کو گناہ کی عادت تھی۔ لوگوں نے بات موسیٰ علیہ السلام تک پہنچائی، حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اس کو بلا کر سمجھایا۔ وہ پھر بھی مرتکب ہو گیا، پھر سمجھایا، پھر مرتکب ہو گیا۔ حضرت...

read more