فکری لحاظ سے بھی پاکستان کا دفاع ضروری ہے (96)۔

فکری لحاظ سے بھی پاکستان کا دفاع ضروری ہے (96)۔

پاکستان، ہمارا پیارا وطن، وہ عظیم نعمت ہے جو لاکھوں لوگوں کی بے مثال قربانیوں، جدوجہد اور دعاؤں کا نتیجہ ہے۔ جب کوئی کہتا ہے کہ “پاکستان بننا ہی نہیں چاہیے تھا” تو یہ جملہ میرے جذبات کو مجروح کردیتا ہے۔
اس طرح کی باتیں سن کر دل میں بہت تکلیف ہوتی ہے، کیونکہ یہ وہی پاکستان ہے جس کے لیے ہمارے آباؤ اجداد نے اپنا سب کچھ قربان کیا۔ ان لوگوں نے اپنے گھر، زمینیں، جائیدادیں، اور حتیٰ کہ اپنی جانیں دے دیں تاکہ ہم ایک آزاد وطن میں اپنی زندگی بسر کر سکیں۔
اگر ہم سنجیدگی سے سوچیں تو کیا ہم اپنے بزرگوں کی قربانیوں کا یہی صلہ دینا چاہتے ہیں؟ کیا یہ درست ہے کہ ہم ان کی محنت اور قربانی کو ناشکری اور مایوسی کے چند الفاظ میں ضائع کر دیں؟ ہرگز نہیں۔۔!۔
پاکستان… اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک عظیم نعمت ہے، اور اس کی قدر کرنا ہم پر فرض ہے۔ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فرمان اقدس کا مفہوم ہے کہ جو شخص انسانوں کا شکر گزار نہیں، وہ اللہ کا شکر بھی نہیں ادا کرتا۔ (یعنی آباؤاجداد کی قربانیوں کا شکریہ یہ ہے کہ ہم اس وطن عزیز کی قدر کریں) ۔
ہمیں یہ بات سمجھنی چاہیے کہ ہر ملک وقوم کے اپنے مسائل ہوتے ہیں۔ دنیا کا کوئی بھی ملک ایسا نہیں جس میں مشکلات نہ ہوں یا جسے مسائل کا سامنا نہ ہو۔ فرق صرف یہ ہے کہ کچھ قومیں مشکلات کا مقابلہ کرنے کے لیے ہمت اور صبر کا مظاہرہ کرتی ہیں، اور کچھ مایوسی کا شکار ہو جاتی ہیں۔ پاکستان بھی انہی مشکلات میں سے گزر رہا ہے، لیکن اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ ہم مایوس ہو جائیں یا اپنے وطن کے وجود پر سوال اٹھائیں۔
چھ ستمبر یوم دفاع پاکستان ہمیں یاد دلاتا ہے کہ یہ وہی ملک ہے جس کے دفاع کے لیے ہمارے فوجیوں نے اپنی جانیں قربان کیں، اور اللہ کے فضل و کرم سے دشمن کو شکست فاش دی۔ اس دن کو مناتے ہوئے ہمیں اپنے دل میں یہ عہد کرنا چاہیے کہ ہم پاکستان کے خلاف ہونے والی ہر منفی بات کا پیار سے، حکمت سے اور دلیل کے ساتھ جواب دیں گے۔ پاکستان کی بقا اور ترقی کے لیے ہمیں نہ صرف اس کی حدود کے دفاع کے لیے تیار رہنا چاہیے بلکہ ذہنی اور فکری لحاظ سے بھی اس کا دفاع کرنا ہماری ذمہ داری ہے۔
یہ ضروری ہے کہ ہم ایک دوسرے کو پیار اور حکمت کے ساتھ سمجھائیں کہ مایوسی اور ناشکری سے کچھ حاصل نہیں ہوتا۔ ہمیں اپنے وطن کے مسائل کو سمجھنا، ان کے حل کے لیے دعا کرنا، اور عملی طور پر کوشش کرنی چاہیے۔
پاکستان کے مسائل کا حل ناامیدی میں نہیں بلکہ اجتماعی کوشش اور اللہ تعالیٰ پر بھروسے میں ہے۔
آئیے!ہم سب مل کر پاکستان کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کے لیے اپنی سوچ کو مثبت بنائیں، اور اپنے اعمال سے ثابت کریں کہ ہم اس ملک کی محبت میں سرشار ہیں۔ الله تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمارے وطن کو ہمیشہ قائم رکھے اور ہمیں اس کی خدمت کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
پاکستان زندہ باد!۔

نوٹ : یہ ’’آج کی بات‘‘ ایک بہت ہی مفید سلسلہ ہے جس میں حذیفہ محمد اسحاق کی طرف سے مشاھدات،خیالات اور تجربات پر مبنی ایک تحریر ہوتی ہے ۔ یہ تحریر ہماری ویب سائٹ
Visit https://readngrow.online/ for FREE Knowledge and Islamic spiritual development.
پر مستقل شائع ہوتی ہے ۔ ہر تحریر کے عنوان کے آگے ایک نمبر نمایاں ہوتا ہے ۔ جس اسکی قسط کو ظاہر کرتا ہے کہ یہ کون سی قسط ہے ۔ پچھلی قسطیں بھی ہماری ویب سائٹ پر دستیاب ہیں ۔ اگر کوئی پیغام یا نصیحت یا تحریر آپکو پسند آتی ہے تو شئیر ضرور کریں ۔ شکریہ ۔
مزید اپڈیٹس کے لئے ہمارے واٹس ایپ چینل کو ضرور فالو کریں
https://whatsapp.com/channel/0029Vb0Aaif4o7qSPFms4g1M

Most Viewed Posts

Latest Posts

ظاہری حال سے شیطان دھوکا نہ دے پائے (326)۔

ظاہری حال سے شیطان دھوکا نہ دے پائے (326) دوکلرک ایک ہی دفتر میں کام کیا کرتے تھے ایک بہت زیادہ لالچی اور پیسوں کا پجاری تھا۔ غلط کام کا کوئی بھی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتاتھا۔ جہاں کہیں خیانت اور بددیانتی کا موقع ہوتا تو بڑی صفائی سے اُسکا صاف ستھرا...

read more

استاذ اور شاگرد کے درمیان تعلق مضبوط کیسے ہوگا؟ (325)۔

استاذ اور شاگرد کے درمیان تعلق مضبوط کیسے ہوگا؟ (325)۔ مدرسہ استاذ اور شاگرد کے تعلق کانام ہے۔جہاں پر کوئی استاذ بیٹھ گیا اور اس کے گرد چند طلبہ جمع ہوگئے تو وہ اک مدرسہ بن گیا۔مدرسہ کا اصلی جوہر کسی شاندار عمارت یا پرکشش بلڈنگ میں نہیں، بلکہ طالبعلم اور استاد کے...

read more

خلیفہ مجاز بھی حدودوقیود کے پابند ہوتے ہیں (324)۔

خلیفہ مجاز بھی حدودوقیود کے پابند ہوتے ہیں (324)۔ خانقاہی نظام میں خلافت دینا ایک اصطلاح ہے۔ جس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ صاحب نسبت بزرگ اپنے معتمد کو نسبت جاری کردیتے ہیں کہ میرے پاس جتنے بھی بزرگوں سے خلافت اور اجازت ہے وہ میں تمہیں دیتا ہوں ۔یہ ایک بہت ہی عام اور مشہور...

read more