فرقۂ ناجیہ اہل سنت والجماعت
اس لئے اُمت میں صرف وہی ایک فرقہ اس حدیث کی رو سے حق پر ہوسکتا ہے جو ہر نہج سے صحابہ کرام رضی اﷲ عنہم کی توثیق و تصدیق اور تصویب و تنزیہ کے جذبات اپنے اندر لئے ہوئے ہو اور کوئی شبہ نہیں کہ وہ مطیع طبقہ یا ’’ذہنی غلامی‘‘ کا پیکر طبقہ صرف اہل سنت والجماعت کا ہے جن کا مذہب ہی یہ ہے کہ صحابہ رضی اﷲ عنہم اجمعین سب کے سب بلا استثناء مطلقاً عدول اور پاکباز ہیں۔ ان کے ہر فعل کا منشا ٰپاک ، نیتیں راست اور ارادے سچے تھے۔ وہ جھگڑتے بھی تھے تو ان کے جھگڑے میں شر نہ ہوتا تھا۔ ان کا اختلاف بھی ہماری آشتی سے خوش آئند تر تھا۔
ان سب ونفوس امارہ نہیں بلکہ مطمٔنہ تھے ان کے قلوب تقویٰ اور تقدس کا محور تھے۔ جن کا امتحان اﷲتعالیٰ نے کر لیا تھا ان کا آدھ پاؤ صدقہ بھی ہمارے پہاڑ جیسے صدقہ سے افضل تھا۔ وہ تصنع اور بناوٹ سے بری تھے۔ ان کا علم گہرا اور نکھرا ہوا تھا۔ ان کے مقاماتِ توحید و اخلاص سے پوری اُمت کے توحید و اخلاص کو کوئی نسبت نہیں۔ اور بقول حسن بصری رحمۃاﷲ علیہ امیر معاویہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کے گھوڑے کی ناک کے اوپر کا غبار عمر بن عبدالعزیز رحمہ اﷲ سے ہزار درجے افضل تھا۔ کیونکہ امیر معاویہ رضی اﷲ عنہ صحابی تھے اور عمر بن عبدالعزیز رحمہ اﷲ تابعی ۔ (روح المعانی وغیرہ ، وغیرہ)
