غیر ضروری مسائل عوام کے سامنے لانے کے نقصانات
کہتے ہیں کہ ایک منظم سازش کے تحت ایک بہت بڑا عیسائی رئیس ایک مولانا کی خدمت میں حاضر ہوا اور ان کی خدمت میں کچھ اشرفیاں ہدیہ کے طور پر پیش کیں اور اس کے بعد مولانا کے تبحر علمی اور دینی خدمات کی تعریف کی، بہرحال ان سے دوستی لگائی، اس کے بعد کہنے لگا کہ حضرت ایک اہم مسئلہ ہے جس کو آج تک کوئی عالم دین حل نہیں کر سکا، میں سمجھتا ہوں کہ آپ اس مسئلے کا حل نکال سکتے ہیں۔۔۔۔ مسئلہ یہ ہے کہ اصحاب کہف کے کتے کا رنگ کیا تھا؟
اب ظاہر ہے کہ مولانا کے تبحر علمی کی بے انتہا تعریف ہو چکی تھی، انہوں نے اٹکل سے کہہ دیاکہ جناب اصحابِ کہف کے کتے کا رنگ سفید تھا، عیسائی رئیس نے خوب داد دی کہ حضرت آپ نے تو ایسا مسئلہ حل کر دیا جو آج تک بڑے سے بڑا عالم دین بھی حل نہیں کر سکا تھا۔۔۔۔ پھر ان سے گزارش کی کہ حضرت بہت سارے مسلمان اس مسئلے سے ناواقف ہیں اور ناواقفیت ہی کی حالت میں وہ مر رہے ہیں ازراہ کرم اگلے جمعہ کو یہ مسئلہ ذرا کھول کر بیان فرما دیں۔۔۔۔ حضرت نے فوراً وعدہ کر لیا اور کہا کہ ہمارا کام ہی حق بات کو بیان کرنا ہے۔۔۔۔
اس کے بعد وہ ایک دوسرے مشہور عالم کی خدمت میں حاضر ہوا ان کو بھی ہدیہ پیش کیا اور ان کی وسعت علمی اور دینی خدمات کی تعریف میں زمین و آسمان کے قلابے ملا دئیے، ان پر بھی اپنی دوستی کا سکہ بٹھا دیا، پھر ان سے بھی مؤدبانہ دریافت کیا کہ حضرت! اصحابِ کہف کے کتے کا رنگ کیا تھا؟
انہوں نے اٹکل سے کہہ دیا کہ اس کا رنگ کالا تھا، عیسائی رئیس نے ان سے بھی مؤدبانہ گزارش کی جمعہ کے بیان میں اس اہم مسئلہ کی وضاحت فرما دیں تاکہ جاہلوں کے علم میں اضافہ ہو۔۔۔۔مولوی صاحب نے اس کو تسلی دلائی کہ جناب آپ مطمئن رہیں، میں اپنے خطبات جمعہ میں اس مسئلہ کے ہر گوشے کو واضح کر وں گا۔۔۔۔
چنانچہ اپنے اپنے خطبات جمعہ میں دونوں علمائے کرام نے اس فضول مسئلے کو اپنے من گھڑت دلائل سے خوب واضح کیا، نماز جمعہ سے فارغ ہو کر دونوں علامہ صاحبان کے مقتدی جب ایک چوک میں اکٹھے ہوئے تو ایک گروہ نے کہا کہ ہمارے حضرت نے آج ایک ایسا مسئلہ حل کر دیا، جسے اتنی صدیاں گزرنے کے باوجود کوئی عالم حل نہیں کر سکا تھا، وہ یہ کہ اصحاب کہف کے کتے کا رنگ کالا تھا۔۔۔۔ دوسرا گروہ کہنے لگا کہ نہیں اس کا رنگ تو سفید تھا، بات بڑھتے بڑھتے گالم گلوچ تک جا پہنچی، پھر مناظرے ہونے لگے، دونوں فریقوں نے ایک دوسرے پر فتوے لگانے شروع کر دئیے کہ جو شخص اصحاب کہف کے کتے کو کالا کہے گا اس کے پیچھے نماز نہیں ہو گی، ادھر سے جواب آیا کہ جو اس کتے کو سفید کہے گا اس کے پیچھے نماز نہیں ہو گی۔۔۔۔
یہ واقعہ محض ایک مثال ہے ورنہ حقیقت یہ ہے کہ جن مسائل نے مسلمانوں کو الجھا رکھا تھا، وہ اسی قسم کے تھے اور انہیں مسائل میں الجھنے اور ٹکرانے کی وجہ سے مسلمانوں کی قوت کمزور ہو گئی تھی اور کفار کو غالب آنے کا موقع مل گیا تھا۔۔۔۔
رہا اندلس، جہاں اذانوں کی آوازیں بلند ہوتی تھیں، اب وہاں قصرِ حمرا پر صلیب بلند ہو رہی ہے۔۔۔۔توحید کے پرستار افسردہ تھے اور تثلیث کے پجاری شاداں و فرحاں تھے، آٹھ سو سال تک پورے کروفر (شان و شوکت) کے ساتھ حکومت کرنے والے ہزاروں مسلمانوں کو زندہ جلا دیا گیا۔۔۔۔
عام حکم جاری کر دیا گیاکہ ہر مسلمان عیسائی بن جائے ورنہ اس کو جہاں کہیں پایا گیا قتل کر دیا جائے گا۔۔۔۔نوبت یہاں تک پہنچ گئی کہ اللہ واحد کا نام لینے والے پہاڑوں اور جنگلوں میں پناہ لینے پر مجبور ہو گئے۔۔۔۔جو مسلمان اللہ سے زیادہ کسی کو طاقت ور نہیں سمجھتے تھے، آج ان ہی کا سربراہ ابو عبداللہ عیسائی بادشاہ کے سامنے جھک کر شہر کی کنجیاں پیش کر رہا تھا اور کہہ رہا تھا ’’اے طاقت ور بادشاہ! اب ہم تیری رعایا ہیں۔۔۔۔ یہ شہر اور تمام ملک ہم تیرے سپرد کرتے ہیں، کیونکہ اللہ تبارک وتعالیٰ کی یہی مرضی تھی ہمارے آپس کے اختلافات نے ہم سے نصرتِ الٰہی کو دور کر دیا۔۔۔۔‘‘۔
جس اندلس کو طارق بن زیاد نے تھوڑے سے لشکر کے ساتھ اجنبی ہونے کے باوجود فتح کیا تھا، اس اندلس کو ہزاروں مسلمان بے پناہ و سائل کے باوجود نہ بچا سکے۔۔۔۔ آخر ایسا کیوں ہوا؟صرف اور صرف ایمان کی کمزوری (مسلمانوں کے ذمہ جو دین پھیلانے کا کام تھا، اس کو چھوڑ دیا گیا) اور آپس کی نا اتفاقی کی وجہ سے، عیسائی متحد تھے اور مسلمان ٹکڑیوں میں بٹے ہوئے تھے، عمال نے مرکز سے بغاوت کر کے اپنی چھوٹی چھوٹی ننھی منی خود مختار حکومتیں قائم کی ہوئی تھیں۔۔۔۔
