غیرت ایمانی
اختر شیرانی اردو کے مشہور شاعر گزرے ہیں لاہور کے عرب ہوٹل میں ایک دفعہ کمیونسٹ نوجوان نے جو بلا کے ذہین تھے اختر شیرانی سے مختلف موضوعات پر بحث چھیڑ دی اس وقت ہوش قائم نہ تھے تمام بدن پر رعشہ طاری تھا۔ حتیٰ کہ الفاظ بھی ٹوٹ ٹوٹ کر زبان سے نکل رہے تھے ‘ ادھر ’’انا‘‘ کا شروع سے یہ حال تھا کہ اپنے سوا کسی کو نہیں مانتے تھے جانے کیا سوال زیر بحث تھا‘ فرمایا ’’مسلمانوں میں تین شخص اب تک ایسے پیدا ہوئے جو ہر اعتبار سے جینیس بھی ہیں اور کامل الفن بھی‘ پہلے ابوالفضل ‘ دوسرے اسداللہ خان غالب‘ تیسرے ابوالکلام آزاد…‘‘ شاعر وہ تو شاذ ہی کسی کو مانتے تھے ہمعصر شعراء میں جو واقعی شاعر تھا اسے بھی اپنے سے کمتر خیال کرتے تھے کمیونسٹ نوجوان نے ’’فیض‘‘ کے بارے میں سوال کیا ‘ طرح دے گئے ’’جوش‘‘ کے متعلق پوچھا کہا وہ ناظم ہے ‘ ’’سردار جعفری ‘‘ کا نام لیا ‘ مسکرائے‘ ’’فرمایا‘ مشق کرنے دو ۔ ’’ظہیر کاشمیری‘‘ کے بارے میں کہا نام سنا ہے احمد ندیم قاسمی؟ فرمایا میرا شاگرد ہے …‘‘ نوجوان نے دیکھا کہ ترقی پسند تحریک ہی کے منکر ہیںتو بحث کا رخ پھیر دیا۔ ’’حضرت ! فلاں پیغمبر کے بارے میں کیا خیال ہے ؟‘‘ آنکھیں سرخ ہو رہی تھیں نشہ میں چور تھے زبان پر قابو نہیں تھا لیکن چونک کر فرمایا ’’کیا بکتے ہو؟ ادب و انشاء یا شعر و شاعری کی بات کرو‘‘ کسی نے فوراً ہی افلاطون کی طرح رخ موڑ دیا ان کے مکالمات کی بابت کیا خیال ہے ؟ ارسطو اور سقراط کے بارے میں سوال کیا؟ مگر اس وقت وہ اپنے موڈ میں تھے فرمایا ’اجی‘ پوچھو یہ کہ ہم کون ہیں یہ ارسطو افلاطون یا سقراط آج ہوتے تو ہمارے حلقے میں بیٹھتے ہمیں ان سے کیا کہ ان کے بارے میں رائے دیتے پھریں‘‘۔ اس لڑکھڑائی ہوئی آواز سے فائدہ اٹھا کر ایک ظالم قسم کے کمیونسٹ نے سوال کیا ۔ ’’آپ کا حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بارے میں کیا خیال ہے؟‘‘۔
اللہ ‘ اللہ ! ایک شرابی جیسے کوئی برق تڑپی ہو‘ بلور کا گلاس اٹھایا اوراس کے سر پر دے مارا ’’بدبخت ! ایک عاصی سے سوال کرتا ہے‘ ایک سیہ رو سے پوچھتا ہے ایک فاسق سے کیا کہلوانا چاہتا ہے ؟ تمام جسم کانپ رہاتھا ایکا ایکی رونا شروع کیا۔ گھگھی بندھ گئی۔ ایسی حالت میں تم نے یہ نام کیوں لیا۔ تمہیں جرأت کیسے ہوئی؟ گستاخ ! بے ادب‘‘ باخدادیوانہ باش‘ و با محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہوشیار‘‘ اس شریر سوال پر توبہ کرو تمہاری خبث باطن سمجھتا ہوں ۔ خود قہر و غضب کی تصویر ہو گئے اس نے بات کو موڑنا چاہا مگر اختر کہاں سنتے تھے اسے اٹھوا دیا پھر خوداٹھ کر چلے گئے تمام رات روتے رہے کہتے تھے ’’یہ لوگ اتنے نڈر ہو گئے ہیں کہ آخری سہارا بھی ہم سے چھین لینا چاہتے ہیں‘ گنہگار ضرور ہوں لیکن یہ مجھے کافر بنا دینا چاہتے ہیں‘‘۔ وہ غیرت و حمیت تو اختر شیرانی میں تھی ہم ہوش و حواس میں ہوتے ہوئے بھی اپنے آخری سہارے کی حفاظت بھی نہیں کر سکتے۔ (ملخص روزنامہ اسلام)
اگرآپ کو یہ واقعہ پسند آیا ہے تو اسکو شئیر ضرور کریں اور اس طرح کے دیگر اسلامی واقعات اور اولیاء اللہ کے حالات و تذکرے آپ ہمارے ویب سائٹ
https://readngrow.online
پر بالکل مفت میں پڑھ سکتے ہیں ۔
تمام اسلامی مواد اور دیگر کیٹگریز کو دیکھنے کے لئے یہ لنک وزٹ کریں
https://readngrow.online/readngrow-categories/
نیز ہم اس ویب سائٹ کی مفید چیزوں کو اس واٹس ایپ چینل پر بھی شئیر کرتے رہتے ہیں ۔
https://whatsapp.com/channel/0029VaviXiKHFxP7rGt5kU1H
یہ چینل فالو کرلیں ۔

