عہد فاروقی کا ایک گورنر

عہد فاروقی کا ایک گورنر

حضرت سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ حضرت عامر بن ربیعہ کو ایک علاقہ کا گورنر بنا کر بھیجا ، کچھ عرصہ گزرنے کے بعد ان کے نظام اوراحوال کی تحقیق کیلئے لوگوں سے معلومات کروائیں۔۔۔
عام طور پر ان کی تعریف کی گئی ، مگر ایک شخص نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے ان کی تین شکایتیں کیں۔۔۔
ایک یہ کہ یہ فجر کی نماز کے بعد انپے گھرچلے جاتے ہیں اور کچھ دیر کے بعد یہ دربار میں آتے ہیں،۔
دوسری شکایت یہ پیش کی کہ یہ ہر جمعہ کے دن فجر کی نماز کے بعد گھر چلے جاتے ہیں اور کافی دیر گھر میں گزارتے ہیں
تیسری شکایت یہ کہ یہ ہر دس پندرہ دن کے بعد کسی بیماری یا کسی نا معلوم سبب کی بنا پر بے ہوش ہو جاتے ہیں۔۔۔ ان پر غشی کے دور ے پڑتے ہیںاور یہ بے ہوشی بعض اوقات کئی گھنٹوں ، بلکہ نصف سے زائد دن تک رہتی ہے ۔۔۔
حضرت عمر ؓ نے انہیں طلب فرمایا اور لوگوں کے سامنے ان سے ان باتوں کی وضاحت طلب کی ۔۔۔ اس پر انہوں نے عرض کیا: امیر المومنین ! کچھ معاملات ایسے ہوتے ہیں کہ لوگوں کے سامنے ان کا ذکر کرنا مناسب نہیں ، میں تنہائی میں آپ سے بات کرلوں گا۔۔۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے انکار کیا اور حکم دیا کہ ابھی اسی مجلس میں لوگوں کے سامنے ان امور کی وضاحت پیش کرو۔۔۔
چنانچہ حضرت عامر گویا ہوئے : امیر المومنین جہاں تک پہلی شکایت کا تعلق ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ میری اہلیہ ایک طویل عرصہ سے اتنی بیمار ہے کہ وہ بستر پر ہی ہوتی ہے ، وہ اٹھنے بیٹھنے کی طاقت نہیں رکھتی ۔۔۔ میرے گھر میں کھانے پکانے والا کوئی نہیں ہے ، میں صبح خود بکری کا دودھ دوہتا اور اپنے اور اپنی بیمار بیوی کے لئے کچھ مختصر کھانے کا انتظام کر تا ہوں اور اس سے فارغ ہو کر دربار میں حاضر ہو تا ہوں۔۔۔
دوسری شکایت سے متعلق وضاحت یہ ہے کہ امیر المومنین ! میرے پاس پہنچنے کے لئے کپڑوں کا صرف یہی ایک جوڑا ہے جو اس وقت میں نے پہنا ہوا ہے ، میں جمہ کے دن فجر کی نماز کے بعد کپڑوں کے سوکھنے تک گھر میں رہنا پڑتا ہے ،ظاہر ہے جب تک یہ کپڑے خشک نہ ہوں، باہر آنا ممکن نہیں ۔۔۔
جہاں تک تیسری شکایت کا تعلق ہے تو امیر المومنین کچھ کچھ دن گزرنے کے بعد مجھے ایک واقعہ یاد آجاتا ہے ، جس کی وجہ سے مجھ پہ یہ کیفیت طاری ہوتی ہے ۔۔۔ وہ واقعہ خبیب رضی اللہ عنہ کی شہادت کا ہے کہ میں اس وقت کا فر تھا، جب حضرت خبیب رضی اللہ عنہ کو زنجیروں سے جکڑ کر تختہ دار کی طرف لایا جارہا تھا، کفار کا ایک بہت بڑا مجمع جمع تھا، جو شادیانے بجا رہا تھا اور خوشی سے تالیاں پیٹ رہا تھا، اسی حال میں حضرت خبیب رضی اللہ عنہ کو لایا گیا ، جنہیں دیکھ کر کافروں نے خوشی کا اظہار کیا اور میں بھی اس وقت انہی میں شامل تھا۔۔۔ حضرت خبیب رضی اللہ عنہ کو اسی حالت میں لاکر پھانسی دے دی گئی ۔۔۔ مجھے جب بھی درد ناک قصہ یاد آتا ہے اور اپنا کافروں کے ساتھ مل کر خوش ہونا یاد آتا ہے تو میرے دل و دماغ کی کیفیت بدل جاتی ہے میرے ذہن پر اس کا ایسا شدید قسم کا اثر پڑھتا ہے کہ پھر مجھے کچھ ہو جاتا ہے اور مجھے کوئی ہوش نہیں رہتا۔۔۔
حضرت عامر ؓ یہ وضاحت پیش کر چکے ، مجمع میں کئی لوگوں کی آنکھیں اشک بار تھیں۔۔۔
فاروق اعظم رضی اللہ عنہ اپنے تربیت یافتہ شاگرد کی وضاحتیں سن کر جذباتی ہوگئے ۔۔۔ اللہ کا شکر ادا کیا اور فرمایا جب تک عمر کو ایسے ساتھی میسرہیں ان شاء اللہ عمر ناکام نہ ہوگا۔۔۔

اگرآپ کو یہ واقعہ پسند آیا ہے تو اسکو شئیر ضرور کریں اور اس طرح کے دیگر اسلامی واقعات اور اولیاء اللہ کے حالات و تذکرے آپ ہمارے ویب سائٹ
https://readngrow.online
پر بالکل مفت میں پڑھ سکتے ہیں ۔
تمام اسلامی مواد اور دیگر کیٹگریز کو دیکھنے کے لئے یہ لنک وزٹ کریں
https://readngrow.online/readngrow-categories/
نیز ہم اس ویب سائٹ کی مفید چیزوں کو اس واٹس ایپ چینل پر بھی شئیر کرتے رہتے ہیں ۔
https://whatsapp.com/channel/0029VaviXiKHFxP7rGt5kU1H
یہ چینل فالو کرلیں ۔

Most Viewed Posts

Latest Posts

ایک گنہگار کو توبہ کی توفیق

ایک گنہگار کو توبہ کی توفیق ایک واقعہ سنئے! سیدنا موسیٰ علیہ السلام کے زمانے میں ایک نوجوان کو گناہ کی عادت تھی۔ لوگوں نے بات موسیٰ علیہ السلام تک پہنچائی، حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اس کو بلا کر سمجھایا۔ وہ پھر بھی مرتکب ہو گیا، پھر سمجھایا، پھر مرتکب ہو گیا۔ حضرت...

read more

خواب ہدایت کا ذریعہ بنا

خواب ہدایت کا ذریعہ بنا ہم ایک دفعہ رشیا گئے ، ماسکو میں ایک نوجوان ملا، اس سے بات ہوئی تو اس نے کہا کہ کلمہ پڑھایئے، ہم نے کلمہ پڑھا دیا اور وہ مسلمان بن گیا۔ اس نے کہا کہ میں بائیس گھنٹے کی مسافت سے آیا ہوں، ہمارا ایک کلب ہے ’’ پریذیڈنٹ کلب‘‘ جس میں پینتالیس مرد...

read more

ایک گنہگار کو توبہ کی توفیق

ایک گنہگار کو توبہ کی توفیق ایک واقعہ سنئے! سیدنا موسیٰ علیہ السلام کے زمانے میں ایک نوجوان کو گناہ کی عادت تھی۔ لوگوں نے بات موسیٰ علیہ السلام تک پہنچائی، حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اس کو بلا کر سمجھایا۔ وہ پھر بھی مرتکب ہو گیا، پھر سمجھایا، پھر مرتکب ہو گیا۔ حضرت...

read more