علماء کی شان سرکٹوانا منظور
حافظ ابن کثیر دمشقی رحمۃ اللہ علیہ ایک بڑے بزرگ عالم کو ایسے بادشاہ کے روبرو پیش کیا گیاجو لوگوں کو خنزیر کا گوشت کھانے پر مجبور کیا کرتا تھا ‘ جب وہ عالم بزرگ بادشاہ کے قریب پہنچے تو وہاں پولیس کے ایک افسر نے چپکے سے ان عالم صاحب سے کہا کہ آپ ایسا کریں کہ اپنے ہاتھ سے ایک بکری کا بچہ ذبح کر کے مجھے دے دیں جب بادشاہ آپ سے خنزیر کھانے کو کہے گا تو میں خنزیر کے گوشت کے بجائے یہی بکری کا حلال گوشت آپ کے سامنے رکھوا دونگا آپ تو حلال ہی گوشت کھائیں گے ‘ جبکہ بادشاہ اور دیکھنے والے لوگ اس مغالطہ میں رہیں گے کہ آپ خنزیر کا گوشت کھا رہے ہیں ۔ اس طرح آپ حرام سے بچ جائیں گے اور آپ کی جان بخشی بھی ہو جائے گی ۔ چنانچہ ان عالم صاحب نے بکری کا بچہ ذبح کروا کر پولیس افسر کو دے دیا پولیس افسر نے حسب وعدہ وہ بچہ شاہی خانساموں کے حوالہ کر دیا اور انہیں تاکید کر دی کہ جب بادشاہ ان عالم صاحب کو خنزیر کا گوشت پیش کرنے کا حکم دے تو ان کے سامنے اس بکری کے بچہ کے گوشت کو رکھ دینا ۔ اس کے بعد لوگ بہت بڑی تعداد میں جمع ہوگئے اور ہر ایک یہ کہہ رہا تھا کہ اگر ان عالم صاحب نے خنزیر کا گوشت کھا لیا تو ہم بھی کھا لیں گے اور اگر وہ رک گئے تو ہم بھی رک جائیں گے ۔ بادشاہ آیا اس نے اپنے کارندوں کو خنزیر کا گوشت لوگوں کے سامنے رکھنے کا حکم دیا چنانچہ گوشت لایا گیا لیکن انہوں نے بادشاہ سے وہ گوشت کھانے سے صاف انکار کر دیا ۔ اس درمیان وہ پولیس افسر سامنے سے بار بار اشارہ کرتا رہا کہ یہ تو بکری کا گوشت ہے اسے آپ کھا لیجئے ۔ لیکن آپ برابر انکار ہی کرتے رہے بالآخر بادشاہ نے اسی پولیس افسر کو حکم دیا کہ انہیں لے جا کر قتل کر دیا جائے ۔ جب وہ پولیس افسر آپ کو لے جانے لگا تو اس نے پوچھا کہ حضرت کیا وجہ ہے کہ آپ نے وہ گوشت بھی نہیں کھایا جو خود ذبح کر کے مجھے دیا تھا کیا آپ کو مجھ پر اعتماد نہیں ہے ؟ اس پر ان عالم صاحب نے جواب دیا کہ مجھے کامل یقین تھا کہ یہ گوشت میرے لئے حلال ہے لیکن مجھے اس بات کا اندیشہ ہوا کہ لوگ ناواقفیت میں میری اقتدا کریں گے ۔ اور وہ صرف یہی سمجھیں گے کہ میں نے خنزیر کا گوشت کھایا ہے ۔ اور بعد میں بھی یہی کہا جائے گا کہ فلاں شخص نے یہ گوشت کھایا تھا ‘ اور انہیں حقیقت معلوم نہ ہوگی ۔ خلاصہ یہ ہے کہ ان عالم صاحب نے قتل ہونا گوارا کیا لیکن دوسروں کا وبال اپنے سر لینا برداشت نہیں کیا ۔ عالم کی یہی شان ہونی چاہئے کہ وہ تہمت کی چیزوں سے بچتا رہے اس لئے کہ اس کی غلطی کو بھی لوگ باعث تقلید سمجھ کر اس کی پیروی شروع کر دیتے ہیں ۔ ( البدایہ والنہایہ )
علماء کا کام صرف یہی نہیں کہ خود برائی اور گناہ سے بچیں بلکہ ان کی یہ منصبی ذمہ داری ہے کہ وہ دوسروں کو بھی برائیوں سے بچائیں اور کوئی ایسا حقیقی مباح عمل بھی نہ کریں جس سے غلط فہمی کی بناء پر عوام میں برائی پھیلنے کا اندیشہ ہو ۔ افسوس ہے کہ آج عام طور پر محض عمل کا مباح ہونا کافی سمجھا جاتا ہے ا وریہ خیال نہیں کیا جاتا کہ اس کے اثرات دوسروں پر کیا پڑیں گے ۔ جس کی بناء پر علماء کی وقعت میں کمی آ رہی ہے ۔ علماء اور متقدایان ملت کو بالخصوص اس جانب توجہ رکھنی چاہئے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے کہ ’’آدمی کا اس وقت تک صحیح معنی میں اہل تقویٰ میں شمار نہیں ہو سکتا جب تک کہ مباح باتوں کو بھی ‘ ناجائز عمل کے خطرہ سے ترک نہ کر دے ‘‘ ۔ (الترغیب) اللہ پاک ہمیں حمیت دین عطا فرمائے آمین (مولانا مفتی محمدسلمان منصور پوری شمارہ ۷۸)
اگرآپ کو یہ واقعہ پسند آیا ہے تو اسکو شئیر ضرور کریں اور اس طرح کے دیگر اسلامی واقعات اور اولیاء اللہ کے حالات و تذکرے آپ ہمارے ویب سائٹ
https://readngrow.online
پر بالکل مفت میں پڑھ سکتے ہیں ۔
تمام اسلامی مواد اور دیگر کیٹگریز کو دیکھنے کے لئے یہ لنک وزٹ کریں
https://readngrow.online/readngrow-categories/
نیز ہم اس ویب سائٹ کی مفید چیزوں کو اس واٹس ایپ چینل پر بھی شئیر کرتے رہتے ہیں ۔
https://whatsapp.com/channel/0029VaviXiKHFxP7rGt5kU1H
یہ چینل فالو کرلیں ۔

