علماء تمہاری طرح کے انسان ہی ہیں
اس لئے کہ عالم بھی تمہاری طرح کا انسان ہے، جو گوشت پوست تمہارے پاس ہے، وہ اس کے پاس بھی ہے۔۔۔۔ وہ کوئی آسمان سے اترا ہوا فرشتہ نہیں ہے، جو جذبات تمہارے دل میں پیدا ہوتے ہیں۔۔۔۔ وہ جذبات اس کے دل میں بھی پیدا ہوتے ہیں، نفس تمہارے پاس بھی ہے اس کے پاس بھی ہے۔۔۔۔ شیطان تمہارے پیچھے بھی لگا ہوا ہے، اس کے پیچھے بھی لگا ہوا ہے، نہ وہ گناہوں سے معصوم ہے، نہ وہ پیغمبر ہے۔۔۔۔ اور نہ وہ فرشتہ ہے، بلکہ وہ بھی اسی دنیا کا باشندہ ہے، اور جن حالات سے تم گزرتے ہو۔۔۔۔ وہ بھی ان حالات سے گزرتا ہے۔۔۔۔ لہٰذا یہ تم نے کہاں سے سمجھ لیا کہ وہ گناہوں سے معصوم ہے، اور اس سے کوئی گناہ سرزد نہیں ہو گا، اور اس سے کبھی غلطی نہیں ہو گی۔۔۔۔ اس لئے کہ جب وہ انسان ہے تو بشری تقاضے سے کبھی اس سے غلطی بھی ہو گی۔۔۔۔ کبھی وہ گناہ بھی کرے گا۔۔۔۔ لہٰذا اس کے گناہ کرنے کی وجہ سے فوراً اس عالم سے برگشتہ ہو جانا اور اس کی طرف سے بدگمان ہو جانا صحیح نہیں۔۔۔۔ ا س لئے حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ فوراً اس سے قطع تعلق مت کرو، بلکہ اس کے واپس آنے کا انتظار کرو، اس لئے کہ اس کے پاس علم صحیح موجود ہے۔۔۔۔ امید ہے کہ وہ ان شاء اللہ کسی وقت لوٹ آئے گا۔۔۔۔
