علامہ اقبال اور شاہ جی
حضرت سید عطاء اﷲ شاہ بخاری رحمۃ اﷲ علیہ فرماتے تھے جب کبھی میں علامہ اقبال کے ہاں حاضر ہوتا وہ چارپائی پر گائو تکیہ کا سہارا لے کر بیٹھے ہوتے۔۔۔۔ حقہ سامنے ہوتا۔۔۔۔ دو چار کرسیاں بچھی ہوتیں۔۔۔۔ صدادیتا۔۔۔۔ یا مرشد! فرماتے آ بھئی پیرا۔۔۔۔ بہت دناں بعد آیاں ایں (بہت دنوں کے بعد آئے ہو) علی بخش سے کہتے حقہ لے جائو اور کلی کے لئے پانی لائو۔۔۔۔ کلی فرماتے پھر ارشاد ہوتا۔۔۔۔ ایک رکوع سنائو۔۔۔۔ میں پوچھتا حضرت! کوئی تازہ کلام؟
فرماتے۔۔ ہوتا ہی رہتا ہے ۔۔ عرض کرتا۔۔ لایئے۔۔ کاپی منگواتے۔۔ پہلے رکوع سنتے۔۔۔ پھر وہ اشعارجو حضور صلی اﷲ علیہ وسلم سے وابستہ ہوتے سنتے قرآن پاک سنتے وقت کانپنے لگتے تھے لیکن جب حضور صلی اﷲ علیہ وسلم کا ذکر ہوتا یا ان سے متعلق کلام پڑھا جاتا تو چہرہ اشکبار ہوجاتا ۔۔۔ حضور صلی اﷲ علیہ وسلم کا ذکر ہمیشہ باوضو شخص سے سنتے اور خود ان کا نام بھی باوضو ہوکر لیتے تھے ۔۔۔ حضور صلی اﷲ علیہ وسلم کے ذکر پر اس طرح روتے جس طرح ایک معصوم بچہ ماں کے بغیر روتا ہے ۔۔۔۔ (نقیب ختم نبوت)
اگرآپ کو یہ واقعہ پسند آیا ہے تو اسکو شئیر ضرور کریں اور اس طرح کے دیگر اسلامی واقعات اور اولیاء اللہ کے حالات و تذکرے آپ ہمارے ویب سائٹ
https://readngrow.online
پر بالکل مفت میں پڑھ سکتے ہیں ۔
تمام اسلامی مواد اور دیگر کیٹگریز کو دیکھنے کے لئے یہ لنک وزٹ کریں
https://readngrow.online/readngrow-categories/
نیز ہم اس ویب سائٹ کی مفید چیزوں کو اس واٹس ایپ چینل پر بھی شئیر کرتے رہتے ہیں ۔
https://whatsapp.com/channel/0029VaviXiKHFxP7rGt5kU1H
یہ چینل فالو کرلیں ۔

