عبداللہ بن مبارک رحمہ اللہ کے حالات

عبداللہ بن مبارک رحمہ اللہ کے حالات

حیران شہر میں ایک ترکی تاجر کا باغ تھا، جس میں سیب لگے ہوئے تھے، انار تھے، انگور تھے۔ یہ تاجر اللہ کے فضل سے خوب مالدار بھی تھا، دین دار بھی تھا۔ اس کو اللہ نے ایک چاند سی بیٹی عطا کی جو نیک بھی تھی اور اپنی شکل صورت میں رشک ِ قمر بھی تھی۔ اس کے حسن و جمال کی عورتیں ایک دوسرے کو مثال دیا کرتی تھیں۔ تاجر اس سوچ میں پڑا ہوا تھا کہ میں اپنی بیٹی کا نکاح کس سے کروں؟ بڑے بڑے امرا نے اس کے لئے اپنے بیٹوں کے رشتے بھیجے لیکن اس تاجر کا دل مطمئن نہیں ہوتا تھا ۔ ابھی یہ فیصلہ نہیں کر پایا تھا، ایک دن دل میں خیال آیا، کیوں نہ میں جا کر اپنے باغ کی سیر کر آئوں! یہ اپنا باغ دیکھنے کے لئے گیا۔ اس دوران اس کو پیاس لگی، اس نے باغ کے نگران کو اپنے پاس بلایا اور کہا کہ تم میرے لئے انار کا جوس لے کر آئو! وہ گیا اور ایک خوبصورت سا انار توڑ کے لے آیا۔ جب اس نے اس کا شربت پیا تو وہ انتہائی کڑوا تھا۔ اس نے اس کو نصیحت کی کہ تم چوبیس گھنٹے باغ میں رہتے ہو تمہیں ابھی تک اتنا بھی پتہ نہیں چلا کہ کس درخت کے پھل میٹھے ہیں اور کس کے کھٹے ہیں۔ اس پر اس نوکر نے جواب دیا کہ جناب! آپ نے مجھے اس باغ کی نگرانی کے لئے رکھا ہے، باغ کے پھل کھانے کے لئے تو نہیں رکھا۔ مجھے جتنے سال بھی یہاں گزرے میں نے آج تک باغ کے کسی پھل کو نہیں چکھا۔ یہ بات اس تاجر کے دل کو لگ گئی کہ اس شخص کے دل میں اتنا تقویٰ! اتنا خوف خدا! اس قدر امانت کا لحاظ! کہ اس نے اتنے سالوں میں انار کو چکھا تک نہیں۔ ایسا آدمی بندوں کی خدمت کے لئے نہیں ہونا چاہئے، اللہ تعالیٰ کی خدمت کے لئے مخصوص ہو جانا چاہئے۔ چنانچہ اس نے اس سے کہا کہ تم یہاں سے بوریا بستر سمیٹو اور میرے ساتھ چلو۔ میرے گھر میں جا کر رہو اور سارا دن اللہ کی عبادت کرو۔ اس تقویٰ کی وجہ سے اس خادم کے دن بدل گئے، اب وہ سارا دن عبادت میں بھی گزارتا اور اسے تنخواہ بھی ملتی۔ ایک دن یہ تاجر اپنے اس خادم کے ساتھ بیٹھا تبادلہ خیالات کر رہا تھا، اس دوران اس نے کہا کہ آج کل میں بہت پریشان ہوں، میری بیٹی کے رشتے بہت جگہوں سے آ رہے ہیں، میں فیصلہ نہیں کر پا رہا کہ میں کہاں رشتہ کروں؟ اس نے اس کو جواب دیا کہ دیکھئے! یہود کے بارے میں یہ مشہور ہے کہ وہ مال کے پرستار ہیں، نصاریٰ کے بارے میں مشہور ہے کہ وہ جمال کے پرستار ہیں جبکہ ہمارے نبی صلی اﷲ علیہ وسلم نے مال اور جمال کو مقدم نہیں کیا بلکہ اعمال کو مقدم کیا اور یہ فرمایا کہ
’’ اللہ کے نزدیک تو وہ معظم ہے جو متقی ہے‘‘
لہٰذا کوئی نیک رشتہ اگر آپ کو ملے تو نبی علیہ السلام کی تعلیمات پر آپ عمل کرلیں۔ تاجر کے دل کو یہ بات اچھی لگی، اس نے جا کر اپنی بیوی کو یہ بات بتائی تو دونوں نے اس نقطہ نظر سے رشتوں کو دیکھنا شروع کردیا کہ نیک کون ہے؟ چنانچہ بیوی نے کہا: پھر یہی ہمارا جو باغ کا خادم ہے، نیکی میں تو اس جیسا نوجوان ہمیں مل ہی نہیں سکتا، کیوں نہ ہم بیٹی کا رشتہ اس سے کردیں؟ بالآخر اس ترکی تاجر نے اپنی اس نیک صورت، نیک سیرت بیٹی کا نکاح اس خادم کے ساتھ کردیا۔ اس کا نام تھا مبارک۔ مبارک کی شادی ہو گئی۔(ج 27ص220)
اب خاوند بھی نیک اور بیوی بھی نیک، اللہ رب العزت نے انہیں ایک بیٹا عطا کیا جس کا نام انہوں نے عبداللہ رکھا۔ چونکہ یہ نام اللہ رب العزت کو بہت پسند ہے۔ یہ اسلام کے بہت روشن دور کا واقعہ ہے جسے تابعین کا دور کہتے ہیں۔(ج 27ص221)
دوسروں کا دل خوش کرنے کی ان کو اتنی فکر ہوا کرتی تھی کہ ایک مرتبہ ایک آدمی ان کے پاس آیا، اس کے اوپر سات سو درہم کا قرضہ تھا۔ اس نے کہا کہ جی میں سات سو درہم کا مقروض ہوں مجھے کچھ دے دیجئے۔ انہوں نے سات ہزار درہم کی چٹ بنا کر اپنے خادم کی طرف بھیج دیا۔ اس نے خادم کو جا کر چٹ بھی دکھائی کہ جی مجھے رقم دے دیجئے۔ خادم نے پوچھا کہ کتنا قرضہ ہے؟ اس نے کہا کہ سات سو دینار۔ بھئی ادھر تو سات ہزار لکھا ہوا ہے، غلطی تو نہیں ہو گئی میں ذرا جا کر پوچھ لوں۔ خادم ان سے پوچھنے کے لئے آیا کہ جی کہیں غلطی سے تو سات ہزارنہیں لکھا۔ انہوں نے وہ چٹ لے لی اور دوسری چٹ چودہ ہزار کی بنادی کہ جائو اسے یہ دے دو۔ اس نے پیسے تو دے دیئے لیکن بڑا حیران کہ اس اللہ کے بندے نے کیا کیا؟ جب وہ نوجوان چلا گیا جس نے قرض لیا تھا تو اس نے عبداللہ بن مبارک رحمۃ اللہ علیہ سے آکر پوچھا کہ سات سو کی جگہ سات ہزارکیوں لکھا؟ انہوں نے کہا: اس لئے کہ تم نے اسے بتا دیا تھا۔ اب سات ہزار دینے سے اس کا دل خوش نہ ہوتا میں نے اس کو چودہ ہزار لکھ دیا۔ اس نے پوچھا کہ آخر اس کی وجہ کیا ہے؟ تو انہوں نے نبی علیہ السلام کی حدیث سنائی کہ اللہ کے پیارے حبیب صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا: کہ جو شخص کسی مؤمن کے دل کو خوش کرتا ہے اللہ تعالیٰ زندگی کے پچھلے سب گناہوں کو معاف فرما دیتے ہیں۔(ج 27ص228)
قاسم ابن احمد کہا کرتے تھے کہ میں ہمیشہ سوچا کرتا تھا کہ عبداللہ ابن مبارک رحمۃ اللہ علیہ میں کون سی ایسی خاص چیز ہے کہ لوگوں کا ان کی طرف بڑا رجوع ہے۔ ان کو اللہ تعالیٰ نے تسخیر ِ قلوب کا مقام عطا کردیا، جدھر جاتے تھے لوگوں کے دل مسخر ہو جاتے تھے۔ ان کی مجلس میں لوگ مورو ملخ کی طرح علم حاصل کرنے کے لئے کھچے چلے آتے تھے۔ ہم بھی حدیث پڑھتے ہیں، یہ بھی حدیث پڑھتے ہیں، جتنی عبادت یہ کرتے ہیں، اتنی عبادت ہم بھی کرتے ہیں، کون سی خاص چیز ہے مجھے سمجھ نہیں آتی تھی۔
فرمانے لگے ایک مرتبہ ہم بیٹھے اچانک ہوا کا جھونکا آیا اور چراغ بجھ گیا، اندھیرا ہو گیا۔ ایک آدمی چراغ جلانے کے لئے اٹھا۔ جب اس نے دوبارہ چراغ جلایا تو میری نظر عبداللہ بن مبارک رحمۃ اللہ علیہ کے چہرے پر پڑی تو میں نے دیکھا کہ آنسوئوں سے ان کی ریش تر ہوچکی تھی۔ میں نے پوچھا کہ عبداللہ کیوں روئے ؟ کہنے لگے کہ مجھے اس اندھیرے کو دیکھ کر قبر کا اندھیرا یاد آگیا۔ تب مجھے بات سمجھ میں آئی کہ اس خوف ِ خدا کی صفت کی وجہ سے اللہ نے ان کو لوگوں کا مرجع بنادیا۔ اورجب دل میں خوف ِ خدا ہو اور انسان گناہوں سے بچے پھر اللہ رب العزت اس کو لوگوں میں مقبول بنا دیا کرتے ہیں۔
خوف ِ خدا کا یہ عالم تھا، ایک مرتبہ شام کے سفرپرگئے اور لکھنے کے لئے کسی سے قلم لیا، اب قدرتاً وہ قلم ان کے پاس رہ گیا۔ جب یہ واپس اپنے وطن پہنچے تو خیال آیا کہ اوہو یہ قلم تو میں نے کسی سے مانگا تھا اور میرے ساتھ ہی آگیا ، اس کی تو مجھے ساتھ رکھنے کی اجازت نہیں ہے۔ کئی سو میل کا سفر صرف اس لئے کیا کہ واپس جا کر اس بندے کو اس کا قلم واپس کر سکوں۔(ج 27ص234)

اگرآپ کو یہ واقعہ پسند آیا ہے تو اسکو شئیر ضرور کریں اور اس طرح کے دیگر اسلامی واقعات اور اولیاء اللہ کے حالات و تذکرے آپ ہمارے ویب سائٹ
https://readngrow.online
پر بالکل مفت میں پڑھ سکتے ہیں ۔
تمام اسلامی مواد اور دیگر کیٹگریز کو دیکھنے کے لئے یہ لنک وزٹ کریں
https://readngrow.online/readngrow-categories/
نیز ہم اس ویب سائٹ کی مفید چیزوں کو اس واٹس ایپ چینل پر بھی شئیر کرتے رہتے ہیں ۔
https://whatsapp.com/channel/0029VaviXiKHFxP7rGt5kU1H
یہ چینل فالو کرلیں ۔

Most Viewed Posts

Latest Posts

ایک گنہگار کو توبہ کی توفیق

ایک گنہگار کو توبہ کی توفیق ایک واقعہ سنئے! سیدنا موسیٰ علیہ السلام کے زمانے میں ایک نوجوان کو گناہ کی عادت تھی۔ لوگوں نے بات موسیٰ علیہ السلام تک پہنچائی، حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اس کو بلا کر سمجھایا۔ وہ پھر بھی مرتکب ہو گیا، پھر سمجھایا، پھر مرتکب ہو گیا۔ حضرت...

read more

خواب ہدایت کا ذریعہ بنا

خواب ہدایت کا ذریعہ بنا ہم ایک دفعہ رشیا گئے ، ماسکو میں ایک نوجوان ملا، اس سے بات ہوئی تو اس نے کہا کہ کلمہ پڑھایئے، ہم نے کلمہ پڑھا دیا اور وہ مسلمان بن گیا۔ اس نے کہا کہ میں بائیس گھنٹے کی مسافت سے آیا ہوں، ہمارا ایک کلب ہے ’’ پریذیڈنٹ کلب‘‘ جس میں پینتالیس مرد...

read more

ایک گنہگار کو توبہ کی توفیق

ایک گنہگار کو توبہ کی توفیق ایک واقعہ سنئے! سیدنا موسیٰ علیہ السلام کے زمانے میں ایک نوجوان کو گناہ کی عادت تھی۔ لوگوں نے بات موسیٰ علیہ السلام تک پہنچائی، حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اس کو بلا کر سمجھایا۔ وہ پھر بھی مرتکب ہو گیا، پھر سمجھایا، پھر مرتکب ہو گیا۔ حضرت...

read more