عام سیاسی اور شخصی جھگڑوں کا علاج
جیسا کہ پہلے عرض کیا جا چکا ہے کہ مذہبی معاملات میں جس شخص نے کوئی خاص رخ اختیار کر رکھا ہے وہ اسی کو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم و تلقین سمجھ کر اختیار کیے ہوئے ہے۔۔۔۔ خواہ وہ حقیقت کے اعتبار سے بالکل غلط ہی ہو مگر اس کا نظریہ کم از کم یہی ہے کہ وہ اللہ کا دین ہے۔۔۔۔ ان حالات میں اس کو ہمدردی اور نرمی سے اپنی جگہ افہام و تفہیم کی کوشش تو بجائے خود جاری رکھنا چاہیے۔۔۔۔
لیکن جب تک اس کا نظریہ نہ بدلے اس کو یہ دعوت نہیں دی جا سکتی کہ تم ایثار کر کے اپنا نظریہ چھوڑ دو اور صلح کر لو۔۔۔۔ ان سے تو صرف یہ کہا جا سکتا ہے کہ اختلافِ رائے کو اپنی حدود کے اندر رکھیں اور افہام و تفہیم قرآنی اصول حکمت و موعظت ’’’’مُجَادَلَۃٌ بِاللَّتِیْ ھِیَ اَحْسَنُ‘‘ کو نظر انداز نہ کریں۔۔۔۔
مگر جن معاملات کا تعلق صرف شخصی اور ذاتی حقوق اور خواہشات سے ہے، وہاں یہ معاملہ سہل ہے کہ جھگڑے سے بچنے کے لیے دوسرے کے لیے اپنی جگہ چھوڑ دے۔۔۔۔ اپنے حق سے دست بردار ہو جائے اور جو شخص ایسا کرے دنیا میں بھی اس کی عزت کو چار چاند لگ جاتے ہیں اور جس مقصد کو چھوڑا ہے وہ بھی دوسرے راستے سے حاصل ہو جاتا ہے اور آخرت میں تو اس کے لیے ایک عظیم الشان بشارت ہے جس کا بدل پوری دنیا اور دنیا کی ساری حکومتیں اور ثروتیں بھی نہیں ہو سکتیں۔۔۔۔
رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:۔
۔’’اَنَا زَعِیْمٌ بَبَیْتٍ فِیْ رَبَضِ الْجَنَّۃِ لِمَنْ تَرَکَ الْمِرَائَ اِنْ کَانَ مُحِقًّا‘‘ (سنن بی داؤد)
ترجمہ: ’’میں ضامن ہوں اس شخص کو وسط جنت میں مکان دلانے کا جس نے حق پر ہونے کے باوجود جھگڑا چھوڑ دیا۔۔۔۔‘‘۔
میں آخر میں پھر اپنے پہلے جملے کی طرف رجوع کرتا ہوں کہ ہماری ساری خرابیوں کی بنیاد قرآن کو چھوڑنا اور آپس میں لڑنا ہے اور یہ آپس کی لڑائی بھی درحقیقت قرآنی تعلیمات سے ناواقفیت یا غفلت ہی کا نتیجہ ہے۔۔۔۔ گروہی تعصبات نے یہ حقائق نظروں سے اوجھل کر رکھے ہیں۔۔۔۔
دنیا میں صالحین کی اگرچہ قلت ضرور ہے مگر فقدان نہیں۔۔۔۔ افسوس ہے کہ ایسے مصلحین کا سخت قحط ہے جو گردوپیش کے چھوٹے چھوٹے دائروں سے ذرا سر نکال کر باہر دیکھیں اور اسلام اور قرآن ان کو کس طرف بلا رہا ہے ان کی صدا سنیں۔۔۔۔
اللہ تعالیٰ ہم سب کو دین کے راستے پر چلنے کی توفیق کامل عطا فرما دیں۔۔۔۔
’’ اَللّٰھُمَّ وَفِّقْنَا لِمَا تُحِبُّ وَتَرْضٰی مِنَ الْقَوْلِ وَالْفِعْلِ وَالْعَمَلِ وَالنِّیَّۃِ وَصَلَّی اﷲُ تَعَالٰی عَلٰی خَیْرِ خَلْقِہٖ وَصَفْوَۃِ رُسُلِہٖ مُحَمَّدٍ وَّآلِہٖ وَصَحْبِہٖ اَجْمَعِیْنَ‘‘۔
(ماخوذ از اختلافِ امت اور ان کا حل)
