عالم بے عمل بھی قابل احترام ہے
دوسری بات یہ ہے کہ حضرت مولانا اشرف علی صاحب تھانوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ عالم کو تو خود چاہئے کہ وہ باعمل ہو، لیکن اگر کوئی عالم بے عمل بھی ہے تو بھی وہ عالم اپنے علم کی وجہ سے تمہارے لئے قابل احترام ہے۔۔۔۔ اللہ تعالیٰ نے اس کو علم دیا ہے، اس کا ایک مرتبہ ہے، اس مرتبہ کی وجہ سے وہ عالم قابل احترام بن گیا۔۔۔۔ جیسا کہ والدین کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ:۔
وَاِن جَاھَدَاکَ عَلیٰ اَن تُشرِکَ بِی مَا لَیسَ لَکَ بِہٖ عِلمٌ فَلاَ تُطِعھُمَا وَصَاحِبھُمَا فِی الدُّنیَا مَعرُوفاً (سورۃ لقمان : ۱۵)
اگر والدین کافر اور مشرک بھی ہوں تو کفر اور شرک میں تو ان کی بات مت مانو، لیکن دنیا کے اندر ان کے ساتھ نیک سلوک کرو، اس لئے کہ ان کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ماں باپ ہونے کا جو شرف حاصل ہے۔۔۔۔ وہ بذات خود قابل تکریم اور قابل تعظیم ہے، تمہارے لئے ان کی اہانت جائز نہیں۔۔۔۔ اسی طرح اگر ایک عالم بے عمل بھی ہے تو اس کے حق میں دعا کرو کہ یا اللہ! اس کو نیک عمل کی توفیق دے دے ۔۔۔۔ لیکن اس کی بدعملی کی وجہ سے اس کی توہین مت کرو۔۔۔۔ حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ علماء سے خطاب کرتے ہوئے فرماتے کہ نرا علم کوئی چیز نہیں ہوتی جب تک اس کے ساتھ عمل نہ ہو۔۔۔۔ لیکن یہ بھی فرماتے کہ میرا معمول یہ ہے کہ جب میرے پاس کوئی عالم آتا ہے تو اگرچہ اس کے بارے میں مجھے معلوم ہو کہ یہ فلاں غلطی کے اندر مبتلا ہے۔۔۔۔ اس کے باوجود اس کے علم کی وجہ سے اس کا اکرام کرتا ہوں، اور اس کی عزت کرتا ہوں۔۔۔۔
