عارفین کو قیل و قال سے انقباض ہوتا ہے
بسلسلہ ملفوظات حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی نور اللہ مرقدہ
ارشاد فرمایا کہ ہمارے حضرت امداداللہ حاجی صاحب رحمۃ اللہ علیہ جب کسی مضمون پر تقریر فرماتے اور کوئی شبہ پیش کرتا تو فرماتے کہ یہ مدرسہ نہیں، یہ کام کرنے کے ہیں، کرکے دیکھو۔ ہمارے حضرتؒ نے فرمایا کہ مدرسین کو قیل و قال کی عادت ہوتی ہے اور عارفین کو اس سے انقباض ہوتا ہے ۔ جو کام میں مشغول ہوتا ہے ، اس کو حقیقت منکشف ہوجاتی ہے ۔ عوام کی طرح ان کی حالت نہیں ہوتی ، ان کو اطمینان ہوتا ہے ۔ چونکہ حضرتؒ کے یہاں حقائق میں تردد نہ تھا ، اس لیے سوال و جواب سے تنگ ہوتے تھے ، جیسے اگر کوئی کسی سے کہے کہ آفتاب نکل آیا، اب بجائے اس کے کہ وہ اس کا ممنون ہوا س سے مباحثہ شروع کردے تو اس کو کس قدر ناگوار ہوگا ۔ اہلِ بصیرت کو حقائق میں ایسا اطمینان ہوتا ہے جیسے باپ کی بابت کسی کو شبہ نہیں ہوتا کہ یہ میرا باپ ہے، حالانکہ اس میں بھی غلطی ہوسکتی ہے ۔ ایسا اطمینان ہوجانا حقائق میں بڑی نعمت ہے۔(آداب ِ شیخ و مرید، صفحہ ۲۷۷)
حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ تعالیٰ کے یہ ملفوظات شیخ و مرید کے باہمی ربط اور آداب سے متعلق ہیں ۔ خود بھی پڑھیں اور دوستوں سے بھی شئیر کریں ۔
مزید ملفوظات پڑھنے کے لئے ہماری ویب سائٹ
https://readngrow.online
اپنے پاس محفوظ کرلیں ۔
اس طرح کے ملفوظات روزانہ اس واٹس ایپ چینل پر بھی بھیجے جاتے ہیں
https://whatsapp.com/channel/0029VaJtUph4yltKCrpkkV0r
چینل جوائن کریں

