شیخ کو مریدین کے حالات دوسروں پر ظاہر نہ کرنے چاہئیں
بسلسلہ ملفوظات حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی نور اللہ مرقدہ
ارشاد فرمایا کہ شیخ کو یہ جائز نہیں ہے کہ مریدین کے احوال کو ایک دوسرے کے روبرو ظاہر کرے کیونکہ اس سے مریدوں کو ضرر ہوتا ہے۔ ان کے آپس میں رشک اور حسد پیدا ہوتا ہے اور ایک کو دوسرے کا وظیفہ پڑھنے کی ہوس پیدا ہوتی ہے حالانکہ بعض اوقات یہ اس کے مناسب ِ حال نہیں ہوتا۔ اسی طرح طبیب ِ ظاہری اگر مریض کا حال جس کو وہ پوشیدہ رکھتا ہے ، ظاہر کرے تو وہ خائن ہے، مثلاً یہ ہرگز جائز نہیں کہ لوگوں سے کہتا پھرے کہ فلاں شخص سوزاک میں مبتلا ہے ، فلاں عورت مرضِ رحم میں ہے اور شیوخ جو مرید کو تنہائی میں لے جاکر تعلیم کرتے ہیں اس کی بھی یہی مصلحت ہے کہ ایک کا حال دوسرے پر ظاہر نہ ہو ۔ دوسرے یہ بھی مصلحت ہے کہ اس کے دل میں تعلیم کی وقعت ہو۔(آداب ِ شیخ و مرید، صفحہ ۲۰۰)
حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ تعالیٰ کے یہ ملفوظات شیخ و مرید کے باہمی ربط اور آداب سے متعلق ہیں ۔ خود بھی پڑھیں اور دوستوں سے بھی شئیر کریں ۔
مزید ملفوظات پڑھنے کے لئے ہماری ویب سائٹ
https://readngrow.online
اپنے پاس محفوظ کرلیں ۔
اس طرح کے ملفوظات روزانہ اس واٹس ایپ چینل پر بھی بھیجے جاتے ہیں
https://whatsapp.com/channel/0029VaJtUph4yltKCrpkkV0r
چینل جوائن کریں

