شیخ کامل کا اپنے فن سے واقف ہونا ضروری ہے

شیخ کامل کا اپنے فن سے واقف ہونا ضروری ہے

بسلسلہ ملفوظات حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی نور اللہ مرقدہ

ارشاد فرمایا کہ شیخ کامل وہ ہے جو فن سے واقف ہو ۔ شیخ کے لیے فن جاننے کی ضرورت ہے ۔ اگر فن سے ناواقف ہے تو وہ شیخ کہلائے جانے کے قابل نہیں اور نہ وہ حقیقت میں شیخ ہے جیسے طبیب کہ فن سے واقف ہونا اس کا ضروری ہے، ایسے ہی یہاں ہے ۔ولی ہونا، بزرگ ہونا، قطب ہونا، غوث ہونا الگ بات ہے، شیخ ہونا الگ بات ہے ۔ فن میں مہارت ہونا شیخ ہونے کے لوازم سے ہے ، باقی اس کا متقی ہونا ، زاہد ہونا، عابد ہونا مشیخت کی شرط نہیں۔ ہاں اگر شیخ ان اوصاف کے ساتھ بھی موصوف ہو تو اس کی تعلیم میں برکت ہوگی، نور ہوگا ۔(آداب ِ شیخ و مرید، صفحہ ۱۹۶)

حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ تعالیٰ کے یہ ملفوظات شیخ و مرید کے باہمی ربط اور آداب سے متعلق ہیں ۔ خود بھی پڑھیں اور دوستوں سے بھی شئیر کریں ۔
مزید ملفوظات پڑھنے کے لئے ہماری ویب سائٹ
https://readngrow.online
اپنے پاس محفوظ کرلیں ۔
اس طرح کے ملفوظات روزانہ اس واٹس ایپ چینل پر بھی بھیجے جاتے ہیں
https://whatsapp.com/channel/0029VaJtUph4yltKCrpkkV0r
چینل جوائن کریں

Most Viewed Posts

Latest Posts

دو لفظوں میں جملہ اخلاقِ رذیلہ کا علاج

دو لفظوں میں جملہ اخلاقِ رذیلہ کا علاج بسلسلہ ملفوظات حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی نور اللہ مرقدہ ارشاد فرمایا کہ مجھے طریق میں اس کا بہت خیال رہتا ہے کہ ایسی مختصر بات بتلائی جائے جو سب باتوں کو حاوی ہو چنانچہ ایک دفعہ میں نے اخلاقِ رذیلہ کا علاج دو لفظوں...

read more

سلوک کے طریق میں وساوس کا آنا بڑی نعمت ہے

سلوک کے طریق میں وساوس کا آنا بڑی نعمت ہے بسلسلہ ملفوظات حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی نور اللہ مرقدہ ارشاد فرمایا کہ سلوک کے طریق میں وساوس کا آنا بڑی رحمت کی چیز ہے کہ یہاں ایک دفعہ فیصلہ ہو جاتا ہے ، پھر مطمئن ہو جاتا ہے ورنہ بعض دفعہ وساوس موت کے وقت...

read more

باطنی امراض کے علاج کے لیے خداداد بصیرت

باطنی امراض کے علاج کے لیے خداداد بصیرت بسلسلہ ملفوظات حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی نور اللہ مرقدہ طالبین سلوک میں سے ایک شخص نے خط لکھا کہ مجھ میں کبر بہت ہے اور فرمایا کہ مجھے بھی محسوس ہوا کہ واقعی کبر ہے ، ان کا یہ احساس غلط نہیں۔ میں نے ان کے لیے یہ...

read more