شریعت و طریقت ایک ہی چیزہے
بسلسلہ ملفوظات حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی نور اللہ مرقدہ
ارشاد فرمایا کہ جھک مارتے ہیں جو ایسا کہتے ہیں کہ شریعت اور طریقت دو چیزیں ہیں ۔ ایک ہی چیز ہے مگر سہولت ِ تعبیر کے لیے اصطلاحاً اعمالِ ظاہرہ کے احکام کو شریعت کہتے ہیں اور اعمالِ باطنہ مامور بہا کے احکام کو طریقت۔ یہ صوفیہ کی اصطلاح ہے جو محض سہولت ِ تعبیر کے لیے الگ الگ نام رکھ لیا ہے۔اس اعتبار سے دو نام کہہ سکتے ہیں لیکن ان جاہلوں کی جو مراد ہے کہ دونوں میں تنافی بھی ہوسکتی ہے ، یہ جہل محض ہے۔ یہ تو جاہلوں کی غلطی تھی اور آج کل ایک غلطی میں اہلِ علم تک مبتلا ہیں کہ اوراد و وظائف کو طریق سمجھتے ہیں اور کیفیات کو ثمرہ جو محض غلط ہے ۔ نہ اوراد و وظائف طریق ہیں اور نہ کیفیات ثمرہ بلکہ اعمال ہی طریق ہیں اور مقصود رضائے حق ہے۔ اس سے آگے تحریف ہے ، ان ہی باتوں کی بدولت تو طریق بدنام ہوا اور اس میں لوگوںکو شبہات پیدا ہوئے۔(آداب ِ شیخ و مرید، صفحہ ۱۶۴)
حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ تعالیٰ کے یہ ملفوظات شیخ و مرید کے باہمی ربط اور آداب سے متعلق ہیں ۔ خود بھی پڑھیں اور دوستوں سے بھی شئیر کریں ۔
مزید ملفوظات پڑھنے کے لئے ہماری ویب سائٹ
https://readngrow.online
اپنے پاس محفوظ کرلیں ۔
اس طرح کے ملفوظات روزانہ اس واٹس ایپ چینل پر بھی بھیجے جاتے ہیں
https://whatsapp.com/channel/0029VaJtUph4yltKCrpkkV0r
چینل جوائن کریں

