شروحات کی بڑھتی ہوئی طلب بھی ایک فتنہ ہے (149)۔

شروحات کی بڑھتی ہوئی طلب بھی ایک فتنہ ہے (149)۔

درس نظامی میں استاذ کی حیثیت بہت بلند ہوتی ہے ۔ شاید اسی وجہ سے جب میں مدرسہ میں پڑھتا تھا تو شروحات پر پابندی ہوا کرتی تھی۔کیونکہ اکثر اوقات کثرت شروحات سے استاذ کے رتبہ میں فرق آنے لگتاہے ۔ بعض شرارتی طلبہ استاذ کو عزت دینے کی بجائے یہی سمجھ لیتے ہیں کہ ہم یہ سب باتیں شرح سے پڑھ کر تیار کرلیں گے ۔ اسی غلط فہمی میں وہ ناغے کرتے ہیں، درسگاہ میں بے توجہی سے بیٹھتے ہیں اور استاذ کی توقیر بھی کما حقہ نہیں کرتے ۔
جب 2003 میں مدرسہ میں پڑھتا تھا تو شروحات پرایسی پابندی تھی جیسے موبائل اور دیگر نازیبا لٹریچرپر ۔ اگر کسی کو بہت زیادہ ضرورت محسوس ہوتی تو وہ رات کو مطالعہ کے بعد لائبریری میں جا کر شروحات کو دیکھ کر اپنے نوٹس بنا لیتا تھا ۔
مگر افسوس کہ آج کل نت نئی شروحات کا ایک فتنہ بپا ہوچکا ہے ۔ لوگوں کو اب استاذ کی ذرہ برابر بھی قدر نہیں رہی ۔ طلبائے کرام ہر ہر شے کی شرح پہلے خرید لیتے ہیں ۔ میں ایک کتب خانہ چلاتا ہوں اور بہت افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ نیا درسی سال شوال میں شروع ہوتے ہی لوگ کتابیں کم اور شروحات زیادہ خریدتے ہیں ۔ میری اکثر کوشش ہوتی ہے کہ طالبعلم کو سمجھاؤں کہ بھائی تم ابھی کتابیں پڑھنا شروع کرو ۔کچھ دن بعد شرح خرید لینا لیکن فائدہ ندارد ۔
حیف صد حیف کہ ایسی ایسی کتابوں کی شرح بھی مارکیٹ میں اب طلب کی جارہی ہے جو کتابیں بذات خود شرح لکھی گئی تھیں ۔ اور شاید آپکو سن کر حیرانی ہو کہ اردو کتابوں کی بھی شرح طلب کی جاتی ہے ۔ علم الصرف اور علم النحو جو کہ بالکل ابتدائی درجہ کے لئے انتہائی آسان انداز میں لکھی گئی تھی تو کچھ لوگ اُسکی بھی شرح مانگ رہے ہوتے ہیں ۔ جب اُنکو سمجھایا جائے کہ بھائی یہ ابتدائی کتاب اردو میں ہے اور اسکی شرح نہیں ہے تو وہ مایوس ہوجاتے ہیں۔
خدارا اس روش کو بدلیں ! شروحات پر اکتفا کرنے والے نہ بنیں ۔ درسگاہ میں پوری توجہ سے بیٹھنے کو فرض سمجھیں اور اپنا رجسٹر لے کر بیٹھیں جس پر استاذ کی پڑھائی ہوئی باتیں نوٹ کریں اور سوال پیدا ہونے کی صورت میں استاذ سے رجوع کریں ۔ یہی اصل طریقہ ہے ۔ اور اسی میں بھلائی ہے ۔ میں نے جن بزرگ اساتذہ کو دیکھا وہ شروحات کا بہت ہی کم مطالعہ کرتے۔ اکثر اُنکے پاس اپنے ذاتی یادداشت کا دستہ ہوتا تھاجسکو اُنہوں نے خود لکھا ہوتاتھا۔
لیکن پھر جب سے یہ شروحات کا وائرس مارکیٹ میں پھیلا ہے تواپنا ذاتی نوٹس بنانے کا رواج ختم ہوتا جارہا ہے۔ ظلم درظلم یہ ہے کہ بجائے اکابراساتذہ شروحات لکھتے لیکن ہر فارغ التحصیل نئے فضلائے کرام نے اس میدان کو تختہ مشق بنا لیا۔ ہر استاذ اپنی شرح چھپوالیتے ہیں اور پھرطلبائے کرام کو سختی سے پابند کرتے ہیں کہ صرف وہی شرح مارکیٹ سے ڈھونڈ کرلائیںگےتو میں پڑھاؤنگا۔
یہ چند تجربات اور مشاہدات میرے سامنے آئے ہیں جو کہ غور طلب ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو نیک ہدایت نصیب فرمائے۔ آمین ۔

نوٹ : یہ ’’آج کی بات‘‘ ایک بہت ہی مفید سلسلہ ہے جس میں حذیفہ محمد اسحاق کی طرف سے مشاھدات،خیالات اور تجربات پر مبنی ایک تحریر ہوتی ہے ۔ یہ تحریر ہماری ویب سائٹ
Visit https://readngrow.online/ for FREE Knowledge and Islamic spiritual development.
پر مستقل شائع ہوتی ہے ۔ ہر تحریر کے عنوان کے آگے ایک نمبر نمایاں ہوتا ہے ۔ جس اسکی قسط کو ظاہر کرتا ہے کہ یہ کون سی قسط ہے ۔ پچھلی قسطیں بھی ہماری ویب سائٹ پر دستیاب ہیں ۔ اگر کوئی پیغام یا نصیحت یا تحریر آپکو پسند آتی ہے تو شئیر ضرور کریں ۔ شکریہ ۔
مزید اپڈیٹس کے لئے ہمارے واٹس ایپ چینل کو ضرور فالو کریں
https://whatsapp.com/channel/0029Vb0Aaif4o7qSPFms4g1M

Most Viewed Posts

Latest Posts

ظاہری حال سے شیطان دھوکا نہ دے پائے (326)۔

ظاہری حال سے شیطان دھوکا نہ دے پائے (326) دوکلرک ایک ہی دفتر میں کام کیا کرتے تھے ایک بہت زیادہ لالچی اور پیسوں کا پجاری تھا۔ غلط کام کا کوئی بھی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتاتھا۔ جہاں کہیں خیانت اور بددیانتی کا موقع ہوتا تو بڑی صفائی سے اُسکا صاف ستھرا...

read more

استاذ اور شاگرد کے درمیان تعلق مضبوط کیسے ہوگا؟ (325)۔

استاذ اور شاگرد کے درمیان تعلق مضبوط کیسے ہوگا؟ (325)۔ مدرسہ استاذ اور شاگرد کے تعلق کانام ہے۔جہاں پر کوئی استاذ بیٹھ گیا اور اس کے گرد چند طلبہ جمع ہوگئے تو وہ اک مدرسہ بن گیا۔مدرسہ کا اصلی جوہر کسی شاندار عمارت یا پرکشش بلڈنگ میں نہیں، بلکہ طالبعلم اور استاد کے...

read more

خلیفہ مجاز بھی حدودوقیود کے پابند ہوتے ہیں (324)۔

خلیفہ مجاز بھی حدودوقیود کے پابند ہوتے ہیں (324)۔ خانقاہی نظام میں خلافت دینا ایک اصطلاح ہے۔ جس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ صاحب نسبت بزرگ اپنے معتمد کو نسبت جاری کردیتے ہیں کہ میرے پاس جتنے بھی بزرگوں سے خلافت اور اجازت ہے وہ میں تمہیں دیتا ہوں ۔یہ ایک بہت ہی عام اور مشہور...

read more