شجرہ اسلام کی سبع سنابل

شجرہ اسلام کی سبع سنابل

۔1۔۔۔ علم شریعت

حکیم الاسلام قاری محمد طیب صاحب رحمہ اللہ اپنے رسالہ ’’علمائے دیوبند کا دینی رُخ اور مسلکی مزاج‘‘ کے آخر میں تحریر فرماتے ہیں:۔
پہلی بنیاد علم وحی ہے کہ اسی پر پورے دین کی عمارت کھڑی ہوئی ہے جس کی چار حجتیں ہیں: کتاب اللہ، سنت رسول اللہ، اجماع اُمت اور قیاس مجتہد، سنت رسول اللہ میں پانچ چیزیں داخل ہیں: (۱) قول نبوی (۲) فعل نبوی (۳) تقریر نبوی (۴) اثر نبوی یا رفعِ حکمی یعنی غیر قیاسی اور غیراجتہادی امر میں صحابی کا اثر جو حدیث مرفوع کے حکم میں ہوتا ہے اس لیے اسے اثر نبوی یا رفع حکمی ہی سے تعبیر کیا جاسکتا ہے۔
(۵) اور اجتہاد نبوی، مگر اس عنوان یعنی علم شریعت کے حصول میں شرط یہ ہے کہ وہ ان مستند علمائے دین اور مربیانِ قلوب کی تدریس و تربیت اور فیضان و صحبت و معیت سے حاصل شدہ ہو جن کے علم و عمل اور فہم و ذوق کا سلسلہ سند متصل کے ساتھ حضرت صاحب شریعت علیہ افضل الصلوٰت والتسلیم تک تسلسل کے ساتھ پہنچا ہوا ہو۔ نیز اس علم کی مرادات و معانی سلف صالحین کے اقوال اور تعامل میں محدود رہ کر سمجھی جائیں، خود رائی یا محض کتب بینی یا قوتِ مطالعہ اور محض عقلی تگ و تاز یا ذہنی کاوش کا نتیجہ نہ ہوں کہ اس کے بغیر حلال و حرام، مکروہ و مندوب، سنت و بدعت اور توحید و شرک کے مضمرات اور دقیق مخفیات میں امتیاز ممکن نہیں اور نہ ہی اس کے بغیر دیانات میں خود رو تخیلات، فلسفیانہ نظریات، بے بصرانہ توہمات اور ملحدوں کی شک اندازیوں سے نجات ہی ممکن ہے اس کے تین تقاضے ہیں:۔
۔1۔۔۔ ایک متشابہات کی مراد سپردِ خدا کردینا، معتزلہ کی طرح ان میں رائے زنی سے احتراز کرنا۔
۔2۔۔۔ دوسرے مشتبہات میں احوط پہلو پر عمل کرنا، شاطروں کی طرح شاذ نقول کی آڑ لے کر حیلہ جوئی سے کام نہ لینا۔
۔3۔۔۔ تیسرے محکمات میں سنت غالبہ پر چلنا جو عام صحابہ میں معروف ہو، ہوسناکوں کی طرح نقول مختلفہ یا روایات شاذہ کی آڑ نہ لینا۔
یہ بنیاد ایمان کے عنوان کے نیچے آتی ہے جس کی حقیقت ہی علم حقیقی اور معرفت باطنی ہے اور جس کا موضوع ہی اوہام و خیالات سے بچ کر ذہن و فکر میں اعتقادی استقامت اور راست روی پیدا کرنا ہے۔
ثُمَّ جَعَلْنٰکَ عَلٰی شَرِیْعَۃٍ مِّنَ الْاَمْرِ فَاتَّبِعْھَا وَلَا تَتَّبِعْ اَھْوَآئَ الَّذِیْنَ لَایَعْلَمُوْنَo (الجاثیہ:۱۸)
ترجمہ: ’’پھر ہم نے آپ کو دین کے ایک خاص طریقہ پر کردیا، سو آپ اسی پر چلے جائیں اور جہلاء کی خواہشوں پر نہ چلئے۔‘‘۔

۔2۔۔۔ کلامی ماتریدیت بتوافق اشعریت

دوسری بنیاد اہلسنّت والجماعت کے فکر کی روشنی میں ماتریدیہ اور اشاعرہ کے تنقیح کردہ اُصول پر عقائد حقہ کا استحکام کہ اس کے بغیر زائغین کی شک اندازیوں، فرقِ باطلہ کی قیاس آرائیوں اور اعتقادات کو ان کے اوہام و خیالات سے بچالے جانا ممکن نہیں، یہ شعبہ بھی ایمان کے نیچے آتا ہے جب کہ عقائد حقہ کے مجموعہ ہی کا نام ایمان ہے، اس کا اللہ نے ہم سے عہد لیا ہے۔
وَمَا لَکُمْ لَا تُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰہِ وَالرَّسُوْلُ یَدْعُوْکُمْ لِتُؤْمِنُوْا بِرَبِّکُمْ وَقَدْ اَخَذَ مِیْثَاقَکُمْ اِنْ کُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَo (الحدید:۸)
ترجمہ: ’’اور تمہارے لیے اس کا کون سبب ہے کہ تم اللہ پر ایمان نہیں لاتے حالانکہ رسول تم کو اس بات کی طرف بلا رہے ہیں کہ تم اپنے رب پر ایمان لاؤ اور خود خدا نے تم سے عہد لیا تھا اگر تم کو ایمان لانا ہو۔‘‘۔

۔3۔۔۔ تقلید فقہیت

یہ تیسری بنیاد، اسلامی فرعیات اور اجتہادی اختلافیات میں کسی معین فقہ کی عملی پیروی ہے کہ اس کے بغیر مختلف فیہ مسائل میں تحیر نیز ہوائے نفس اور ذہنی بے قیدی سے نجات ممکن نہیں اور نہ ہی غیرمجتہد کے لیے جو اجتہاد و استنباط کے لیے صلاحیت نہ رکھتا ہو تلفیق کے راستہ سے مختلف فقہوں میں دائر سائر رہ کر تلون و تذبذب اور استنباطی مسائل میں اختراعی قسم کی قطع و برید سے بچاؤ ممکن ہے۔
علماء دیوبند سلسلۂ اجتہادیات میں فقہ حنفی پر عمل پیرا اور اس کے اُصول تفقہ کے پابند ہیں جو اس فقہ کے تمام اجتہادیات اور استنباطی جزئیات میں یکسانی کے ساتھ روح کی طرح دوڑے ہوئے ہیں۔
پس تقلید فقہیت کے معنی درحقیقت اجتہادی جزئیات کی پابندی کے ہیں بلکہ ان کے اُصول تفقہ کی پابندی کے ہیں جن کے تحت اس فقہ کی تمام مختلف الابواب جزئیات آئی ہوئی ہیں اس لیے تلفیق کے راستہ سے مختلف فقہوں کی مختلف الابواب جزئیات میں دائر سائر رہنا کہ مثلاً نماز کے مسئلہ میں فقہ شافعی پر عمل ہو اور زکوٰۃ کے مسائل میں فقہ حنفی پر۔ گو بظاہر خوشنما محسوس ہوتا ہے کہ ہم ائمہ و فقہ کے اتباع سے باہر نہیں رہے لیکن یہ درحقیقت ایک فقہ کے اُصول تفقہ کو دوسرے فقہ کے اُصول سے ٹکرا کر دین میں تعارض پیدا کردینا ہے جو بلاشبہ غیرفقیہ کے لیے فسادِ مزاج کا سبب ہے۔ اس لیے فقہ معین کی تمام ہی جزئیات اگر زیرعمل ہوں گی تب ہی اس تضادِ فقہی سے بچاؤ ممکن ہوگا۔
ظاہر ہے کہ یہ تنگی (اگر اسے تنگی کہا جائے) صرف عمل کی حد تک ہے، علم اور عقیدہ کی حد تک نہیں جس سے علم محدود نہیں ہوتا صرف عمل محدود ہوتا ہے۔ پھر علم کے سلسلہ میں بھی کسی دوسرے فقہ پر حرف گیری یا طعن و تشنیع ان کے یہاں جائز نہیں جب کہ ہر اخلاقی جزئیہ میں اگر ایک فقہ اس کے صواب ہونے کا قائل ہے تو وہ مع احتمال الخطا اسے صواب کہتا ہے اور دوسرا فقہ اگر اسے خطا کہتا ہے تو مع احتمال الصواب خطا کہتا ہے۔ جیساکہ حدیث اجتہاد میں بھی خطا و صواب کا ہی تقابل ظاہر کیا گیا ہے نہ کہ حق و باطل کا۔ اس لیے مجتہد کو خطا پر ایک اجر اور صواب پر دو اَجر کا وعدہ دیا گیا ہے۔
اگر ایک جانب مقابل حق ہوکر باطل ہوتی تو اجر دیئے جانے کے کوئی معنی نہ ہوتے کیوں کہ باطل پر جس کا ارتکاب معصیت ہوتا ہے اجر کے بجائے زجر اور ثواب کے بجائے عذاب مرتب ہوتا لیکن جب کہ خطا و صواب دونوں پر اَجر کا وعدہ ہے تو یقینا وہ خطا معصیت کے دائرہ میں نہیں آسکتی، اس لیے کسی دوسرے فقہ یا مخالف فقیہ پر زبانِ طعن دراز کرنا اس کے مجتہد فیہ مسئلہ کو باطل ٹھہرانا ہے اور صراحتاً اس حدیث کا مقابلہ اور معارضہ ہے۔ بقول فقہاء کرام:۔
’’المجتہد یخطیٔ ویصیب فمن اصاب فلہ اجران ومن اخطأ فلہ اجر واحدٌ‘‘
ترجمہ: ’’مجتہد خطا بھی کرتا ہے اور صواب بھی، پس جس نے صواب کیا تو اس کے لیے دو اَجر ہیں اور اگر خطا کی تو اس کے لیے ایک اَجر ہے۔
اور اس بارہ میں اس مضمون کی حدیث بھی وارد ہے جسے مشکوٰۃ نے روایت کیا ہے:۔
’’اذا حکم الحاکم فاجتھد و اصاب فلہ اجر ان واذا حکم فاجتھدو اخطأ فلہ اجر واحد‘‘ (متفق علیہ)
ترجمہ: ’’جب کہ حاکم حکم کرے اور اجتہاد کرے، صواب پر ہو تو اس کے لیے دو اَجر ہیں اور اگر حکم کرے اور خطا پر ہو تو اس کے لیے ایک اَجر ہے۔‘۔‘۔
اس لیے علماء دیوبند اس بارے میں کسی تنگ نظری یا تعصب کا شکار نہیں کہ حنفی ہوتے ہوئے کسی بھی دوسرے فقہ یا ائمہ فقہ پر زبانِ طعن و تمسخر دراز کرنے کو جائز سمجھیں۔ چہ جائیکہ تمسخر و استہزاء کی جہالت و معصیت کے مرتکب ہوں۔
اس لیے وہ مسائل فرعیہ میں توجیہ کے قائل ہیں، تردید یا معاذ اللہ تکذیب کے قائل نہیں اور وہ جب کہ خود مجتہد نہیں تو ان مسائل میں مجتہدین ہی کی طرف رجوع کرنے کو حقیقت پسندی اور نجات کی راہ سمجھتے ہیں اس لیے بلااستثناء، تمام مجتہدین کی عظمت و عقیدت کو جو دین کے اولوالامر ہیں ماننا دینی فریضہ سمجھتے ہیں۔
وَلَوْرَدُّوْہُ اِلَی الرَّسُوْلِ وَاِلٰٓی اُولِی الْاَمْرِ مِنْھُمْ لَعَلِمَہُ الَّذِیْنَ یَسْتَنْبِطُوْنَہٗ مِنْھُمْo (النساء:۸۳)
ترجمہ: ’’اور اگر یہ لوگ اسے رسول کے یا اپنے میں سے صاحبانِ امر کے حوالے کردیتے تو ان میں سے جو لوگ استنباط کی صلاحیت رکھتے ہیں وہ اس کی حقیقت جان لیتے۔‘‘۔
ظاہر ہے کہ یہ شعبہ اسلام کے عنوان کے نیچے آتا ہے جو فقہ کا موضوع ہے جب کہ فقہ نام ہی اعمال مکلفین کے مجموعہ کا ہے جس میں منصوصات کے تحت اجتہادیات اور مسائل مستنبطہ سے بھی بحث کی جاتی ہے۔

۔4۔۔۔ پیرویٔ طریقت

چوتھی بنیاد محققین صوفیاء کے سلاسل اور اُصول مجربہ کے تحت جو کتاب و سنت سے ماخوذ ہیں تہذیب اخلاق، تزکیۂ نفس اور سلوکِ باطن کی تکمیل ہے کہ اس کے بغیر پاکیزگی و بصیرت، اعتدالِ اَخلاق، استقامتِ ذوق و فہم اور سلامت روی ذہن و ذکاء اور مشاہدۂ حقیقت ممکن نہیں۔ یہ شعبہ احسان کے نیچے آتا ہے۔
’’قَدْ اَفْلَحَ مَنْ زَکّٰھَاo وَقَدْ خَابَ مَنْ دَسّٰھَاo‘‘
ترجمہ: ’’یقینا وہ بامراد ہوا جس نے نفس کو پاک کرلیا اور یقینا وہ نامراد ہوا جس نے اس کو (فسق و فجور میں) دے دیا۔‘‘

۔5۔۔۔ دفاعِ زَیغ و ضلالت

پانچویں بنیاد متعصب گروہ بندوں اور اربابِ زیغ کے اُٹھائے ہوئے فتنوں کی مدافعت اور دین کے چوروں کی سازشوں اور ان کی چالاکیوں کی گہرائیوں کو سمجھ کر ان کا دفعیہ اور مجاہدانہ روح کے ساتھ حسب استطاعت ان کی مدافعت کی سعی کرنا ہے، خواہ وہ دینی اُمور ہوں یا ان میں حارج سیاسی اور ملکی قوانین ہوں کہ اس کے بغیر ازالۂ منکرات، رد بدعات و خرافات، انسدادِ شرکیات، اِصلاحِ رسوم و رواجات نیزد فاعِ سیاسیات اور مختصر لفظوں میں اعلائِ دین اور اعلاء کلمۃ اللہ ممکن نہیں۔
ظاہر ہے کہ یہ شعبہ دفاعِ فتن کی نوع کے نیچے آتا ہے جو معاشرت اور زیغ آلود فلسفیانہ اِزموں سے اُبھرتے ہیں اس لیے اس فن ہی سے معاشی فلسفوں اور سیاسی ازموں کی قلعی کھول کر اسلامی فکر اور ایمانی عقائد کو استدلالی رنگ سے دُنیا کے سامنے پیش کیا جاسکتا ہے۔ اب تک اگر دیانات کے سلسلہ میں علم کلام کی متعدد (ملل و نحل) تصنیف ہوئی ہیں تو آج ضرورت ہے کہ کوئی سیاسی و معاشی ’’ملل و نحل‘‘ بھی مرتب کی جائے جس میں جدید سیاسی افکار اور نئی معاشیات کے فلسفوں کو تقابلی مطالعہ کے ساتھ مرتب کیا جائے تاکہ اسلامی فکر اور اسلامی فلسفۂ معاشیات سامنے آ جائے۔ بہرحال ان فتن کی مدافعت بھی مقتضائِ قرآنی ہے جو مسلکِ حق کا جزو ہے۔
’’اِنَّ اللّٰہَ یُدَافِعُ عَنِ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا اِنَّ اللّٰہَ لَا یُحِبُّ کُلَّ خَوَّانٍ کَفُوْرٍo‘‘ (الحج:۳۸)
ترجمہ: ’’بے شک اللہ تعالیٰ مدافعت کرتے ہیں ایمان والوں کی، اللہ تعالیٰ کسی دغاباز کفر کرنے والے کو یقینا پسند نہیں فرماتے۔‘‘۔

۔6۔۔۔ جامعیت و اجتماعیت

چھٹی بنیاد جامعیت ہے جس کے معنی مسلک کے کامل اور جامع مانع ہونے کے ہیں جب کہ یہ مسلک اہلسنّت والجماعت ہی اسلام کا مظہر اتم ہونے کی وجہ سے جامعیت کے اونچے مقام پر ہے جس کے علمبردار علمائے دیوبند ہیں۔ اس لیے جب کہ یہ مسلک جامع احکام، جامع اقوام اور جامع زوایائے احکام ہے جس میں دین کے تمام اُصولی شعبے روایت و درایت، عقل و نقل، علم و عشق، قانون و شخصیت اور عدل و اقتصاد نیز اخلاقیات سب جمع ہیں جن سے مسلمانوں کی تربیت کی جاتی ہے تو کیسے ممکن تھا کہ اس میں سیاسی اور معاشی احکام نہ ہوں جو غلط قسم کے معاشی ازموں اور معاشرتی فلسفوں کی مدافعت کی قوت بھی لیے ہوئے ہوں۔
اس لیے یہ شعبہ اسلام کے عنوان کے نیچے آتا ہے۔ جیسے قرآن نے ’’اَلْیَوْمَ اَکْمَلْتُ لَکُمْ دِیْنَکُمْ‘‘ فرما کر دین اسلام کو کامل کیا ہے جس کے معنی ہی یہ ہیں کہ نہ وہ ناقص ہے کہ باہر سے اس میں کچھ لاکر ملایا جائے اور نہ فضولیات اور حشو و زوائد اس میں شامل ہیں کہ اُنہیں کم کرکے اسے پاک کیا جائے بلکہ وہ کامل ہے جس میں نہ زوائد ہیں جنہیں نکالنا پڑے نہ خلاء ہے جسے باہر سے پُر کرنا پڑے اور یہ وصف اعتدال ہی کا ہوسکتا ہے کہ نہ اس میں افراط ہو کہ اسے کم کرنا پڑے نہ تفریط ہو کہ اس میں اضافہ کرنا پڑے اور یہ شان عدل و اعتدال ہی کی ہوتی ہے کہ نہ کم ہوسکے نہ بڑھ سکے اور جب کہ یہی عدل اسلام اور مسلک اہلسنّت والجماعت کا خاص امتیازی جوہر ہے تو اسی کا خاص وصف جامعیت بھی ہوسکتا ہے۔
پھر اس کا ثمرۂ اجتماعیت ہے کہ تمام مسلم طبقات کو اس مسلکِ حق کے قدرِ مشترک سے جوڑ کر انہیں اُمت واحدہ بنایا جائے جب کہ ہر مسلک کے اجزاء صالحہ خود اسی کے اجزاء ہیں اور کل کو اپنے اجزاء کا اپنے اندر سمیٹ لینا فطرت کا تقاضا ہے جس سے اس کی اجتماعیت کھل جاتی ہے مگر یہ بھی ظاہر ہے کہ یہ اجتماعیت بغیر وسعتِ اخلاق اور معتدل فکر و جذبات کے پیدا ہونی ممکن نہ تھی اور وسعت اخلاق اور دوسرے لفظوں میں تعدیل اخلاق، تزکیۂ نفس ریاضات و مجاہدات کے ذریعہ اغراضِ نفسانی سے اسے پاک کیے بغیر حاصل ہونی ممکن نہ تھی۔ اس لیے یہ شعبہ احسان کے نیچے آتا ہے جس کا موضوع ہی تزکیہ نفس ہے، اسی سے اس مسلک کی د عوت ہمہ گیر ہوئی، مشرق و مغرب میں پھیلی اور اس نے تمام مسالک حقہ کی جماعتوں کو منافرت سے الگ رہ کر اپنے ساتھ ملانے کا نصب العین بنایا جو کامیاب ثابت ہوا۔
تاریخی طور پر دیکھا جائے تو یہی وسعت اخلاق کی پالیسی ہر دور میں کامیاب ثابت ہوئی ہے۔ ہندوستان میں حضراتِ صوفیاء کرام رحمہم اللہ نے اسی وسعتِ اخلاق سے اسلام کو ملک گیر بنایا جیساکہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے اسی وسعتِ اخلاق سے اسلام کو عالم گیر بنایا تھا، اس جامعیت و اجتماعیت کو ہم نے مقدمۂ تاریخ دارالعلوم دیوبند میں ذوقِ قاسمیت و رشیدیت سے تعبیر کیا ہے جب کہ ان دونوں بزرگوں میں یہ وسعتِ اخلاق اور محبت فاتح عالم بدرجۂ اتم موجود تھی جس سے دارالعلوم کی تعلیمات مشرق اور مغرب میں پھیل گئیں، اسی مقام کے بارے میں ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ:۔
یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَنْ یَّرْتَدَّ مِنْکُمْ عَنْ دِیْنِہٖ فَسَوْفَ یَاْتِی اللّٰہُ بِقَوْمٍ یُّحِبُّہُمْ وَیُحِبُّوْنَہٗٓ اَذِلَّۃٍ عَلَی الْمُؤْمِنِیْنَ اَعِزَّۃٍ عَلَی الْکٰفِرِیْنَ یُجَاھِدُوْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ وَلَا یَخَافُوْنَ لَوْمَۃَ لَآئِمٍo
ترجمہ: ’’اے ایمان والو! تم میں سے جو کوئی اپنے دین سے پھر جائے تو اللہ تعالیٰ بہت جلد ایسے لوگوں کو (وجود میں) لے آئیں گے جنہیں وہ چاہتے ہوں گے اور وہ اسے چاہتے ہوں گے۔ وہ مسلمانوں پر مہربان ہوں گے اور کافروں پر تیز ہوں گے۔ وہ اللہ کی راہ میں جہاد کریں گے اور کسی ملامت گر کی ملامت کا اندیشہ نہ کریں گے۔

۔7۔۔ اتباع سنت

ساتویں بنیاد اتباع سنت ہے جس کا نام اُسوۂ حسنہ ہے جس کے ذریعہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر ہر عمل کا نمونہ اپنے عمل مبارک سے اُمت کے سامنے رکھا جو اِن تمام انواعِ مذکورہ پر حاوی ہے۔ ظاہر ہے کہ اس کے بغیر اسلامی اعمال کی مطلوبہ ہئیتوں کے تحفظ اور بدعات مروجہ سے بچاؤ کی کوئی صورت نہیں اور نہ ہی عملی اسلام کا مطلوبہ نقشہ ہی قائم رہنا ممکن ہے۔
پس یہ جزو درحقیقت رأس الاجزاء اور تمام ظواہرِ شریعت کی اصل و اساس ہے۔ یہ نوع اسلام کے عنوان کے نیچے آتی ہے۔
لَقَدْ کَانَ لَکُمْ فِیْ رَسُوْلِ اللّٰہِ اُسْوَۃٌ حَسَنَۃٌ لِّمَنْ کَانَ یَرْجُوا اللّٰہَ وَالْیَوْمَ الْاٰخِرَ وَذَکَرَ اللّٰہَ کَثِیْرًاo (الاحزاب:۲۱)
ترجمہ: ’’تم لوگوں کیلئے یعنی اس کے لیے جو اللہ سے اور روزِ آخرت سے ڈرتا ہو اور کثرت سے ذکر الٰہی کرتا ہو، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) کا ایک عمدہ نمونہ موجود تھا۔‘‘۔
پس یہی علم شریعت، کلامی ماتریدیت بتوافق اشعریت، اتباع فقہیت، پیرویٔ طریقت، دفاعِ زیغ و ضلالت، جامعیت و اجتماعیت اور اتباع سنت اس مسلکِ اعتدال کے عناصر ترکیبی کا خلاصہ ہے جو ’’سَبْعَ سَنَابِلَ فِیْ کُلِّ سُنْبُلَۃٍ مِّاَۃُ حَبَّۃٍ‘‘ کا مصداق ہے۔
نوٹ: آئندہ صفحات میں آنے والا مضمون اسی مذکورہ مضمون کا تتمہ ہے جسے اہمیت کے پیش نظر نئے صفحہ سے دیا جارہا ہے۔ (مرتب)

Most Viewed Posts

Latest Posts

اَسلاف میں تقلیدِ معین عام تھی

اَسلاف میں تقلیدِ معین عام تھی چنانچہ سلف سے لے کر خلف تک اختلافی مسائل میں ایسے ہی جامع افراد کی تقلیدِ معین بطور دستور العمل کے شائع ذائع رہی ہے اور قرنِ صحابہ ہی سے اس کا وجود شروع ہوگیا تھا۔ مثلاً حدیث حذیفہ میں جس کو ترمذی نے روایت کیا ہے، ارشادِ نبوی ہے:انی...

read more

اَسلاف بیزاری ، عدمِ تقلید یا ایک وقت ایک سے زیادہ آئمہ کی تقلید کرلینے کے چند مفاسد

اَسلاف بیزاری ، عدمِ تقلید یا ایک وقت ایک سے زیادہ آئمہ کی تقلید کرلینے کے چند مفاسد حکیم الاسلام قاری محمد طیب صاحب رحمہ اللہ اپنے رسالہ ’’اجتہاد و تقلید‘‘ کے آخر میں تحریر فرماتے ہیں:۔۔۔۔۔ساتھ ہی اس پر غور کیجئے کہ اس ہرجائی پن اور نقیضین میں دائر رہنے کی عادت کا...

read more

سبع سنابل سے ماخوذاربعۃ انہار

سبع سنابل سے ماخوذاربعۃ انہار غور کیا جائے تو شرعی اصطلاح میں ان ساتوں سنابل کا خلاصہ چار ارکان:۔۔ 1ایمان 2اسلام 3احسان 4 اور اعلاء کلمۃ اللہ ہیںجو حقیقتاً انہارِ اربعہ ہیں۔ ’’نہران ظاہران و نہران باطنان‘‘ ایمان و احسان باطنی نہریں ہیں اور اسلام و اعلاء کلمۃ اللہ...

read more