شاہ اہل اللہ کی کمال حکمت
حضرت شاہ ولی اﷲ دہلویؒ کے بھائی شاہ اہل اﷲ تھے ۔۔۔۔وہ فرماتے ہیں کہ میں رات کے وقت کمرے میں مطالعہ کررہا تھا ۔۔۔۔سامنے ایک سانپ کو میں نے دیکھا تو اسے مار دیا ۔۔۔۔اگلی رات کو دو بندے آئے کہ حضرت ایک فیصلے کے لئے ہمارے ساتھ چلے جائیں وہ مجھے جنگل لے گئے ۔۔۔۔وہاں بڑی مخلوق بیٹھی تھی ۔۔۔۔میں سمجھ گیا کہ انسانوں کی مجلس نہیں بلکہ جنات کی مجلس ہے ۔۔۔۔ ایک شخص مدعی بن کر کھڑا ہوگیا اور کہا کہ قاضی صاحب! اس انسان نے میرے بھائی کو مارا ہے مجھے اپنا حق چاہئے ۔۔۔۔شاہ اہل اﷲ صاحب کھڑے ہوگئے کہ میں نے آج تک کسی کو نہیں مارا ہے مدعی نے کہا کہ تمہارے گھر میں جو سانپ آیا تھا وہ میرا جن بھائی تھا ۔۔۔۔حضرت شاہ اہل اﷲ نے کہا کہ میں نے ابودائود شریف میں ایک حدیث پڑھی ہے کہ جس نے اپنی شکل تبدیل کی اور خطرناک شکل میں وہ مارا جائے تو اس کا خون معاف ہے ۔۔۔۔میں نے اسے سانپ سمجھ کر مارا تھا نہ کہ جن سمجھ کر اس پر جنات کے قاضی صاحب نے فیصلہ شاہ اہل اﷲ کے حق میں دیا ۔۔۔۔قاضی صاحب نے کہا کہ یہ حدیث میں نے اپنے کانوں سے رسول پاک صلی اﷲ علیہ وسلم سے سنی تھی پھر اسے باعزت طور پر بری کردیا ۔۔۔۔چلتے چلتے حضرت شاہ اہل اﷲ صاحب نے جنات کے قاضی صاحب سے فرمایا کہ آپ چونکہ رسول پاک صلی اﷲ علیہ وسلم کے صحابی بھی ہیں اور انہیں دیکھا بھی ہے تو یہ حدیث جو آپ صلی اﷲ علیہ وسلم سے آپ نے سنی ہے مجھے سنادیں ۔۔۔۔تاکہ آپ میرے استاد بن جائیں ۔۔۔۔ (درِ کامل)
اگرآپ کو یہ واقعہ پسند آیا ہے تو اسکو شئیر ضرور کریں اور اس طرح کے دیگر اسلامی واقعات اور اولیاء اللہ کے حالات و تذکرے آپ ہمارے ویب سائٹ
https://readngrow.online
پر بالکل مفت میں پڑھ سکتے ہیں ۔
تمام اسلامی مواد اور دیگر کیٹگریز کو دیکھنے کے لئے یہ لنک وزٹ کریں
https://readngrow.online/readngrow-categories/
نیز ہم اس ویب سائٹ کی مفید چیزوں کو اس واٹس ایپ چینل پر بھی شئیر کرتے رہتے ہیں ۔
https://whatsapp.com/channel/0029VaviXiKHFxP7rGt5kU1H
یہ چینل فالو کرلیں ۔

