شارٹ کٹ کام نہ کروائیں!! اگرچہ مفت میں ہو (140)۔

شارٹ کٹ کام نہ کروائیں!! اگرچہ مفت میں ہو (140)۔

ہر محکمہ میں عام طور پر اور سرکاری محکمہ میں خاص طور پر ایک اصول یہ یاد رکھیں کہ اگر کوئی شخص آپکو شارٹ کٹ طریقے سے کام کرکے دے رہا ہے تو اُس سے کام کبھی نہ کروائیں ۔ کیونکہ یہ مستقبل کےلئے مستقل ایک خطرہ بھی ہو سکتا ہے ۔میرا مشورہ یہ ہے کہ اگر کوئی شخص فری میں بھی شارٹ کٹ کام کرکے دے رہا ہو تو نہ کروائیں۔
بلکہ ہمیشہ متعلقہ محکمہ کی پالیسی اور اصول و ضوابط کو معلوم کرکے اُنکے ساتھ چلیں ۔ مثلاً اگر آپ نے بجلی کا میٹر لگوانا ہے تو اُسکا صحیح طریقہ یہ ہے کہ بجلی کے میٹر کی جو ضروریات ہیں اور جو مطلوبہ چیزیں ہیں وہ پوری کرکے پھر لگوائیں ۔ غلط طریقہ یہ ہے کہ آپ محکمہ میں جاتے ہیں اور وہاں کوئی شخص آپکو یہ کہتا ہے کہ پانچ ہزار روپیہ میں آپکا میٹر لگ جائیگا ۔ آپ پیسے مجھے دے دیں ۔ !!! تو ایسے طریقہ سے میٹر لگ بھی گیا تو غلط کام ہی ہوا ۔
اولاً تو یہ شرعاً بھی حرام ہے کیونکہ یہ رشوت کے زمرے میں آتا ہے دوسرا یہ چیز قانوناً کرپشن کے زمرے میں آتی ہے ۔ تیسری بات یہ ہے کہ اس طریقہ کار کا عملی زندگی میں بھی شدید ترین نقصان ہوتا ہے کہ جو بھی آپکا کام شارٹ کٹ دو نمبر طریقے سے کرکے دے گا تو وہ یقیناً کچھ نہ کچھ ایسا غلط کرے گا جس سے آپکا کام تو فوری طور پر ہوجائیگا مگر بعد میں نقصان بھی آپکا ہی ہوگا ۔
مثلاً ایک شخص نے دوکان بنانی تھی اور روڈ کے اوپر ہی دوکان بنانے کے لئے اُسکو اجازت چاہئے تھی ۔ جب وہ متعلقہ دفتر میں گیا تو وہاں چپڑاسی صاحب نے کہا کہ آپکا کام ہوجائیگا بس مجھے پچاس ہزار روپیہ جمع کروادیں ۔ انہوں نے شارٹ کٹ کا آفر فائدہ اٹھاتے ہوئے پیسے جمع کروا دئیے۔ اور پھر کام ہوگیا اور دوکان بھی بن گئی ۔ لیکن دس سال بعد وہ دوکان اچانک گرا دی گئی ۔
جب یہ صاحب وہاں معلوم کرنے گئے تو پتہ چلا کہ اِنکو چپڑاسی نے جو اجازت لے کر دی تھی وہ کوئی آفیشل طریقے سے نہیں تھی بلکہ افسر کو بل پیش کیا گیا اور افسر نے اپنا ذاتی لیٹر بنا کر دے دیا ۔ جب تک وہ افسر کرسی پر موجود رہا تو کوئی پوچھ گچھ نہ کرسکا ۔ لیکن جونہی اُسکا تبادلہ ہوا اور نیا افسر آیا تو اُس نے تجاوزات کے نام پر پہلے ہی دن اسکی دوکان گرا دی ۔ اب کاروبار کا نقصان الگ ہوا، پیسے بھی ضائع ہوئے اور حکومت کو شکایت کرنے کے بھی قابل نہ رہا کیونکہ غلط طریقے سے جو کام کروایا ہوا تھا ۔
اسی طرح کچھ لوگ واپڈا کا میٹر غلط طریقے سے لگواتے ہیں جس کی وجہ سے وہ کبھی بھی آفیشل شکایت نہیں لکھوا سکتے بلکہ پھر وہ اُسی شخص کو فون کرتے ہیں اور وہ شخص ہر مرتبہ پیسے مانگ کر کوئی نہ کوئی ٹال مٹول کرلیتا ہے ۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ غلط کام کا انجام ہمیشہ غلط ہی ہوگا ۔
اس لئے دوستو ! تھوڑی سی مشقت اور پریشانی کو برداشت کرلو اور جس بھی محکمہ سے کام نکلوانا ہے اُسکے اصول اور پالیسی کو سمجھ کر پھر اُسکے مطلوبہ کاغذات کو پورا کرکے پھر کام نکلواؤ ۔ اس سے آپکے کاموں میں بھی برکت ہوگی اور مستقبل میں بھی کوئی پریشانی نہ ہوگی ۔اللہ تعالیٰ ہم سب کو ہدایت عطا فرمائے۔ آمین

نوٹ : یہ ’’آج کی بات‘‘ ایک بہت ہی مفید سلسلہ ہے جس میں حذیفہ محمد اسحاق کی طرف سے مشاھدات،خیالات اور تجربات پر مبنی ایک تحریر ہوتی ہے ۔ یہ تحریر ہماری ویب سائٹ
Visit https://readngrow.online/ for FREE Knowledge and Islamic spiritual development.
پر مستقل شائع ہوتی ہے ۔ ہر تحریر کے عنوان کے آگے ایک نمبر نمایاں ہوتا ہے ۔ جس اسکی قسط کو ظاہر کرتا ہے کہ یہ کون سی قسط ہے ۔ پچھلی قسطیں بھی ہماری ویب سائٹ پر دستیاب ہیں ۔ اگر کوئی پیغام یا نصیحت یا تحریر آپکو پسند آتی ہے تو شئیر ضرور کریں ۔ شکریہ ۔
مزید اپڈیٹس کے لئے ہمارے واٹس ایپ چینل کو ضرور فالو کریں
https://whatsapp.com/channel/0029Vb0Aaif4o7qSPFms4g1M

Most Viewed Posts

Latest Posts

ظاہری حال سے شیطان دھوکا نہ دے پائے (326)۔

ظاہری حال سے شیطان دھوکا نہ دے پائے (326) دوکلرک ایک ہی دفتر میں کام کیا کرتے تھے ایک بہت زیادہ لالچی اور پیسوں کا پجاری تھا۔ غلط کام کا کوئی بھی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتاتھا۔ جہاں کہیں خیانت اور بددیانتی کا موقع ہوتا تو بڑی صفائی سے اُسکا صاف ستھرا...

read more

استاذ اور شاگرد کے درمیان تعلق مضبوط کیسے ہوگا؟ (325)۔

استاذ اور شاگرد کے درمیان تعلق مضبوط کیسے ہوگا؟ (325)۔ مدرسہ استاذ اور شاگرد کے تعلق کانام ہے۔جہاں پر کوئی استاذ بیٹھ گیا اور اس کے گرد چند طلبہ جمع ہوگئے تو وہ اک مدرسہ بن گیا۔مدرسہ کا اصلی جوہر کسی شاندار عمارت یا پرکشش بلڈنگ میں نہیں، بلکہ طالبعلم اور استاد کے...

read more

خلیفہ مجاز بھی حدودوقیود کے پابند ہوتے ہیں (324)۔

خلیفہ مجاز بھی حدودوقیود کے پابند ہوتے ہیں (324)۔ خانقاہی نظام میں خلافت دینا ایک اصطلاح ہے۔ جس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ صاحب نسبت بزرگ اپنے معتمد کو نسبت جاری کردیتے ہیں کہ میرے پاس جتنے بھی بزرگوں سے خلافت اور اجازت ہے وہ میں تمہیں دیتا ہوں ۔یہ ایک بہت ہی عام اور مشہور...

read more