سوداگر کی شرافت
دوسری طرف شریف سوداگرنے بھی اپنی بیوی کے حقوق میں کوئی کمی نہ کی۔ اپنے رویے میں کوئی تبدیلی نہ آنے دی اور ہمیشہ کی طرح اسی خلوص و محبت سے بیوی کے ساتھ سلوک کرتا رہا۔ شوہر کے اس نیک برتائو نے بیوی کو سوچنے پر مجبور کردیا اور اس نے یہ طے کرلیا کہ وہ شوہر کے اس جائز حق میں ہرگز روڑا نہ بنے گی۔ اس نے سوچا کہ آخر میاں مجھ سے ظاہر کرکے بھی تو دوسرا نکاح کرسکتا تھا۔ میاں نے اس طرح چھپا کر یہ نکاح کیوں کیا۔ اسی لئے تو میرے دل کو تکلیف ہوگی۔ میں سوکن کو برداشت نہ کرسکوں گی۔
کتنا پیارا ہے میرا شوہر‘ اس نے میرے نازک جذبات کا کیسا خیال رکھا‘ پھر اس نے اس نئی دلہن کی محبت میں مست ہوکر میرا کوئی حق بھی تو نہیں مارا۔ اس کے سلوک اور محبت میں بھی تو کوئی فرق نہیں آیا۔ آخر مجھے کیا حق ہے کہ میں اس کو اس حق سے روکوں جو خدا نے اس کو دے رکھا ہے مجھ سے زیادہ ناشکرا اور نالائق کون ہوگا۔ جو ایسے مہربان شوہر کے جائز جذبات کا لحاظ نہ کرے اور اس کے دل کو تکلیف پہنچائے۔ بیوی یہ سوچ کر بالکل ہی مطمئن ہوگئی۔ سوداگر بیوی کا خوش گوار سلوک اور محبت کا برتائو دیکھ کر یہی سمجھتا رہا کہ شاید خدا کی اس بندی کو یہ راز معلوم نہیں ہے اور پوری احتیاط کرتا رہا کہ کسی طرح معلوم نہ ہونے پائے اور دونوں ہنسی خوشی پیارو محبت کی زندگی گزارتے رہے آخر کچھ سالوں کے بعد سوداگر کی زندگی کے دن پورے ہوئے اور اس کا انتقال ہوگیا۔ سوداگرنے چونکہ دوسری شادی شہر سے دور بہت خاموشی سے کی تھی اس لئے اس کے رشتہ داروں میں بھی کسی کو بھی یہ راز معلوم نہ تھا۔ سب یہی سمجھتے رہے کہ سوداگر کی بس یہی ایک بیوی تھی۔ چنانچہ جب ترکے کی تقسیم کا وقت آیا تو لوگوں نے یہی سمجھ کر ترکہ تقسیم کیا اور اس نیک بیوی کو اسکا حصہ دے دیا۔ سوداگر کی بیوی نے بھی اپنا حصہ لے لیا اور یہ پسند نہ کیا کہ اپنے شوہر کے اس راز کو فاش کرے جو زندگی بھر سوداگر نے لوگوں سے چھپایا۔ لیکن اس نیک بی بی نے یہ بھی گوارا نہ کیا کہ وہ سوداگر کی دوسری بیوی کا حق مار بیٹھے‘ بے شک کسی کو یہ خبر نہ تھی اور نہ اس کی طرف سے کوئی دعویٰ کرنے والا تھا۔ لیکن اللہ تعالیٰ کو تو سب کچھ معلوم تھا جس کے حضور ہر انسان کو کھڑے ہوکر اپنے اچھے برے اعمال کا جواب دینا ہے۔
سوداگر کی بیوہ یہ سوچ کر کانپ گئی اور اس نے یہ طے کرلیا کہ جس طرح بھی ہوگا وہ اپنے حصے میں سے آدھی رقم ضرور اپنی سوکن بہن کو بھجوائے گی۔ اس نے ایک نہایت معتبر آدمی کو یہ ساری بات بتا کر اپنے حصے کی آدھی رقم اس کے حوالے کی اور اپنی سوکن بہن کے پاس روانہ کیا اور اس کے یہاں کہلوایا کہ افسوس! آپ کے شوہر اس دنیا سے رخصت ہوگئے۔ اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت فرمائے۔
مجھے ان کی جائیداد اور ترکے میں سے جو کچھ ملا ہے اسلامی قانون کی رو سے آپ اس میں برابر کی شریک ہیں میں اپنے حصے کی آدھی رقم آپ کو بھیج رہی ہوں۔ امید ہے کہ آپ قبول فرمائیں گی۔ یہ پیغام اور رقم بھیج کر نیک بی بی بہت مطمئن تھیں ان کو ایک روحانی سکون تھا۔ کچھ ہی دنوں میں وہ شخص واپس آگیا اور اس نے وہ ساری رقم واپس لا کر سوداگر کی بیوہ کو دی سوداگر کی بیوہ فکر مند ہوئیں اور وجہ پوچھی۔ قاصد نے جیب سے ایک خط نکالا اور کہا اس کو پڑھ لیجئے اس میں سب کچھ لکھا ہے آپ فکر مند نہ ہوں۔
اگرآپ کو یہ واقعہ پسند آیا ہے تو اسکو شئیر ضرور کریں اور اس طرح کے دیگر اسلامی واقعات اور اولیاء اللہ کے حالات و تذکرے آپ ہمارے ویب سائٹ
https://readngrow.online
پر بالکل مفت میں پڑھ سکتے ہیں ۔
تمام اسلامی مواد اور دیگر کیٹگریز کو دیکھنے کے لئے یہ لنک وزٹ کریں
https://readngrow.online/readngrow-categories/
نیز ہم اس ویب سائٹ کی مفید چیزوں کو اس واٹس ایپ چینل پر بھی شئیر کرتے رہتے ہیں ۔
https://whatsapp.com/channel/0029VaviXiKHFxP7rGt5kU1H
یہ چینل فالو کرلیں ۔

