سفر و آداب سفر سے متعلق سنتیں

سفر و آداب سفر سے متعلق سنتیں

سفر کی حالت میں ذکر الٰہی کی فضیلت

حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مرفوعاً روایت ہے کہ جو شخص سفر کی حالت میں خدا کے ذکر میں لگا رہتا ہے تو فرشتے اس کے ہم سفر ہو جاتے ہیں اور اگر شعر و شاعری میں مشغول رہتا ہے تو شیطان اس کا رفیق سفر بن جاتا ہے۔ (کنزالعمال:۳؍۳۸)
فائدہ: مطلب یہ ہے کہ ذکر، تلاوت، دینی اعمال میں لگا رہتا ہے تو حضرات ملائکہ کی برکت اور ان کی رفاقت پاتا ہے۔ اگر دُنیاوی باتوں میں مشغول رہتا ہے یا اِدھر اُدھر کی واہی تباہی اور فضول گویائی میں مصروف رہتا ہے تو شیطان اس کا ہم سفر ہو جاتا ہے۔
نہایت ہی افسوس کی بات ہے کہ بعضوں کو دیکھا گیا ہے کہ دُنیاوی رسائل، ناول، افسانہ وغیرہ جیسی واہی کتابیں سفر میں رکھتے ہیں اور اسے دیکھتے ہیں جو بالکل صلحاء کے طریق اور اسلامی مزاج کے خلاف اُمور ہیں۔ تسبیح، دینی اور دُعاؤں کی کتابوں کو ساتھ میں رکھنے کا معمول بنائیں تاکہ سفر اعمالِ حسنہ کے ساتھ طے ہو اور خدائے پاک کی رحمت و برکت نازل ہو، کبھی ذکر کبھی تلاوت، کبھی دینی کتابوں کا مطالعہ کرتا ہوا سفر کی منزل طے کرے۔ ’’اللّٰھم وفقنا لما تحب و ترضٰی‘‘۔

حالت سفر کے چھ اہم کام

حضرت علی مرتضیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا ارشاد ہے:شرافت و انسانیت کے چھ اہم کام ہیں: تین حضر کے، تین سفر کے۔ حضر کے تین یہ ہیں: مسجدوں کو آباد کرنا، ایسے دوستوں کی جمعیت بنانا جو اللہ تعالیٰ اور دین کے کاموں میں امداد کریں اور سفر کے تین کام یہ ہیں: اپنے توشہ سے غریب ساتھیوں پر خرچ کرنا، حسن خلق سے پیش آنا اور رفقاء سفر کے ساتھ ہنسی خوشی، تفریح اور خوش طبعی کا طرزِ عمل رکھنا۔ بشرطیکہ یہ خوش طبعی گناہ کی حد میں داخل نہ ہو جائے۔ (معارف القرآن:۱؍۲۹۰)

آداب سفر کا بیان

احادیث و آثار کی روشنی میں علماء محققین نے یہ آداب بیان کیے ہیں:۔
۔(۱)…جب سفر کا ارادہ ہو تو اہل حقوق کے حقوق، قرض خواہوں کے قرض وغیرہ ادا کردیئے جائیں۔ لوگوں کی امانتیں واپس کردی جائیں۔ (حقوق ادا کرے یا بطیب خاطر معاف کرائے)۔
۔(۲) … اہل و عیال کے نفقہ کا معقول و مناسب انتظام کر جائے، ان کو کلفت و پریشانی و فکر معاش میں نہ ڈال جائے کہ حق واجب کو تلف کرنا ہے۔
۔(۳) … اپنے لیے خرچہ سفر کا معقول انتظام کرلے تاکہ سفر میں اسے دوسروں کے سامنے دست سوال نہ پھیلانا پڑے اور اندازہ سے زائد ہی رکھے تاکہ فراخی سے صرف کرسکے اور دوسروں کی خدمت بھی کرسکے۔
۔(۴) … سفر میں خوش اخلاق و نرم طبیعت سے رہے۔ تحمل اور مزاج میں وسعت رکھے، تیز مزاج نہ رہے، ذرا ذرا سی بات پر غصہ نہ ہو، کسی بات سے متاثر ہوکر پریشان نہ ہو۔
۔(۵) … رفقاء سفر کے ساتھ احسان و سلوک کا معاملہ رکھے۔ ہر ممکن طریقے سے ان کی اعانت کرے۔ دوسروں کی اعانت کا خواہش مند نہ ہو، کردے تو خدا کا شکر، بندے کا احسان سمجھے۔
۔(۶) … رفیق سفر تلاش کرلے تاکہ سفر میں سہولت ہو اور وحشت نہ ہو۔ اس سے پاخانہ، پیشاب، وضو، غسل اور دیگر ضروریات میں بڑی اعانت حاصل ہوتی ہے۔
۔(۷) … رفیق دین دار، خوش اخلاق ہو تاکہ دینی اُمور میں اس کی اعانت حاصل کرسکے، بد دینوں کی صحبت سے برا اثر نہ پڑے۔
۔(۸) … متعدد افراد ہوں تو ایک کو اپنا امیر بنالے، اختلاف کے وقت اس کا فیصلہ سب کے حق میں قابل قبول ہو اور بوقت ضرورت اس کی طرف رجوع کرے۔
۔(۹) … امیر کی اطاعت کرے اس کی مخالفت نہ کرے تاکہ اتفاق، اتحاد اور جمعیت قائم رہے۔
۔(۱۰) … امور مشورہ سے طے کرے جو من میں آئے اسے نہ کربیٹھے۔ مشورہ سے خیر کا پہلو نمایاں اور ظاہر ہوتا ہے۔ مشورہ میں جو طے ہو جائے تو اسی کو اختیار کرے، اگر خلاف مزاج یا توقع کے خلاف ہو جائے تو انکار، رد اور طعن نہ کرے، درگزر کرے۔ اگر اس کی بات نہ مانی جائے متاثر نہ ہو۔
۔(۱۱) … سفر میں جانے والے کو اعزہ و اقارب اور رفقاء و احباب رُخصت کریں۔
۔(۱۲) … جاتے وقت رفقاء و احباب کو اللہ کے سپرد کریں اور ان کو دُعائیں دیں اور ان سے دُعائیں لیں، اس سے جانے والا خدا کی حفاظت میں ہو جاتا ہے۔
۔(۱۳) … سفر میں جاتے وقت احباب و رفقاء اور بڑوں سے مل لے، سلام و مصافحہ کرے، ان کی دُعا لے اور ان کی نصیحت قبول کرے۔
۔(۱۴) … اہم سفر سے قبل استخارہ کرے (کب جائے، کس طرح جائے) جو استخارہ کرلیتا ہے اس کا انجام بخیر ہوتا ہے۔ خواہ ابتداء ً اس کا نفع ظاہر نہ ہو اور استخارہ کرلینے سے اطمینان بھی رہتا ہے۔
۔(۱۵)…سفر کے قبل دو رکعت نماز یا چار رکعت نماز پڑھ لے، حدیث پاک میں دونوں کا ذکر ہے۔
۔(۱۶) … بہتر ہے کہ سفر جمعرات کے دن کرے، یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا محبوب اور پسندیدہ دن تھا سفر کے لیے۔
۔(۱۷) … علی الصبح سفر شروع کرے کہ دن کے اوّل حصہ میں برکت ہے۔
۔(۱۸) … جمعہ کا دن نہ ہو تو بہتر ہے لیکن جمعہ کا وقت آجائے تو بلا جمعہ پڑھے سفر شروع نہ کرے۔
۔(۱۹) … دوپہر میں سفر کرے تو ظہر کی جماعت کے بعد سفر کرے۔
۔(۲۰) … گھر سے جب نکلنے کا ارادہ کرے تو دُعائیں جو سفر کے متعلق وارد ہیں ان کو پڑھ لے۔ (جو دُعائیں مسنون کے باب میں مذکور ہیں)۔
۔(۲۱) … جب بلندی پر چڑھے تو تکبیر اور جب نشیب میں آئے تو تسبیح کا معمول رکھے۔
۔(۲۲) … جب کسی منزل پر اُترے اور قیام کرے تو وہاں دو رکعت نماز پڑھے اور دُعائے مسنون پڑھے تاکہ قیام کے دوران کی برائیوں اور تکلیف دہ اُمور سے محفوظ رہے۔
۔(۲۳) … جب قیام کے بعد کوچ کرے تو دو رکعت نماز پڑھ کر سفر شروع کردے۔
۔(۲۴) … رات میں سفر زیادہ طے کرے کہ زمین رات میں لپٹتی ہے اور سفر میں سہولت رہتی ہے۔
۔(۲۵) … رات میں تنہا (پیدل) سفر نہ کرے۔ (البتہ گاڑیوں پر کوئی حرج نہیں)۔
۔(۲۶) … اپنے رفقاء سے علیحدہ نہ ہو، بسا اوقات رفقاء کے لیے زحمت ہو جاتی ہے، اگر کسی ضرورت سے ہو تو انہیں بتا دے۔
۔(۲۷) … اگر سفر کی حالت میں شب میں سوئے تو آرام سے سوئے اور اگر آخر شب میں سوئے تو بازو کو اُٹھا کر سر کو ہتھیلی پر رکھ کر آرام فرمائے تاکہ گہری نیند نہ آئے اور فجر کا وقت نیند و غفلت میں نہ گزرے کہ نماز قضا ہو جائے۔
۔(۲۸) … اگر سواری ہے تو اس کی بھی رعایت کرے، اگر جانور ہے تو اس کے دانہ پانی اور تعب کا خیال رکھے۔ (اگر آج کل کی سواری موٹر کار وغیرہ ہے اس کی بھی رعایت کرے، اس پر اور اس کی مشین پر کوئی اثر نہ پڑے، اس کی مشین وغیرہ کی رعایت کرے ورنہ سفر میں زحمت اُٹھانی پڑے گی)۔
۔(۲۹) … سامان سفر اپنے ساتھ رکھے، جن چیزوں کی ضرورت پڑتی ہے ان کو سفر میں اپنے ساتھ ضرور رکھے تاکہ وقت پر دوسروں کا محتاج نہ ہو اور پریشان نہ ہو۔ آئینہ، کنگھی (جب کہ سر کے بال بڑے ہوں) تیل کی شیشی، قینچی، اسی طرح لوٹا، صابن، لنگی، چادر، کھانے کے برتن وغیرہ تاکہ پریشان اور دوسروں کا محتاج نہ ہو۔ (۳۰) … جس شہر یا بستی میں جائے اگر وہاں والدین ، اقرباء و رشتہ دار ہوں تو ان سے ملاقات اور جب مزاج و موقع ہو خدمت و صحبت کی نیت کرلے کہ رشتہ داروں کی ملاقات و زیارت ثواب کا کام ہے اور والدین کی خدمت و زیارت کا تو کیا کہنا!
۔(۳۱) … جہاں قیام کررہا ہے یا جانے کا ارادہ ہے وہاں کے مشائخ اور بزرگوں کی ملاقات و زیارت کا ارادہ کرلیں کہ لقائے بزرگاں مستقل نیکی اور ثواب کا کام ہے۔
۔(۳۲) … شہر یا بستی میں داخل ہو تو ضرورت وغیرہ سے فارغ ہوکر اکابرین و مشائخ سے ملاقات کرے اور ان کے مرتبہ کا خیال کرے اور اس کے مناسب برتاؤ کرے۔
۔(۳۳) … اگر بزرگ اندر ہوں تو ان کے دروازے کو نہ کھٹکھٹائے بلکہ ان کا خود انتظار کرے، وہ خود ہی باہر آئیں تو ان سے ملاقات کرے۔
۔(۳۴) … وقت اور فرصت ہو تو ان کی مجلس اور صحبت و خدمت سے فائدہ اُٹھائیں۔ کچھ پوچھنا اور معلوم کرنا ہو تو ان سے ا جازت لے لیں تاکہ وہ کبیدہ خاطر نہ ہوں۔
۔(۳۵) … جس شہر اور بستی میں جانا ہو وہاں کے وفات شدہ مشائخ ا ور اولیاء اللہ کی قبروں کی زیارت کرے۔ معلوم نہ ہو تو وہاں کے واقفین سے معلوم کرے۔
۔(۳۶) … سفر کے دوران جو فتوحات ہوں ان کا ذکر نہ کرے۔ جن عجائبات و غرائبات کا مشاہدہ ہو تو بقدر ضرورت بیان کرے۔ (ایسے طور پر نہ ہو کہ بڑائی ظاہر ہو)
۔(۳۷) … سفر میں عیش اور عشرت و کسی دُنیاوی اُمور میں مشغول رہنا اچھا نہیں، اس سے سفر کی برکت ختم ہو جاتی ہے۔
۔(۳۸) … (اگر سیاحت مقصود ہو تو) کسی شہر یا بستی میں ہفتہ، عشرہ سے زیادہ قیام نہ کرے۔ البتہ مشائخ یا جن کے یہاں قیام ہو وہی زیادہ کا حکم کریں تو دوسری بات ہے ورنہ اگر کسی دوست یا ملاقاتی کے یہاں رہنا ہو تو تین دن سے زیادہ نہ ٹھہرے کہ مہمانی کی یہی حد ہے۔ اگر کسی شیخ یا عالم کی زیارت و ملاقات کے لیے جائے تو ایک دن سے زیادہ قیام نہ کرے کہ بزرگوں کو تکلیف دینا اچھی بات نہیں اور زیارت کے لیے ۲۴ گھنٹے کا وقت کافی ہے ۔
۔(۳۹) … بلاضرورت شدیدہ کے اپنی حاجت کسی سے نہ کہے، اگرچہ جانتا ہو کہ قبول کرلے گا۔ البتہ خدائے پاک سے خوب الحاح کے ساتھ دُعا کرے اور کوئی خود اعانت کرے تو قبول کرے۔
۔(۴۰) … سفر میں کسی وقت بھی غافل نہ رہے ، ہمیشہ ذکر و فکر میں لگا رہے۔ خلاصہ یہ کہ دل کو یادِ خدا سے معمور رکھے، غفلت کو اور نامناسب اُمور کو پاس نہ آنے دے۔
۔(۴۱) … جب سفر کی حالت میں عبادت و طاعت میں کچھ کمی محسوس کرے، دین کا نقصان ہو تو چاہیے کہ سفر منقطع کردے اور سمجھ لے کہ یہ سفر اس کے حق میں ضرر رساں ہے۔
۔(۴۲) … سفر کرنے والے کو چاہیے کہ اپنے اندر سے نفس کی خواہشات اور مرغوبات نکالے، پھر کوئی بری عادت ہو تو اس کو زائل کرے، پھر سفر کرے تاکہ سفر میں ذلیل و خوار نہ ہو۔
۔(۴۳) … اگر سفر سے مقصد دین ہو، صلحاء کی زیارت ہو اور اپنے ہی وطن میں صلحاء و فقراء کی خدمت میسر آجائے تو پھر سفر نہ کرے، ان کو چھوڑ کر دوسری جگہ جانا ناشکری ہے کہ گھر کی نعمت کی قدر نہ کی اور بلاوجہ سفر کیا۔ البتہ مشائخ اور مرشدین حضرات سفر کا حکم دیں کہ جاؤ اب تم دوسری جگہ سفر کرو تو پھر دوسری بات ہے۔
۔(۴۴) … واپسی سفر کے آداب میں سے یہ ہے کہ جب سفر کا مقصد پورا ہو جائے تو واپسی میں جلدی کرے کہ بلاضرورت حالت سفر میں رہنا اچھا نہیں۔
۔(۴۵) … واپسی سفر میں بھی وہی آداب ہیں جو سفر میں چلنے کے آداب تھے۔ مثلاً: کسی منزل پر اُترے اور رُخصت ہونے لگے تو دو رکعت نماز پڑھ لے وغیرہ وغیرہ۔
۔(۴۶) … واپسی سفر میں احباب و متعلقین و اہل و عیال کے لیے بقدر وسعت کوئی تحفہ، ہدیہ، کھانے پینے کی چیز ضرور لے لے کہ وہ منتظر رہتے ہیں، ان کی مسرت اور باہم ازدیاد محبت کا ذریعہ ہے۔
۔(۴۷) … واپسی کی تمام مسنون دُعائیں ورد میں رکھے۔
۔(۴۸) … وطن رات میں پہنچنے کی ترتیب نہ بنائے۔ البتہ پہلے سے اطلاع کردے یا ہو جائے یا اکثر سفر کی نوبت آتی رہتی ہے تو دوسری بات ہے۔
۔(۴۹) … گھر میں رات میں داخل نہ ہو بلکہ کسی اور جگہ، مسجد یا عام جگہ قیام کرلے کہ گھر میں رات میں داخل ہونا منع ہے۔ پھر صبح گھر اہل و عیال میں داخل ہو۔ البتہ شروع رات ہو۔ مثلاً مغرب و عشاء کا وقت یا اس کے درمیان ہو تو پھر گھر میں آنا بہتر ہے۔
۔(۵۰) … جب بستی اور شہر میں داخل ہو تو سیدھے گھر نہ آئے بلکہ اوّلاً مسجد جائے، وہاں دوگانہ ادا کرے، پھر گھر کا رُخ کرے۔
۔(۵۱) … مسجد میں دوگانہ ادا کرنے کے بعد اگر لوگ ملاقاتی ہوں اور ملنے آئیں تو ان سے ملاقات کرے۔ ان سے سلام و کلام کے بعد گھر میں داخل ہو۔
۔(۵۲) … جب گھر میں داخل ہو تو سلام کے ساتھ داخل ہو۔ ان میں جن سے زیادہ تعلق ہو اوّلاً ان سے ملے، پھر تمام اہل و عیال سے ملے۔
۔(۵۳) … اگر مسجد میں اوّلاً نہ گیا گھر میں آگیا، وقت مکروہ نہ ہو تو طہارت، وضو و غسل کے بعد دو رکعت پڑھ لے، پھر ملاقات و گفت و شنید کرے۔
۔(۵۴) … گھر میں داخل ہونے کے وقت مسنون دُعائیں ورد میں رکھے۔
۔(۵۵) … اہل و عیال و متعلقین وغیرہ کی خیریت معلوم کرے۔
۔(۵۶) … احباب اور متعلقین کے لیے ادب ہے کہ وہ آنے والے کی زیارت اور ملاقات کو جائے۔
۔(۵۷) … (اہم سفر سے واپسی ہو تو) واپسی سفر پر احباب و متعلقین کی وسعت و حیثیت کے مطابق خلوص نیت سے دعوت کریں جو ریا یا فخر مباہات سے خالی ہو کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بعد واپسی سفر پر دعوت کی ہے۔
۔(۵۸) … مستحب ہے کہ آمد سے قبل آنے کی اطلاع کردے تاکہ اچانک داخل ہونا نہ ہو۔ (ہدایۃ السالک:۱۴۲۳)
۔شرح احیاء میں ہے کہ اپنے آنے کی اطلاع اہل خانہ کو بھیج دے۔ (شرح احیاء:۴؍۴۳۱)
۔(۵۹) … اگر گھر کے بچے گھر پہنچنے سے قبل پہنچ جائیں یعنی استقبال کے لیے تو ان بچوں کو اپنے ساتھ سواری میں لانا مسنون ہے۔
۔(۶۰) … سفر سے واپس آنے پر مسجد میں دوگانہ ادا کرنے کے بعد اسی قریب میں اگر کوئی صاحبزادی خصوصاً چھوٹی ہو تو اپنے بیوی بچوں میں پہنچنے سے پہلے اس صاحبزادی کے پاس آئے، اس کے بعد گھر آئے۔
۔(۶۱) … سفر کے بعد گھر آنے پر متصلاً روزہ نہ رکھے بلکہ احباب اور رفقاء کے ساتھ کھانے میں شریک رہے۔ بعد میں پھر نفل یا قضا روزہ رکھے۔ یہ حکم احباب کی رعایت کے لیے ہے۔ حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما کا یہی معمول تھا۔
۔(۶۲) اگر سفر میں کسی وجہ سے فرض نمازیں قضا ہوگئی ہوں تو ملاقات اور ضروریات سے فارغ ہوکر اوّلاً ان قضا نمازوں کو اطمینان کے ساتھ ادا کرے۔ پھر دوسری مصروفیتوں میں مشغول ہو۔
’’اللّٰھم وفقنا لاتباع سنۃ سیّد الکونین لما تحب وترضٰی‘‘

چند فقہی مسائل

مسئلہ: شرعی مسافر پر قصر واجب ہے، خواہ کتنی ہی سہولت و راحت کے ساتھ ہو۔ ظہر، عصر اور عشاء میں فرض چار رکعت کے بجائے دو رکعت پڑھی جائے گی۔ مغرب، فجر اور وتر کی نمازوں میں قصر نہیں ہے۔ (شامی:۲؍۱۲۳)
مسئلہ: سنتوں اور نفلوں میں قصر نہیں ہے۔ ان کو جب پڑھے گا پوری پڑھے گا۔ (شامی:۱۲۳)
مسئلہ: شرعی مسافر جو اپنے وطن سے ۴۷ میل انگریزی یا آج کل کے اعتبار سے ساڑھے ۷۷ کلومیٹر سفر کے ارادہ سے نکلے گا، خواہ سفر کیسا ہی ہو وہ شرعی مسافر ہو جائے گا۔ (فتاویٰ رحیمیہ:۵؍۵)
مسئلہ: مسافر اس وقت تک قصر کرتا رہے گا جب تک کہ وطن نہ لوٹ جائے یا ۱۵؍دن قیام کا ارادہ نہ کرے۔ (ردالمحتار:۱۲۵)
مسئلہ: مسافر جب سفر شروع کرے اور اپنی بستی کی آبادی سے باہر آجائے اور نماز کا وقت آجائے تو قصر شروع کردے گا۔ (شامی:۱۲۱)
مسئلہ: اگر اسٹیشن بستی کی آبادی سے باہر ہے تو یہاں بھی قصر کرے گا۔ اگر آبادی کے اندر ہے تو قصر نہ کرے گا۔ یہی حکم بس اسٹینڈ وغیرہ کا ہے۔ (درمختار:۲۲۱، جواہر الفقہ:۲؍۲۸۹)
خواہ بستی اور شہر کی حدود وسیع و عریض کیوں نہ ہوں، جیسے بڑے بڑے شہر کراچی، لاہور وغیرہ۔ شہر کے مختلف محلے ایک ہی بستی کے حکم میں ہوں گے۔ (جواہر الفقہ:۴؍۲۹۱)
مسئلہ: سفر سے جب وطن اصلی میں آجائے گا، خواہ ایک ہی ساعت کے لیے ہو تو اتمام یعنی پوری چار رکعت پڑھے گا۔ (جواہر الفقہ:۴؍۲۹۲)
وطن اصلی: جہاں اس کی پیدائش ہو، اس کے والدین کا سکونت و قیام ہو یا اس کے بیوی بچے رہتے ہوں، اپنا مکان، جائیداد وغیرہ ہویا اہل و عیال وغیرہ تو نہ ہوں مگر اس کا مستقل قیام رہتا ہو اور یہاں سے منتقل ہونے کا ارادہ نہ ہو تو ایسا وطن، وطن اصلی ہے یہاں کے قیام پر اور واپس آنے پر اتمام واجب ہوگا۔ (درمختار، شامی:۱۳۲)
وطن اقامت: جہاں مستقل طور پر قیام اور دائمی طور پر رہنے کا ارادہ نہ ہو بلکہ ملازمت یا تجارت وغیرہ کی وجہ سے مقیم ہو، جب ملازمت ختم ہو جائے گی، تجارت و معیشت کا سلسلہ ختم ہو جائے گا تو یہاں سے منتقل ہو جائے گا، جیسے دارالمدرسین میں مدرسین کا قیام، سرکاری کوارٹروں میں ملازمین کا قیام وغیرہ اور پندرہ دن سے زائد کے قیام کا ارادہ ہو تو یہ وطن اقامت ہے۔ (البحرالرائق:۱۳۶؍۳)
مسئلہ: وطن اقامت میں ۱۵؍دن سے کم کے قیام کا ارادہ ہو تو قصر واجب ہوگا اور سفر سے آنے پر جب تک کہ مسلسل ۱۵؍دن کے قیام کا ارادہ نہ ہو تو قصر ہی کرتا رہے گا۔ (ہندیہ:۱؍۱۳۹)
مسئلہ: وطن اقامت صرف سفر کی نیت سے باطل نہیں ہوتا، تاوقتیکہ شرعی سفر نہ کرے۔ (شامی:۱۳۲)
مسئلہ: وطن اقامت، وطن اقامت سے باطل ہو جاتا ہے، خواہ سفر شرعی طے ہو یا نہ ہو۔ (رحیمیہ:۴؍۷)
مسئلہ: وطن اقامت سے جب سفر شروع کرے گا اور یہ سفر شرعی ۴۸؍میل ساڑھے ۷۷ کلومیٹر کے ارادہ سے ہوگا تو یہ شخص مسافر ہو جائے گا۔ (مراقی:۲۴۹)
مسئلہ: وطن اصلی سے دوسرا وطن اصلی باطل ہو جاتا ہے (اور کبھی نہیں بلکہ دونوں وطن اصلی رہتے ہیں)۔ (ہندیہ:۱؍۱۴۲)
مثلاً: ایک مدت سے ایک شخص کسی مقام پر مع اہل و عیال کے تھا، اب اس مقام کو چھوڑ کر دوسرے مقام پر رہنے لگا اور مستقل قیام کرلیا، وہاں کا قیام متروک ہوگیا تو پہلا وطن اصلی ختم ہو جائے گا، اب یہ شخص اگر پہلے وطن میں جائے گا اور اس کی مسافت ۷۷ کلومیٹر ہے تو مسافرت کی وجہ سے ۱۵؍دن سے کم قیام پر قصر کرے گا۔ (ہندیہ:۱؍۱۴۲)
مسئلہ: اگر وطن اصلی میں جائیداد مکان وغیرہ ہے اور وہاں بھی جاتا ہے۔ اسے بالکل نہیں چھوڑا ہے تو پہلا وطن بھی وطن اصلی رہے گا۔ (فتح القدیر:۲؍۱۵)
اس سے معلوم ہوا کہ وطن اصلی متعدد ہوسکتے ہیں۔
مسئلہ: وطن اصلی، وطن اقامت سے باطل نہیں ہوتا۔ اگر کوئی شخص کسی مقام پر بلاوطن بنائے رہنے لگ جائے، اس کے بعد وہ وطن اصلی جائے تو وہاں مقیم ہو جائے گا اور اتمام کرے گا۔ (علم الفقہ:۱۳۳)
مسئلہ: وطن اصلی سے وطن اقامت میں جائے گا تو اس وقت تک مقیم کا حکم نہ ہوگا جب تک کہ وہاں ۱۵؍دن کی نیت نہ کرے گا۔(علم الفقہ:۱۳۵)
مسئلہ:عورت شادی کے بعد اگر میکے (والدین کے یہاں) جائے گی اور ۱۵؍دن سے کم قیام کرے گی تو نماز میں قصر کرے گی، چونکہ عورت کے لیے یہ وطن اصلی نہ رہا، وطن اقامت ہوگیا۔ عام طور پر عورتیں اس مسئلہ سے واقف نہیں ہوتیں۔ (امداد:۱؍۵۷۹)
مسئلہ: اگر کوئی آدمی اپنے سسرال جا رہا ہے اور وہ شرعی مسافت کی حد میں ہے تو ایسی صورت میں وہ قصر کرے گا۔ (رحیمیہ:۵؍۱۰)
اگر کوئی شخص سسرال ہی میں رہنے لگ جائے اور وہیں مستقل قیام ہو جائے تو وہ قصر نہ کرے گا۔(رحیمیہ:۵؍۱۰)
مسئلہ:اگر کوئی شخص روزانہ ملازمت کی وجہ سے ساڑھے ۷۷ کلومیٹر کا سفر کرکے دفتر یا آفس یا فیکٹری آتا ہے تو ایسا شخص مسافر ہو جائے گا۔ جب نماز پڑھے گا تو قصر کرے گا اور گھر واپس آجائے گا تو پوری نماز پڑھے گا۔ (رحیمیہ:۵؍۱۲)
مسئلہ: ریل کا گارڈ یا ڈرائیور، اسی طرح بس کنڈیکٹر اور ڈرائیور وغیرہ جب اپنے وطن سے دور ساڑھے ۷۷ کلومیٹر جانے کا ارادہ رکھے گا تو مسافر ہونے کی وجہ سے قصر کرے گا۔ تاوقتیکہ وطن لوٹ نہ آئے۔ (احسن الفتاویٰ)
مسئلہ: جو لوگ ہمیشہ سفر کرتے رہتے ہیں مثلاً سیاح وغیرہ تو یہ لوگ بھی قصر کریں گے۔ (احسن الفتاویٰ:۴؍۸۷)
مسئلہ: اگر مسافر نے کسی مقام پر شادی کرلی اور قیام کرلیا تو وہ بھی مقیم ہو جائے گا، چاہے ۱۵؍دن کا ارادہ نہ کرے۔ (شامی:۲؍۱۳۵)
مسئلہ:اگر کسی نے دریا میں یا جنگل میں ۱۵؍دن قیام کا ارادہ کرلیا تو اس کا اعتبار نہیں۔ (شرح تنویر:۲؍۱۲۶)
مسئلہ: پانی کے جہاز میں ۱۵؍دن یا ایک ماہ تک رہنا پڑے تب بھی وہ مسافر ہی رہے گا۔ (ایضاً)
مسئلہ: اگر راستے میں کئی دن ٹھہرنے کا ارادہ ہو۔ دس دن یہاں، پانچ دن وہاں، دو دن وہاں، پورے ۱۵؍ دن کا ارادہ کسی ایک مقام پر نہ ہوا تو مسافر ہی رہے گا۔ (درمختار:۲؍۱۲۱)
مسئلہ:اگر کوئی شخص ۱۵؍دن قیام کا ارادہ کرے مگر دو مقام ہیں اور ان مقاموں میں اس قدر فاصلہ ہو کہ ایک مقام کی اذان کی آواز دوسرے مقام نہیں جاتی، مثلاً ۱۰ روز مکہ مکرمہ میں، ۵ روز منٰی میں تو ایسی صورت میں وہ مسافر ہی رہے گا۔
مسئلہ: شہر کے دو محلوں میں قیام کیا تو وہ ایک ہی مقام کے حکم میں ہیں۔ لہٰذا مقیم ہو جائے گا۔ مثلاً دس دن جامع مسجد دہلی کے حلقہ میں رہا اور ۵؍دن نظام الدین میں رہا تو مقیم ہو جائے گا۔ (ردالمحتار:۲؍۱۲۶)
مسئلہ: اگر کوئی شخص دن کو تو مختلف مقام پر قیام کرتا ہے مگر رات کو ایک مقام پر آ جاتا ہے تو جہاں رات گزار رہا ہے، اسی کا اعتبار ہوگا اور ۱۵؍رات گزارنے پر وہ مقیم ہو جائے گا اور اس سے کم پر مسافر رہے گا۔(درمختار)
مسئلہ: شہر کے مختلف محلوں میں ۱۵؍دن رُکنے کا ارادہ ہے۔ اگر ایک ہی شہر یا بستی کے مختلف محلوں میں رُکنے کا ارادہ ہے تو مقیم ہو جانے کی وجہ سے اتمام کرنا پڑے گا۔ (ہندیہ:۱؍۱۳۹)
مسئلہ: سفر اور اقامت کی نیت میں شوہر کا اور امیر جماعت کا اعتبار ہوگا۔ (شامی:۲؍۱۳۳)
مسئلہ: اگر کسی نے حالت سفر میں کسی مقام پر ارادہ کیا کہ پانچ، چھ دن رُک کر چلا جاؤں گا مگر ایسے حالات، ایسی ضرورت پیش آئی کہ ایک دن، دو دن کے بعد جانے کا ارادہ کرتا رہا۔ اسی حالت میں ۱۵؍دن سے زائد گزرگئے تو وہ مسافر ہی رہے گا اور قصر کرتا رہے گا۔ (شامی:۲؍۱۲۶)
مسئلہ: مسافر مقیم کو نماز پڑھا سکتا ہے مگر وقت کے اندر پڑھا سکتا ہے اور وقت کے بعد ظہر، عصر اور عشاء کی امامت نہیں کرسکتا۔ ہاں فجر و مغرب کی امامت کرسکتا ہے۔ (ہندیہ:۱؍۱۴۲)
مسئلہ: مسافر اگر مقیم کو نماز پڑھائے تو پہلے بتا دے کہ میں مسافر ہوں، دو رکعت پڑھوں گا۔ چنانچہ جب سلام پھیرے تو کہہ دے کہ میں مسافر ہوں اپنی دو رکعت پوری کرلو۔ (ہندیہ:۱؍۱۴۲)

مقیم کا اپنی دو رکعت نماز پڑھنے کا طریقہ

مسئلہ: دو رکعتوں کے قیام کی حالت میں کچھ نہ پڑھے، خاموش رہے۔ یعنی فاتحہ اور سورۃ کی مقدار خاموش کھڑا رہے۔ رکوع، سجدہ، تشہد میں حسب سابق پڑھے۔ (شامی)
مسئلہ: تنہا مسافر نے بھول کر ۴؍رکعت نماز پڑھ لی، اگر دوسری رکعت میں تشہد پڑھ کر کھڑا ہوا تھا تب تو اس کی نماز ہوگئی، صرف سجدہ سہو کرنا ہوگا اور نماز ہوگئی۔ اگر سجدہ سہو نہیں کیا تو وقت کے اندر نماز کا دوبارہ ۲؍رکعت پڑھنا واجب ہوگا۔ اگر دوسری رکعت پر تشہد کے لیے نہیں بیٹھا تھا بلکہ سیدھے کھڑا ہوگیا تھا تو اب نماز نہ ہوگی، دوبارہ پھر سے پڑھنا پڑے گی۔(درمختار:۲؍۱۲۸)
مسئلہ: مقیم امام کے پیچھے اگر مسافر نماز پڑھے تو اقتداء کی وجہ سے پوری پڑھے گا۔ (نورالایضاح:۱۰۱)
مسئلہ: مسافر امام جمعہ کی نماز پڑھا سکتا ہے، اس میں کوئی کراہت نہیں۔
مسئلہ: مسافر کی نماز جو مقیم کے پیچھے پڑھ رہا تھا، کسی وجہ سے فاسد ہوگئی تو بعد میں جب اعادہ کرے گا تو ۲؍رکعت کا کرے گا۔ (شامی:۲؍۱۳۰)
مسئلہ: مسافر اگر مسبوق ہوگیا، یعنی امام کے پیچھے نماز پڑھ رہا تھا اور اس کی کچھ رکعت چھوٹ گئی تو وہ بعد میں ۴؍رکعت ہی کے اعتبار سے پورا کرے گا۔ (احسن الفتاویٰ:۴؍۸۳)
مسئلہ: مسافر امام نے غلطی سے امامت کرتے ہوئے بجائے ۲؍رکعت کے ۴؍رکعت پڑھا دی تو مقیم مقتدیوں کی نماز نہ ہوگی، ان کو ۴؍رکعت دوبارہ پڑھنی ہوگی۔ البتہ اس مسافر امام کی نماز جب کہ دوسرا قعدہ کیا ہو، ہو جائے گی۔ (شامی)

سفر میں سنتوں کے متعلق

مسئلہ: سفر میں جب قیام کی حالت ہو تو سنتوں کا چھوڑنا بہتر نہیں، تمام سنتوں کو ادا کرے۔ خصوصاً فجر کی سنتوں کو ہرگز نہ چھوڑے۔ البتہ سیر اور چلنے کی حالت میں، مثلاً اسٹیشن پر نماز ادا کررہا ہے، گاڑی یا جہاز پر نماز ادا کررہا ہے تو ایسی حالتوں میں سنتوں کو چھوڑ دے تو اجازت ہے۔ (شامی:۲؍۱۳۱)
مسئلہ: مسافر شرعی کو اختیار ہے کہ رمضان المبارک کے روزے خواہ سفر میں رکھے یا نہ رکھے مگر وطن واپس آنے کے بعد تمام روزوں کی قضاء کرنی پڑے گی۔ (ہندیۃ:۱؍۱۳۸)
مسئلہ: مسافر جب حالت سفر میں نماز پڑھے تو اس کے لیے اذان اور اقامت مندوب و مستحب ہے۔ (البحرالرائق:۱؍۲۷۹)
مسئلہ: اگر ازدحام کی وجہ سے یا کسی اور وجہ سے اذان کا موقع نہ ہو تو صرف اقامت پر اکتفا کرنا بہتر ہے۔ (الشامی:۱؍۳۹۴)

سفر کی دُعاؤں کا بیان … جب ارادۂ سفر کرے تو کیا دُعا پڑھے؟

حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سفر کا ارادہ فرماتے تو یہ دُعا پڑھتے:۔
۔’’اَللّٰھُمَّ بِکَ اَصُوْلُ وَبِکَ اَجُوْلُ وَبِکَ اَسِیْرُ‘‘ (مسند بزار برجال ثقات، مجمع:۱۰؍۱۳۰)
’’اے اللہ! میں آپ ہی کی مدد سے حملہ کرتا ہوں، آپ ہی کی اعانت سے گھومتا ہوں، آپ ہی کی مدد سے سیر کرتا ہوں۔‘‘
حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب گھر سے بارادہ سفر نکلتے تو نکلتے وقت یہ دُعا پڑھتے:۔
۔’’اٰمَنْتُ بِاللّٰہِ، اِعْتَصَمْتُ بِاللّٰہِ، تَوَکَّلْتُ عَلَی اللّٰہِ، لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلاَّ بِاللّٰہِ‘‘ (ابن سنی فیہ راوی مجہول:۴۳۹)
’’میں ایمان لایا اللہ پر، میں نے مضبوطی سے پکڑا اللہ کو، بھروسہ کیا میں نے اللہ پر، نہ کسی کو طاقت نہ قوت سوائے اللہ کے۔‘‘
عبداللہ بن سرجس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سفر فرماتے تو یہ دُعا پڑھتے:۔
۔’’اَللّٰھُمَّ اَنْتَ الصَّاحِبُ فِی السَّفَرِ وَالْخَلِیْفَۃُ فِی الْاَھْل، اَللّٰھُمَّ اَصْحِبْنَا فِیْ سَفَرِنَا وَاخْلُفْنَا فِی اَھْلِنَا اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَعُوْذُبِکَ مِنْ وَّعْثَآئِ السَّفَرِ وَ کَأبَۃِ الْمُنْقَلَبِ وَالْحَوْرِ بَعْدَ الْکَوْرِ وَدَعْوَۃِ الْمَظْلُوْمِ وَسُوْئِ الْمَنْظَرِ فِی الْاَھْلِ وَالْمَالِ‘‘ (مسلم، ابن ماجہ، ابن سنی:۴۴۱، بسند حسن)
۔’’اے اللہ! آپ ہی رفیق ہیں سفر میں اور نائب ہیں گھر والوں میں۔ اے اللہ! ہمارے سفر میں آپ ہمارے رفیق بن جائیں اور ہمارے اہل و عیال میں ہمارے نائب ہو جائیں۔ اے اللہ! میں پناہ مانگتا ہوں آپ کی، سفر کی پریشانیوں سے اور بری حالت کے آنے سے اور گناہوں کی طرف لوٹنے سے اور مظلوم کی بددعا سے اور اہل و مال پر برا منظر دیکھنے سے۔‘‘۔
حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سفر کا ارادہ فرماتے تو جس وقت مجلس سے اُٹھتے یہ دُعا پڑھتے:۔
۔’’اَللّٰھُمَّ بِکَ انْتَشَرْتُ وَاِلَیْکَ تَوَجَّھْتُ وَبِکَ اِعْتَصَمْتُ، اَللّٰھُمَّ اَنْتَ ثِقَتِیْ وَرِجَائِیْ، اَللّٰھُمَّ اکْفِنِیْ مَا اَھَمَّنِیْ وَمَا لَا اَھْتَمُّ بِہٖ وَمَآ اَنْتَ اَعْلَمُ بِہٖ مِنِّیْ وَزَوِّدْنِی التَّقْوَیٰ وَاغْفِرْلِیْ ذَنْبِیْ وَ وَجِّھْنِیْ لِلْخَیْرِ حَیْثُ مَا تَوَجَّھْتُ‘‘ (بیہقی فی السنن، ابن سنی:۴۴۵، مجمع:۱۳۰، فیہ راوضعیف)
پھر آپ سفر کے لیے نکل جاتے۔
۔’’اے اللہ! میں آپ کی مدد سے منتشر ہوتا ہوں اور آپ کی طرف متوجہ ہوتا ہوں اور آپ ہی کی حفاظت میں آتا ہوں۔ آپ ہی میرے معتمد ہیں اور میری اُمید ہیں۔ اے اللہ! آپ کافی ہو جائیں ان معاملوں میں جو اہم ہیں اور جو اہم نہیں ہیں اور اس میں جو آپ ہم سے زیادہ جانتے ہیں اور تقویٰ کا توشہ مرحمت فرمائے۔ ہمارے گناہوں کو معاف فرمادیجئے اور جہاں بھی رُخ کروں، خیر کی جانب رُخ کردیجئے۔‘‘۔
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب سفر کا ارادہ فرماتے تو یہ دُعا پڑھتے:۔
۔’’اَللّٰھُمَّ اَنْتَ الصَّاحِبُ فِی السَّفَرِ وَالْخَلِیْفَۃُ فِی الْاَھْلِ، اَللّٰھُمَّ اَصْحِبْنَا بِنُصْحٍ وَاَقْلِبْنَا بِذِمَّۃٍ، اَللّٰھُمَّ زَوِّلَنَا الْاَرْضَ وَھَوِّنْ عَلَیْنَا السَّفَرَ، اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَعُوْذُبِکَ مِنْ وَّعْثَآئِ السَّفَرِ وَکَأبَۃِ الْمُنْقَلَبِ‘‘ (ترمذی:۲؍۱۸۱، مسند احمد:۲؍۴۰۱ بسند حسن، الدعا:۱۱۷۴)
۔’’اے اللہ! آپ ہی مصاحب ہیں سفر میں، نائب ہیں اہل میں، اے اللہ! بھلائی کے ساتھ ہمارا مصاحب بن جا، اپنی حفاظت میں ہمیں واپس فرما۔ اے اللہ! سمیٹ دیجئے زمین کو، آسان فرمادیجئے سفر کو۔ اے اللہ! میں پناہ مانگتا ہوں سفر کی تھکان سے اور بری حالت کے آنے سے۔‘‘۔
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب سفر کے لیے نکلتے تو یہ دُعا فرماتے:۔
۔’’اَللّٰھُمَّ بَلَاغًا یَبْلُغُ خَیْرًا وَمَغْفِرَۃً مِّنْکَ وَرِضْوَانًا بِیَدِکَ الْخَیْرُ اِنَّکَ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیْرٌ۔ اَللّٰھُمَّ اَنْتَ الصَّاحِبُ فِی السَّفَرِ وَالْخَلِیْفَۃُ فِی الْاَھْلِ، اَللّٰھُمَّ ھَوِّنْ عَلَیْنَا السَّفَرَ وَاطْوِلَنَا الْاَرْضَ، اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَعُوْذُبِکَ مِنْ وَّعْثَآئِ السَّفَرِ وَکَأبَۃِ الْمُنْقَلَبِ‘‘ (ابن سنی:۴۴۲، ابویعلی، مجمع:۱۰؍۱۳۰بسند صحیح)
۔’’اے اللہ! ایسی خیر جو بھلائی کو پہنچے تیری جانب سے مغفرت اور رضا مندی ہو، تیرے ہی قبضہ میں بھلائی ہے، آپ ہرچیز پر قادر ہیں۔ اے اللہ! آپ ہمارے رفیق سفر ہیں، گھر والوں میں نائب ہیں۔ اے اللہ! ہمارے پر سفر آسان فرما اور زمین ہمارے لیے لپیٹ دے۔ اے اللہ! میں پناہ مانگتا ہوں سفر کی تھکان سے اور بری حالت کے آنے سے۔‘‘۔
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سفر کے لیے نکلتے تو یہ دُعا پڑھتے:۔
۔’’اَللّٰھُمَّ اَنْتَ الْخَلِیْفَۃُ فِی الْاَھْلِ وَالصَّاحِبُ فِی السَّفَرِ، اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَسْئَلُکَ فِیْ سَفَرِنَا الْبِرَّ وَالتَّقْوَیٰ وَاَشْغِلْنَا بِمَا تُحِبُّ وَتَرْضٰی، اَللّٰھُمَّ اَعِنَّا عَلٰی سَفَرِنَا وَاطْوِلَنَا بُعْدَہٗ‘‘ (مسلم، ابن سنی:۴۴۳، بسند صحیح)
۔’’اے اللہ!آپ خلیفہ ہیں ہمارے اہل و عیال میں اور مصاحب ہیں سفر میں، اے اللہ! میں سوال کرتا ہوں آپ سے اپنے سفر میں بھلائی، تقویٰ اور ایسی مشغولی کا جسے آپ پسند کرتے ہوں اور جس سے آپ خوش ہوں۔ اے اللہ! سفر میں ہماری مدد فرما اور اس کی دوری کو لپیٹ دے۔‘‘۔
حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما کی روایت ہے کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سفر کا ارادہ فرماتے تو یہ دُعا پڑھتے:۔
۔’’اَللّٰھُمَّ اَنْتَ الصَّاحِبُ فِی السَّفَرِ وَالْخَلِیْفَۃُ فِی الْاَھْلِ، اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَعُوْذُبِکَ مِنَ الضُّبْنَۃِ فِی السَّفَرِ وَکَأبَۃِ الْمُنْقَلَبِ، اَللّٰھُمَّ اقْبِضْ لَنَا الْاَرْضَ وَھَوِّنْ عَلَیْنَا السَّفَرَ‘‘ (ابن ابی شیبہ:۱۰؍۳۵۹، الدعا:۱۱۷۵، سیرۃ الشامی:۲۷۸، سندہ حسن)
۔’’اے اللہ! آپ ہی میرے مصاحب ہیں سفر میں اور نگران ہیں اہل میں، اے اللہ! ہم آپ کی سفر میں بوجھ سے پناہ مانگتے ہیں اور بری واپسی سے، اے اللہ! زمین ہمارے لیے طے فرما اور سفر کو آسان فرما۔‘‘۔
حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب سفر فرماتے تو یہ دُعا فرماتے:۔
۔’’اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَعُوْذُبِکَ مِنْ وَعْثَآئِ السَّفَرِ وَکَأبَۃِ الْمُنْقَلَبِ، اَللّٰھُمَّ زَوِّلَنَا الْاَرْضَ وَقَرِّبْ لَنَا السَّفَرَ‘‘ (الدعا:۱۱۷۹)
’’اے اللہ! میں مشقت سفر سے پناہ مانگتا ہوں اور بری واپسی سے، اے اللہ! زمین کو ہمارے لیے طے فرما اور سفر قریب کردے۔‘‘

سفر سے قبل نماز

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جب گھر سے نکلو تو دو رکعت نماز پڑھ لو، سفر کی تمام ناپسندیدہ باتوں سے محفوظ رہو گے۔‘‘ (مجمع الزوائد:۲؍۲۸۷)
حضرت مطعم رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’اس سے بہتر کوئی نہیں کہ سفر میں جاتے ہوئے اہل و عیال میں دو رکعت نماز پڑھ لے۔‘‘ (اذکار نووی:۲؍۲۸۷)
علامہ نووی رحمہ اللہ تعالیٰ نے ذکر کیا ہے کہ مستحب یہ ہے کہ پہلی رکعت میں فاتحہ کے بعد ’’سورۂ کافرون‘‘ اور دوسری میں ’’سورۂ قل ھو اللہ احد یاسورۂ فلق اور سورۂ ناس‘‘ پڑھے اور سلام پھیر کر ’’آیت الکرسی‘‘ پڑھے۔ روایت میں ہے گھر سے نکلنے سے پہلے جو آیت الکرسی پڑھے گا ، اس کے واپس آنے تک کوئی ناپسندیدہ بات پیش نہیں آئے گی اور ابوالحسن قزوینی رحمہ اللہ تعالیٰ نے بیان کیا کہ ’’سورۂ قریش‘‘ کا پڑھنا ہر مصائب سے امان ہے۔
اور نماز سفر سے فارغ ہونے کے بعد یہ دُعا پڑھے:۔
۔’’اَللّٰھُمَّ بِکَ اَسْتَعِیْنُ وَعَلَیْکَ اَتَوَکَّلُ، اَللّٰھُمَّ ذَلِّلْ لِیْ صَعُوْبَۃَ اَمْرِیْ، وَسَھِّلْ عَلَیَّ مَشَقَّۃَ سَفَرِیْ، وَارْزُقْنِیْ مِنَ الْخَیْرِ اَکْثَرَ مِمَّا اَطْلُبُ، وَاصْرِفْ عَنِّیْ کُلَّ شَیْئٍ، رَبِّ اشْرَحْ لِیْ صَدْرِیْ، وَیَسِّرْلِیْ اَمْرِیْ، اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَسْتَحْفِظُکَ وَاَسْتَوْدِعُکَ نَفْسِیْ، وَدِیْنِیْ، وَاَھْلِیْ، وَاَقَارِبِیْ، وَکُلَّ مَا اَنْعَمْتَ عَلَیَّ وَعَلَیْھِمْ بِہٖ مِنْ اٰخِرَۃٍ وَّ دُنْیَا، فَاحْفَظْنَآ اَجْمَعِیْنَ مِنْ کُلِّ سُوْئٍ یَّاکَرِیْمُ‘‘۔
اے اللہ! تجھ سے ہی اعانت اور تجھ ہی پر بھروسہ کرتا ہوں۔ اے اللہ! ہمارے کام کی مشکلات کو آسان فرما اور سفر کی مشقت کو ہم پر سہل فرما اور۔ جو میں مانگو ںاس سے زیادہ خیر عطا فرما، ہر شرسے ہماری حفاظت فرما۔ میرے سینے کو کھول دے اے میرے رب! اور میرا کام آسان فرما، اے اللہ! میں آپ سے حفاظت طلب کرتا ہوں اور اپنی جان، دین، اہل و اقارب اور ان تمام نعمتوں کو جو ہم پر اور ان پر ہیں، خواہ اخروی ہوں یا دنیوی، سب تیرے حوالہ کرتا ہوں، ہم سب کی تمام نامناسب اُمور سے حفاظت فرما اے کریم!‘‘۔
اس کے بعد جب اُٹھ کر چلنے لگے تو یہ دُعا پڑھے:۔
۔’’اَللّٰھُمَّ اِلَیْکَ تَوَجَّھْتُ، وَبِکَ اِعْتَصَمْتُ، اَللّٰھُمَّ اکْفِنِیْ مَا ھَمَّنِیْ وَمَا لَا اَھْتَمُّ لَہٗ، اَللّٰھُمَّ زَوِّدْنِیَ التَّقْوَیٰ، وَاَغْفِرْلِیْ ذَنْبِیْ وَ وَجِّھْنِیْ لِلْخَیْرِ اَیْنَمَا تَوَجَّھْتُ‘‘ (اذکار نووی:۱۸۶)
۔’’اے اللہ! میں آپ ہی کی طرف توجہ کرتا ہوں اور آپ ہی سے چمٹتا ہوں۔ اے اللہ! اہم اور غیر اہم معاملوں میں آپ ہی کافی ہو جایئے۔ اے اللہ! توشۂ تقویٰ سے نوازیئے۔ میرے گناہ معاف کیجئے، جدھر میں جاؤں، خیر کو متوجہ کردیجئے۔‘‘۔

جب کوئی سفر کے لیے جائے تو اسے کیا دُعا دے؟

حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہا کہ میں سفر کا ارادہ رکھتا ہوں، مجھے کچھ نصیحت فرما دیجئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا ہاتھ پکڑا اور فرمایا:۔
۔’’فِیْ حِفْظِ اللّٰہِ وَفِی کَنْفِہٖ زَوَّدَکَ اللّٰہُ التَّقْوَیٰ وَغَفَرَ ذَنْبَکَ وَوَجَّھَکَ فِی الْخَیْرِ حَیْثُ مَا کُنْتَ وَاَیْنَ مَا کُنْتَ‘‘ (الدعا:۲؍۱۱۸۰، ترمذی:۳۴۴۴ )
’’خدا کی حفاظت اور اسی کی پناہ میں۔ اللہ تجھے تقویٰ کا توشہ دے، تیرے گناہ معاف فرمائے، جہاں بھی ہو تجھے خیر کے راستے پر گامزن رکھے۔‘‘
حضرت قتادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہاتھ پکڑ کر رُخصت کرتے وقت یہ دُعا دی:۔
۔’’جَعَلَ اللّٰہُ تَقْوَیٰ زَادَکَ وَغَفَرَ ذَنْبَکَ وَوَجَّھَکَ لِلْخَیْرِ حَیْثُ مَا تَکُوْنُ‘‘ (الدعاء للطبرانی:۱۱۸۰،)
’’خدا تقویٰ تیرا توشہ بنائے، تیرے گناہ معاف فرمائے، بھلائی کے رُخ پر رکھے جہاں تو رہے۔‘‘

رُخصت کرنے کے بعد کیا دُعا دے؟

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک شخص آیا اور کہنے لگا کہ میں سفر کا ارادہ رکھتا ہوں، کچھ نصیحت فرمایئے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا میں تمہیں تقویٰ کی نصیحت کرتا ہوں اور ہر بلند مقام پر تکبیر کی۔ جب وہ چلا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دُعا دی:’’اَللّٰھُمَّ اطْوِلَہُ الْاَرْضَ وَھَوِّنْ عَلَیْہِ السَّفَرَ‘‘ (الدعاء:۱۱۸۲، ترمذی:۳۳۴۵)

رُخصت کے وقت دُعا کی درخواست

حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے عمرہ کی اجازت چاہی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اجازت دی اور فرمایا مجھے دُعاؤں میں نہ بھولنا۔ (ترمذی:۳۴۵ ابوداؤد:۱؍۲۱۰)

سفر حج کرنے والے کو کیا دُعا دے کر رُخصت کرے؟

حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما فرماتے ہیں کہ ایک شخص آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا اور حج بیت اللہ کا ارادہ ظاہر کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے ساتھ رُخصت کرتے ہوئے تھوڑی دیر چلے، پھر سر اُٹھا کر فرمایا:۔
’’زَوَّدَکَ اللّٰہُ التَقْوَیٰ وَوَجَّھَکَ فِی الْخَیْرِ وَکَفَاکَ الْھَمَّ‘‘
’’خدا تجھے تقویٰ کے توشہ سے نوازے، خیر کی جانب تجھے متوجہ فرمائے اور تیری ضرورتوں میں کافی ہو۔‘‘
پھر یہ شخص فراغت حج کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، سلام کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سر اُٹھاتے ہوئے یہ دُعادی:۔
’’قَبَّلَ اللّٰہُ حَجَّکَ وَکَفَّرَ ذَنْبَکَ وَاَخْلَفَ نَفَقَتَکَ‘‘ (مجمع الزوائد:۳؍۲۱۴ )
’’تیرا حج قبول ہو، گناہ معاف ہو، صرفہ کا بدل عطاء ہو۔‘

رُخصت ہوتے وقت گھر والوں کو کیا دُعا دے؟‘

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں تم کو وہ کلمات سکھاؤں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے سکھائے ہیں؟ جب سفر کا ارادہ کرکے گھر سے نکلو تو اپنے گھر والوں کو یہ دُعا دو:۔
۔’’اَسْتَوْدِعُکُمُ اللّٰہَ الَّذِیْ لَا یُخِیْبُ وَدَائِعَہٗ‘‘ (حصن حصین:۲۸۶)
’’میں تمہیں اس خدا کے حوالے کرتا ہوں جو امانتوں کو ضائع نہیں کرتا۔‘‘

رُخصت کرنے کی دُعا جو گھر کیلئے خیر کثیر کا باعث ہو

حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما فرماتے ہیں جو اللہ کے سپرد کرو گے وہ اس کی حفاظت کرے گا۔
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم میں سے کوئی جب سفر کا ارادہ کرے تو اپنے بھائی کو سپردِ خدا کرے، اللہ پاک اس کی دُعا میں خیر کرنے والا ہے۔ (اذکار نووی:۱۸۶)
حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم ان کلمات سے رُخصت فرماتے تھے:۔
۔’’اَسْتَوْدِعُ اللّٰہَ دِیْنَکَ وَاَمَانَتَکَ وَخَوَاتِیْمَ عَمَلِکَ‘‘ (ترمذی:۱۸۲، ابوداؤد )
’’میں تمہارا دین، تمہاری امانت (اہل و عیال) اور کاموں کا انجام خدا کے سپرد کرتا ہوں۔‘‘
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو سفر کا ارادہ رکھتا ہو تو اس کے متعلقین اسے رُخصت کرتے وقت یہ دُعا دیں:۔
۔’’اَسْتَوْدِعُکُمُ اللّٰہَ الَّذِیْ لَا یُضِیْعُ وَدَائِعَہٗ‘‘ (الدعا:۱۱۸۲)
’’حوالہ کرتا ہوں تم کو اس اللہ کے جو سپرد کردہ چیزوں کو ضائع نہیں کرتا۔‘‘

سفر میں جاتے وقت گھر والوں کیلئے خیر و عافیت کی دُعا

حضرت جبیر بن مطعم رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے جبیر! کیا تم چاہتے ہو کہ جب سفر میں جاؤ تو اپنے دوستوں سے صورت اور حالت میں بہتر اور توشہ (دولت) میں بڑھ کر رہو۔ (حضرت جبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے) عرض کیا جی ہاں! میرے ماں باپ آپ پر قربان! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تو یہ پانچ سورتیں پڑھ لیا کرو:۔
۔’’قُلْ یَا اَیُّھَا الْکَافِرُوْنَ … اِذَا جَآئَ نَصْرُ اللّٰہِ … قُلْ ھُوَ اللّٰہُ اَحَدٌ … قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ … قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ النَّاسِ‘‘
ہر سورت کو ’’بسم اللہ الرحمن الرحیم‘‘ سے شروع کیا کرو اور ’’بسم اللہ الرحمن الرحیم‘‘ پر ختم کیا کرو۔ (یعنی آخر میں سورۂ ناس کے بعد بسم اللہ پڑھ لو) حضرت جبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ میں دولت مند اور مال دار تھا مگر جب سفر کرتا تھا تو اپنے ساتھیوں میں سب سے زیادہ تباہ حال اور مفلس ہو جاتا تھا۔ جب سے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ سورتیں سیکھیں اور ان کو ہمیشہ پڑھنے لگا تو سفر سے واپسی تک اپنے دوستوں سے زیادہ اچھے حال میں اور دولت مند رہتا تھا۔ (حصن:۱۲۸۷ابویعلی)

واپسی تک خدا کی نگہبانی

ابن النجار نے اپنی تاریخ میں حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے نقل کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص سفر کا ارادہ کرے تو اپنے گھر کے دروازے کے دونوں بازو پکڑ کے گیارہ بار ’’قُلْ ھُوَ اللّٰہُ اَحَدٌ‘‘ پڑھے تو ان شاء اللہ سفر سے واپسی تک اللہ پاک اس کا نگہبان ہوگا۔ (الدرالمنثور بحوالہ اسوۃ الصالحین)

جب سواری پر بیٹھے تو یہ دُعا پڑھے

حضرت علی بن ربیعہ رحمہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ میں حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ سواری کا جانور آپ کے پاس لایا گیا۔ جب آپ نے پیر رکاب میں رکھا تو فرمایا: ’’بِسْمِ اللّٰہِ‘‘ جب بیٹھ گئے تو فرمایا:
’’سُبْحَانَ الَّذِیْ سَخَّرَ لَنَا ھٰذَا وَمَا کُنَّا لَہٗ مُقْرِنِیْنَ وَاِنَّا اِلٰی رَبِّنَا لَمُنْقَلِبُوْنَ‘‘
۔’’تمام تعریف اس اللہ کی جس نے ہمارے لیے اس کو مسخر کردیا ورنہ ہم اسے قابو میں رکھنے والے نہ ہوتے اور یقیناہم اپنے رب کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں۔‘‘۔
پھر تین مرتبہ ’’اَللّٰہُ اَکْبَرُ‘‘ کہا اور تین مرتبہ ’’اَلْحَمْدُلِلّٰہِ‘‘ کہا پھر یہ پڑھا:۔
’’لَآ اِلٰہَ اِلاَّ اَنْتَ سُبْحَانَکَ اِنِّیْ ظَلَمْتُ نَفْسِیْ فَاغْفِرْلِیْ ذُنُوْبِی اِنَّہٗ لَا یَغْفِرُ الذُّنُوْبِ اِلاَّ اَنْتَ‘‘
۔’’نہیں کوئی معبود سوائے تیرے، پاک ہیں آپ، میں نے ظلم کیا اپنی جان پر (گناہ کیا) پس ہمیں معاف فرمادیجئے، کوئی گناہ معاف نہیں کرسکتا سوائے آپ کے۔‘‘۔
پھر مسکرادیئے۔ اس پر آپ سے پوچھا گیا ’’اے امیرالمؤمنین!‘‘ کس وجہ سے آپ نے مسکرادیا؟ فرمایا میں نے نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی طرح پڑھتے پھر مسکراتے دیکھا تو میں نے پوچھا اے اللہ کے رسول! کیوں مسکرائے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تیرا رب سبحانہ اپنے بندے سے تعجب کرتا ہے جب وہ ’’اِغْفِرْلِیْ ذُنُوْبِیْ‘‘ کہتا ہے، جانتا ہے کہ میرے سوا کوئی گناہ معاف نہیں کرسکتا۔ (ابوداؤد، اذکار :۱۸۸، ابن سنی:۴۴۵)
حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جانوروں کی پیٹھ پر شیطان رہتا ہے، جب تم بیٹھو تو بسم اللہ پڑھ لیا کرو۔ (دارمی، ابن سنی برجال صحیح)
حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے مروی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب سفر کے لیے نکلتے، اونٹ پر بیٹھ جاتے تو یہ دُعا پڑھتے:۔
۔’’سُبْحَانَ الَّذِیْ سَخَّرَ لَنَا ھٰذَا وَمَا کُنَّا لَہٗ مُقْرِنِیْنَ وَاِنَّا اِلٰی رَبِّنَا لَمُنْقَلِبُوْنَo اَللّٰھُمَّ اِنَّا نَسْئَلُکَ فِیْ سَفَرِنَا ھٰذَا لْبِرَّ وَالتَّقْوَیٰ وَمِنَ الْعَمَلِ مَا تَرْضٰی، اَللّٰھُمَّ ھَوِّنْ عَلَیْنَا ھٰذَا سَفَرَنَا وَاطْوِعَنَّا بُعْدَہٗ، اللّٰھُمَّ اَنْتَ الصَّاحِبُ فِی السَّفَرِ وَالْخَلِیْفَۃُ فِی الْاَھْلِ، اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَعُوْذُبِکَ مِنْ وَّعْثَآئِ السَّفَرِ وَکَأبَۃِ الْمَنْظَرِ وَسُوْئِ الْمُنْقَلَبِ فِی الْاَھْلِ وَالْمَالِ‘‘ (اذکار مسلم:۱۸۸)۔
۔’’اللہ کی ذات پاک ہے جس نے ہمارے لیے یہ مسخر کیا ورنہ ہم اس پر طاقت پانے والے نہیں تھے۔ ہم اپنے رب کی طرف لوٹنے والے ہیں۔ اے اللہ! ہم سفر میں آپ سے بھلائی اور تقویٰ کا سوال کرتے ہیں اور اس عمل کا جس سے آپ خوش ہوں۔ اے اللہ! ہم پر یہ سفر آسان فرما اور اس کے بُعد کو لپیٹ دے۔ اے اللہ! آپ میرے مصاحب سفر ہیں اور اہل میں نائب ہیں، اے اللہ! میں پناہ مانگتا ہوں سفر کی پریشانیوں سے اور اہل و عیال میں بری حالت کے لوٹنے سے۔‘‘۔
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب سفر کرتے اور سواری پر سوار ہو جاتے تو انگلی سے اشارہ فرماتے اور یہ دُعا پڑھتے:۔
۔’’اللّٰھُمَّ اَنْتَ الصَّاحِبُ فِی السَّفَرِ وَالْخَلِیْفَۃُ فِی الْاَھْلِ، اَللّٰھُمَّ اَصْحِبْنَا بِنُصْحٍ وَاَقْلِبْنعا بِذِمَّۃٍ، اَللّٰھُمَّ اَزْوِلَنَا الْاَرْضَ وَھَوِّنْ عَلَیْنَا السَّفَرَ، اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَعُوْذُبِکَ مِنْ وَعْثَآئِ السَّفَرِ وَکَأبَۃِ الْمُنْقَلَبِ‘‘ (ابن سنی:۴۴۷، ترمذی بسند غریب)

سفر حج سے واپس آنے والے کو کیا کہے؟

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حجاج کی واپسی پر دُعا دیتے ہوئے کہا:۔
۔’’اَللّٰھُمَّ اغْفِرْ لِلْحَاجِّ وَلِمَنِ اسْتَغْفَرَ لَہُ الْحَاجُّ‘‘ (بیہقی، اذکار:۵۵۵)’’اے اللہ! حجاج کی مغفرت فرما اور جس کے لیے حجاج دُعائے مغفرت کریں اس کی بھی مغفرت فرما۔‘‘۔

سفر سے واپس آنے والے کو کیا کہے؟

نووی رحمہ اللہ تعالیٰ نے سفر سے آنے والے کے لیے مستحب قرار دیا ہے کہ یہ دُعا دی جائے:۔
’’اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ سَلَّمَکَ‘‘
’’اللہ کی تعریف جس نے تم کو صحیح سالم پہنچایا۔‘‘
یا یہ کہے:۔
۔’’اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ جَمَعَ الشَّمْلَ بِکَ‘‘ (اذکار:۱۸۹،نزل الابرار:۳۳۹)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ ایک غزوہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے گئے۔ مجھے واپسی کا سخت انتظار تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب تشریف لائے، میں نے دروازے پر آگے بڑھ کر استقبال کیا اور کہا:۔
۔’’اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ وَرَحْمَۃُ اللّٰہِ، اَلْحَمْدُلِلّٰہِ الَّذِیْ اَعَزَّکَ وَنَصَرَکَ وَاَکْرَمَکَ‘‘ (ابن سنی، الفتوحات:۵؍۱۷۴)
’’سلامتی اور رحمتِ خدا ہو آپ پر اے خدا کے رسول! تعریف اس خدا کی جس نے آپ کو عزت دی، مدد کی اور اکرام فرمایا۔‘‘
فائدہ: آنے والے کا آگے بڑھ کر سلام اور مصافحہ سے استقبال کیا جائے۔ پھر ’’اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ‘‘ سے یہ دُعا پڑھی جائے۔ (الفتوحات:۵؍۱۷۳)
ابن ابی السائب جو رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے ایام جاہلیت کے شریک تجارت تھے، جب وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’مَرْحَبًا یَا اَخِیْ!‘‘ (ابوداؤد، ابن سنی:۵۳۴)

جب سفر میں رات آجائے تو کیا پڑھے؟

حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی غزوہ یا سفر میں ہوتے اور رات ہو جاتی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ دُعا پڑھتے:۔
۔’’یَآ اَرْضُ! رَبِّیْ وَرَبُّکِ اللّٰہُ، اَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنْ شَرِّکِ وَشَرِّ مَا فِیْکِ وَشَرِّ مَا یَدُبُّ عَلَیْکَِ، اَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنْ شَرِّ اَسَدٍ وَّ اَسْوَدٍ وَحَیَّۃٍ وَّ عَقْرَبٍ وَمِنْ شَرِّ سَاکِنِ الْبَلَدِ وَمِنْ شَرِّ وَالِدٍ وَّمَا وَلَدَ‘‘ (الدعا:۱۱۸۸، عمل الیوم للنسائی:۵۹۳)
۔’’اے زمین! تیرا میرا رب خدا ہے۔ تیرے شر سے اور جو تیرے اندر ہے خدا کی پناہ مانگتا ہوں اور اس چیز کے شر سے بھی جو تیرے اوپر چلتی ہے۔ خدا کی پناہ شیر، سانپ، اژدھا، بچھو اور شہر میں رہنے والے (جنات) کی برائی سے اور جننے والے کی برائی سے اور اس سے جو جنے۔‘‘۔

سفر میں صبح کی نماز کے بعد کیا پڑھے؟

حضرت ابو برزہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم جب سفر میں صبح کی نماز پڑھتے تو اس کے بعد یہ دُعا پڑھتے:۔
۔’’اَللّٰھُمَّ اَصْلِحْ لِیْ دِیْنِیَ الَّذِیْ جَعَلْتَہٗ عِصْمَۃَ اَمْرِیْ اَللّٰھُمَّ اَصْلِحْ لِیْ دُنْیَایَ الَّتِیْ جَعَلْتَ فِیْھَا مَعَاشِیْ‘‘۔
’’اے اللہ! ہمارے دین کو جسے آپ نے باعث عصمت بنایا درست کردیجئے اور دُنیا جسے معاش بنایا درست کردیجئے۔‘‘
تین مرتبہ فرماتے:۔
’’اَللّٰھُمَّ اَصْلِحْ لِیْ اٰخِرَۃَ الَّتِیْ جَعَلْتَ اِلَیْھَا مَرْجِعِیْ‘‘
’’اے اللہ! جس آخرت کو ہمارے لیے واپسی کی جگہ بنایا درست کردیجئے۔‘ … تین مرتبہ:
’’اَللّٰھُمَّ اَعُوْذُ بِرِضَاکَ مِنْ سَخَطِکَ اَللّٰھُمَّ اَعُوْذُبِکَ‘‘
پھر یہ (ایک مرتبہ) پڑھتے:۔
۔’’اَللّٰھُمَّ لَا مَانِعَ لِمَآ اَعْطَیْتَ وَلَا مُعْطِیَ لِمَا مَنَعْتَ، وَلَا یَنْفَعُ ذَالْجَدِّ مِنْکَ الْجَدُّ‘‘ (اذکار:۵۵۱)
۔’’اے اللہ! آپ کے غضب سے آپ کی رضا کے ذریعہ پناہ مانگتا ہوں۔ اے اللہ! میں آپ سے پناہ مانگتا ہوں۔ اے اللہ! آپ جسے دیں کوئی روکنے والا نہیں اور جسے روک دیں، اسے کوئی دینے والا نہیں اور آپ کے سامنے کسی مال دار کی مال داری کوئی کام نہیں دیتی۔‘‘۔

جب سفر میں سحر کا وقت ہو جائے

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم حالت سفر میں ہوتے اور سحر کا وقت (یعنی صبح صادق کے قریب) ہو جاتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ دُعا پڑھتے:۔
۔’’سَمَّعَ سَامِعٌ بِحَمْدِ اللّٰہِ وَحَسُنَ بَلَائُہٗ عَلَیْنَا رَبُّنَا صَاحِبُنَا وَ اَفْضَلَ عَلَیْنَا عَائِذًا بِاللّٰہِ مِنَ النَّارِ‘‘ (ابوداؤد، عمل الیوم للنسائی:۳۶۳، حاکم:۱؍۴۴۶)
’’سنائی سنانے والے نے اللہ کی تعریف، اس کی آزمائش بہتر ہے ہم پر، ہمارا رب ہمارا رفیق ہے، ہم پر فضل کیا ہے، خدا کی پناہ جہنم سے۔‘‘

جب گھر میں داخل ہو تو کیا پڑھے؟

حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے مروی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب سفر سے گھر تشریف لاتے اور اہل میں داخل ہوتے تو یہ دُعا پڑھتے:۔
۔’’اَوْبًا اَوْبًا لِّرَبِّنَا تَوْبًا، لَا یُغَادِرُ عَلَیْنَا حَوْبًا‘‘ (نزل الابرار:۳۳۸)
’’واپس آئے اپنے رب سے توبہ کرتے ہیں کوئی گناہ ہم سے نہ چھوٹے۔‘‘
حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما کی ایک روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب سفر سے واپس ہوتے تو یہ پڑھتے:۔
’’اٰئِبُوْنَ تَآئِبُوْنَ لِرَبِّنَا حَامِدُوْنَ‘‘
اور جب گھر میں داخل ہو جاتے تو یہ پڑھتے:۔
۔’’تَوْبًا تَوْبًا لِرَبِّنَا اَوْبًا، لَا یُغَادِرُ عَلَیْنَا حَوْبًا‘‘ (ابن سنی:۵۳۱، احمد:۱؍۲۵۶، بیہقی:۵؍۲۵۰)‘

اپنی بستی کی جانب جب واپس آنے لگے

حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ ہم لوگ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ واپس آرہے تھے، ساتھ میں ابوطلحہ بھی تھے اور حضرت صفیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی پر تھیں۔ ہم لوگ جب مدینہ کے قریب آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دُعا فرمائی:۔
۔’’اٰئِبُوْنَ تَآئِبُوْنَ لِرَبِّنَا حَامِدُوْنَ‘‘ (مسلم، اذکار:۵۵۰)
’’لوٹنے والے ہیں، توبہ کرنے والے ہیں اپنے رب کی تعریف کرنے والے ہیں۔‘‘
آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہی کہتے رہتے، یہاں تک کہ ہم لوگ مدینہ میں آگئے۔
حضرت عبداللہ ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب سفر سے واپس تشریف لاتے تو تین مرتبہ ’’اللّٰہ اکبر‘‘ فرماتے اور یہ دُعا فرماتے:۔
۔’’لَآ اِلٰہَ اِلاَّ اللّٰہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِیْکَ لَہٗ لَہُ الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُ وَھُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیْرٌ۔ اٰئِبُوْنَ عَابِدُوْنَ تَآئِبُوْنَ سَاجِدُوْنَ لِرَبِّنَا حَامِدُوْنَ صَدَقَ اللّٰہُ وَعْدَہٗ وَنَصَرَ عَبْدَہٗ وَھَزَمَ الْاَحْزَابَ وَحْدَہٗ‘‘ (بخاری، مسلم، ابوداؤد:۳۸۲)
’’کوئی معبود نہیں سوائے خدا کے، وہ یکتا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اسی کے لیے بادشاہت، اسی کے لیے تعریف، وہ ہر شے پر قادر، واپس آنے والے ہیں، عبادت کرنے والے ہیں، توبہ کرنے والے ہیں، سجدہ کرنے والے ہیں، اپنے رب کی تعریف کرنے والے ہیں۔ خدا کا وعدہ سچ ہوا، اپنے بندے کی مدد کی اور گروہِ کفار کو ہزیمت دی۔‘‘۔

جب کشتی یا جہاز پر سوار ہو

کشتی یا بحری جہاز پر سوار ہو تو یہ دُعا پڑھے:۔
۔’’بِسْمِ اللّٰہِ مَجْرٖھَا وَمُرْسٰھَآ اِنَّ رَبِّیْ لَغَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ‘‘ (اذکار، نزل:۳۳۳)
’’خدا ہی کے نام سے چلنا اور لنگر ڈالنا ہے۔ یقینا ہمارا رب مغفرت کرنے والا رحیم ہے۔‘‘
حضرت حسین بن علی رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے مروی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہماری اُمت کے لیے ڈوبنے سے حفاظت اس میں ہے کہ جب وہ سوار ہوں تو یہ دُعا پڑھیں:۔
۔’’بِسْمِ اللّٰہِ مَجْرٖھَا وَمُرْسَاھَآ اِنَّ رَبِّیْ لَغَفُوْرٌ رَّحِیْمٌo وَمَا قَدَرُوا اللّٰہَ حَقَ قَدْرِہٖ وَالْاَرْضُ جَمِیْعًا قَبْضَتُہٗ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ وَالسَّمٰوَاتُ مَطْوِیَّاتٌ بِیَمِیْنِہٖ، سُبْحَانَہٗ وَتَعَالٰی عَمَّا یُشْرِکُوْنَo‘‘ (الدعا:۲؍۱۱۷۲، ابو یعلیٰ بسند ضعیف، الفتوحات:۵؍۱۳۶، اذکار:۵۳۵، نزل:۳۳۳)
۔’’اللہ ہی کے نام سے چلنا اور لنگر ڈالنا ہے۔ ہمارا رب معاف کرنے والا رحیم ہے۔ لوگوں نے اس کی شایانِ شان حق ادا نہیں کیا۔ ساری زمین قیامت کے دن اس کی مٹھی میں ہوگی اور آسمان دائیں ہاتھ میں لپٹا ہوگا۔ پاک ہے بلند و بالا ہے اس سے جو یہ شریک کرتے ہیں۔‘‘۔

جب ٹیلے یا اونچے مقام پر چڑھے تو یہ دُعا پڑھے

حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ہم لوگ جب اونچائی پر چڑھتے تو ’’اَللّٰہُ اَکْبَرُ‘‘ اور نیچے اُترتے تو ’’سُبْحَانَ اللّٰہِ‘‘ پڑھتے۔
حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے مروی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور لشکر جب کسی اونچائی پر چڑھتے تو ’’اَللّٰہُ اَکْبَرُ‘‘ کہتے اور جب کسی نشیبی حصہ میں اُترتے تو ’’سُبْحَانَ اللّٰہِ‘‘ پڑھتے۔(ابوداؤد، اذکار:۵۳۸)
حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب زمین کی اونچائی پر چلتے تو یہ دُعا پڑھتے:۔
۔’’اَللّٰھُمَّ لَکَ الشَّرْفُ عَلٰی کُلِّ شَرْفٍ وَلَکَ الْحَمْدُ عَلٰی کُلِّ حَالٍ‘‘ (ابن سنی:۵۲۳، نزل:۴۳۴، مسند احمد:۳؍۱۲۷)
’’اے اللہ! آپ ہی کے لیے بلندی ہے ہر بلندی پر اور آپ ہی کے لیے تعریف ہے ہر حال میں۔‘‘
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک شخص آیا جو سفر میں جانے کا ارادہ رکھتا تھا۔ اس نے کہا، اے اللہ کے رسول! ہمیں نصیحت فرمادیجئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں تم کو تقویٰ کی نصیحت کرتا ہوں اور یہ کہ ہر بلندی پر چڑھتے ہوئے تکبیر کہو گے۔ (ابن ماجہ، ترمذی، حاکم:۲؍۹۸)
فائدہ: زینہ اور سیڑھی پر چڑھتے ہوئے ’’اَللّٰہُ اَکْبَرُ‘‘ اور اُترتے ہوئے ’’سُبْحَانَ اللّٰہِ‘‘ کہے۔

جب اپنی بستی میں داخل ہو جائے تو یہ پڑھے

حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب سفر سے واپس تشریف لاتے اور مدینہ میں داخل ہوتے تو تیزی سے آتے اور یہ دُعا پڑھتے:۔
’’اَللّٰھُمَّ اجْعَلْ لَنَا بِھَا قَرَاراً وَّ رِزْقًا حَسَنًا‘‘
’’اے اللہ! اس بستی میں مجھے سکون و قرار عطا فرما اور بہترین رزق عطا فرما۔‘‘

جب کسی بستی یا آبادی میں داخل ہو تو کیا پڑھے؟

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے مروی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی بستی میں داخل ہوتے تو یہ دُعا پڑھتے:۔
۔’’اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَسْئَلُکَ مِنْ خَیْرِ ھٰذِہٖ وَخَیْرِ مَا جُمِعَتْ فِیْھَا وَاَعُوْذُبِکَ مِنْ شَرِّھَا وَشَرِّ مَا جُمِعَتْ فِیْھَا، اَللّٰھُمَّ ارْزُقْنَا جَنَاھَا وَاَعِذْنَا مِنْ وَّبَاھَا وَحَبِّبْنَآ اِلٰی اَھْلِھَا وَحَبِّبْ صَالِحِیْ اَھْلِھَآ اِلَیْنَا‘‘ (اذکار:۵۴۵، نزل:۳۳۶، ابن سنی:۵۲۷)
۔’’اے اللہ! میں اس کی بھلائی اور جو بھلائی آپ نے اس میں جمع کی ہے اس کا سوال کرتا ہوں اور اس کی برائی سے اور جو آپ نے اس میں جمع کی ہے اس سے پناہ مانگتا ہوں۔ اے اللہ! اس بستی کے فوائد سے ہمیں نواز اور اس کی برائی سے ہماری حفاظت فرما اور ہمیں بستی والوں کا محبوب بنا اور اس کے نیک لوگوں کو ہمارا محبوب بنا۔‘‘۔
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی بستی میں داخل ہوتے تو تین مرتبہ یہ پڑھتے: ’’اَللّٰھُمَّ بَارِکْ لَنَا فِیْھَا‘‘ (اے اللہ! ہمیں اس بستی میں برکت عطا فرما۔) پھر یہ فرماتے:۔
۔’’اَللّٰھُمَّ ارْزُقْنَا جَنَاھَا وَحَبِّبْنَآ اِلٰی اَھْلِھَا وَحَبِّبْ صَالِحِیْ اَھْلِھَآ اِلَیْنَا‘‘ (طبرانی، الفتوحات:۵؍۱۵۹)
۔’’اے اللہ! ہمیں اس بستی کے منافع عطا فرما۔ اس کی وبا سے ہماری حفاظت فرما اور ہمیں بستی والوں کے نزدیک محبوب بنا اور بستی کے نیکوں کو ہمارا محبوب بنا۔‘‘۔
حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ ہم لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر کیا کرتے تھے۔ جب کسی بستی کو دیکھتے جس میں داخل ہونے کا ارادہ ہوتا تو ’’اَللّٰھُمَّ بَارِکْ لَنَا فِیْھَا‘‘ تین مرتبہ فرماتے، پھر یہ فرماتے:۔
۔’’اَللّٰھُمَّ ارْزُقْنَا جَنَاھَا وَحَبِّبْنَآ اِلٰی اَھْلِھَا وَحَبِّبْ صَالِحِیْ اَھْلِھَا اِلَیْنَا‘‘ (مجمع الزوائد، نزل الابرار:۳۳۷)
’’اے اللہ! اس کے فوائد و منافع سے ہمیں نواز اور اہل بستی کا محبوب بنا اور اس کے نیک لوگوں کو ہمارا محبوب بنا۔‘‘

دورانِ سفر جب کوئی بستی یا آبادی نظر آئے

حضرت صہیب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جس وقت بستی میں داخل ہونے کا ارادہ رکھتے، اسے دیکھتے تو یہ دُعا پڑھتے:۔
۔’’اَللّٰھُمَّ رَبَّ السَّمٰوٰتِ السَّبْعِ وَمَآ اَقْلَلْنَ، وَرَبَّ الشَّیَاطِیْنِ وَمَآ اَضْلَلْنَ، وَرَبَّ الرِّیَاح وَمَا ذَرَیْنَ، اَسْئَلُکَ خَیْرَ ھٰذِہِ الْقَرْیَۃِ وَخَیْرَ اَھْلِھَا وَخَیْرَ مَا فِیْھَا، وَنَعُوْذُبِکَ مِنْ شَرِّھَا وَشَرِّ اَھْلِھَا وَشَرِّ مَا فِیْھَا‘‘ (نسائی، الفتوحات:۵؍۱۵۴، ابن سنی:۵۲۵)

دورانِ سفر کسی منزل پر جب قیام کرے

حضرت خولہ بنت حکیم رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے کہ جو شخص کسی مقام پر پڑاؤ ڈالے، پھر یہ دُعا پڑھ لے تو اس مقام سے کوچ کرنے تک کوئی چیز اسے نقصان نہ پہنچائے گی:۔
’’اَعُوْذُ بِکَلِمَاتِ اللّٰہِ التَّآمَّاتِ مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ‘‘ (مسلم، اذکار نووی:۵۴۸)
’’اللہ کے کلمات تامہ سے تمام مخلوق کی برائیوں سے پناہ مانگتا ہوں۔‘‘

سواری (جانور، گاڑی وغیرہ) پریشان کرے تو کیا کہے؟

ابوعبداللہ بصری رحمہ اللہ تعالیٰ جو مشہور جلیل القدر تابعی ہیں، کہتے ہیں کہ سواری کا جانور جب پریشانی میں ڈال دے تو اس کے کان میں یہ پڑھے۔ اللہ کے حکم سے وہ ٹھیک ہو جائے گا:۔
’’اَفَغَیْرَ دِیْنِ اللّٰہِ یَبْغُوْنَ وَلَہٗ اَسْلَمَ مَنْ فِی السَمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ طَوْعًا وَّکَرْھًا وَّاِلَیْہِ یُرْجَعُوْنَ‘‘
۔’’کیا اللہ کے دین کے علاوہ کوئی دوسرا دین تلاش کرتے ہو، اسی کے تابع ہے خوشی سے یا جبر سے جو آسمان یا زمین میں ہے، اسی کی جانب لوٹائے جاؤ گے۔‘‘۔
فائدہ: اگر گاڑی وغیرہ خراب ہو جائے اور اس سے پریشان ہو جائے تو یہ دُعا پڑھے۔

جب سفر میں کسی دشمن کا خوف ہو

حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی سے خوف یا ڈر محسوس کرتے تو یہ دُعا پڑھتے:۔
۔’’اَللّٰھُمَّ اِنَّا نَجْعَلُکَ فِیْ نُحُوْرِھِمْ وَنَعُوْذُبِکَ مِنْ شُرُوْرِھِمْ‘‘ (ابوداؤد، اذکار:۵۴۶)
’’اے اللہ! میں تجھے ان کے مقابلہ میں پیش کرتا ہوں اور تیری ان کی شرارت سے پناہ چاہتا ہوں۔‘‘
ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے (خندق کے موقع پر) جب دشمنوں کے خوف سے کلیجہ منہ کو آلگا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دُعا بتائی تھی:۔
۔’’اَللّٰھُمَّ اسْتُرْ عَوْرَاتِنَا وَاٰمِنْ رَوْعَاتِنَا‘‘ (مجمع الزوائد:۱۰؍۱۳۶)
’’اے اللہ! ہمارے عیوب کو چھپا اور خوف و دہشت سے امن عطا فرما۔‘‘
حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے مروی ہے کہ جب تم کسی جابر و قاہر ظالم (بادشاہ یا کسی آدمی) سے خوف محسوس کرو تو یہ دُعا کرو:۔
۔’’اَللّٰہُ اَکْبَرُ اَللّٰہُ اَکْبَرُ مِنْ خَلْقِہٖ جَمِیْعًا۔ اَللّٰہ اَعَزُّ مِمَّا اَخَافُ وَاَحْذَرُ، اَعُوْذُ بِاللّٰہِ الْمُمْسِکِ السَّمٰوٰتِ السَّبْعِ اَنْ یَّقَعْنَ عَلَی الْاَرْضِ اِلاَّ بِاِذْنِہٖ مِنْ شَرِّ عَبْدِکَ فُلاَنٍ وَجُنُوْدِہٖ وَاَتْبَاعِہٖ وَاَشْیَاعِہٖ مِنَ الْجِنِّ وَالْاِنْسِ، اِلٰھِیْ کُنْ لِّیْ جَارًا مِّنْ شَرِّھِمْ جَلَّ ثَنَآئُکَ وَعَزَّ جَارُکَ وَتَبَارَکَ اسْمُکَ وَلَآ اِلٰہَ غَیْرُکَ‘‘ (مجمع الزوائد:۱۰؍۱۳۷)
۔’’اللہ بڑا ہے، اللہ بڑا ہے تمام مخلوق سے، اللہ اس پر غالب ہے جس سے میں خوف اور ڈر محسوس کررہا ہوں۔ اس خدا کی پناہ جو ساتوں آسمان کو زمین پر گرنے سے روکے ہوئے ہے۔ ہاں! مگر یہ اس کی اجازت سے۔ فلاں تیرے بندے کے شر سے اور اس کی فوج اور اس کے ہم نواؤں سے اور اس کی جماعت سے، خواہ انسانوں میں سے ہو یا جنات میں سے، اس کے شر سے اے خدا ہمیں بچالے، بلند ہے تیری تعریف، غالب ہے تیری پناہ ڈھونڈھنے والا، بابرکت ہے تیرا نام تیرے سوا کوئی معبود نہیں۔‘‘۔

جب سواری یا گاڑی وغیرہ گم ہو جائے

حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم سے گمشدہ (سواری وغیرہ) کے متعلق یہ دُعا نقل کرتے ہیں:۔
۔’’اَللّٰھُمَّ رَادَّ الضَّالَّۃِ وَھَادِیَ الضَّآلَّۃِ تَھْدِیْ مِنَ الضَّلاَ لَۃِ، اُرْدُدْ عَلَیَّ ضَالَّتِیْ بِقُدْرَتِکَ وَسُلْطَانِکَ فَاِنَّھَا مِنْ عَطَآئِکَ وَفَضْلِکَ‘‘ (مجمع الزوائد:۱۰؍۱۳۳، الفتوحات:۵؍۱۵۲)
۔’’اے اللہ! گمشدہ کے لوٹانے والے، راستہ دکھانے والے، آپ گمشدہ کو راستہ دکھاتے ہیں۔ میرا گمشدہ لوٹا دیجئے، اپنی قدرت اور طاقت سے، یہ آپ ہی کی اور آپ کا فضل ہے۔‘‘۔
ابن علان رحمہ اللہ تعالیٰ نے گمشدہ جانور یا چیزوں کے متعلق اس دُعا کو مجرب بتایا ہے:۔
۔’’یَا جَامِعَ النَّاسِ لِیَوْمٍ لَّارَیْبَ فِیْہِ اِجْمَعْ عَلَیَّ ضَالَّتِیْ‘‘ (الفتوحات:۵؍۱۵۲)
صاحب رسالہ قشیریہ نے بھی اسے گمشدہ اشیاء کے لیے نقل کیا ہے۔ بستان العارفین میں بھی اسے مجرب ذکر کہا گیا ہے۔

جب کسی ناگہانی حادثہ و مصیبت میں پھنس جائے

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:جب سنسان علاقے میں تمہاری سواری کا جانور بے کار ہو جائے تو یہ آواز دو:۔
۔’’یَا عِبَادَ اللّٰہِ! اِحْبِسُوْا، یَاعِبَادَ اللّٰہِ! اِحْبِسُوْا‘‘ (مجمع:۱۰؍۱۳۲، اذکار نووی:۵۳۲)
’’زمین پر اللہ پاک کے محافظ بندے ہیں جو لوگوں کی نگہبانی کرتے ہیں۔‘‘
عتبہ بن غزوان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کرتے ہیں کہ جب تمہارا کچھ گم ہو جائے (سواری یا زادِ راہ) یا تم ایسے مقام میں ہو جہاں کوئی مددگار نہ ہو اور تم کو کوئی ضرورت پیش آجائے تو کہو: ’’یَا عِبَادَ اللّٰہِ! اَعِیْنُوْنِیْ‘‘ سو اللہ کے بندے ایسے ہیں جنہیں ہم نہیں دیکھتے اور یہ مجرب ہے۔ (مجمع الزوائد:۱۰؍۱۳۲)
طبرانی نے عتبہ بن غزوان کی حدیث کو مرفوعاً بیان کیا ہے کہ جب تمہارا کچھ گم ہو جائے یا تم کو مدد کی ضرورت پڑ جائے اور وہاں تمہارا کوئی مددگار نہ ہو تو تین مرتبہ آواز دو: ’’یَا عِبَادَ اللّٰہِ! اَعِیْنُوْنِیْ‘‘ اللہ کے ایسے بندے بھی ہیں جن کو تم دیکھتے نہیں ہو۔(الفتوحات:۵؍۱۵۰، حصن:۲۸۳)
جنگل بیابان میں یا کسی ایسے مقام پر جہاں کوئی انسان نہ ہو، کسی ہلاکت خیز مصیبت میں پھنس جائے۔ مثلاً غیر آباد علاقے میں سواری خراب ہو جائے اور جان و مال کی ہلاکت کا خطرہ ہو تو ’’یَا عِبَادَ اللّٰہِ! اَعِیْنُوْنِیْ‘‘ تین مرتبہ آواز دے کر کہے، ان شاء اللہ غیب سے حفاظت کے انتظام ہوں گے اور غیبی شکل ظاہر ہوگی۔ یہ نہایت ہی مجرب ہے۔ چنانچہ ابن حجر ہیثمی نے نقل کرنے کے بعد اسے مجرب کہا ہے۔ ابن حجر رحمہ اللہ تعالیٰ نے ’’ایضاح المناسک‘‘ کے حاشیہ میں طبرانی کی اسی حدیث کو نقل کرنے کے بعد اسے مجرب کہا ہے۔ ابن علان مکی رحمہ اللہ تعالیٰ نے ’’الفتوحات‘‘ میں اسے مجرب کہا ہے اور اپنے شیخ ابوالبر سے مجرب ہونا نقل کیا ہے۔ محدث قنوجی رحمہ اللہ تعالیٰ نے ’’نزل الابرار‘‘ میں اسے مجرب کہا ہے اور خود اپنا واقعہ نقل کیا کہ مجھے بھی مرزا پور، جبل پور کے درمیان ایسی مصیبت پیش آئی کہ دریائی طوفان میں گھرگیا۔ سو اللہ پاک نے اس کی برکت سے نجات دی۔

سنت والی زندگی اپنانے کے لئے ہماری ویب سائٹ
https://readngrow.online
پر مطلوبہ کیٹگری میں دیکھئے ۔ اور مختلف اسلامی مواد سے باخبر رہنے کے لئے ویب سائٹ کا آفیشل واٹس ایپ چینل بھی فالو کریں ۔ جس کا لنک یہ ہے :۔
https://whatsapp.com/channel/0029Vb0Aaif4o7qSPFms4g1M

Most Viewed Posts

Latest Posts

مختلف سنتیں

مختلف سنتیں سنت-۱ :بیمار کی دوا دارو کرنا (ترمذی)سنت- ۲:مضرات سے پرہیز کرنا (ترمذی)سنت- ۳:بیمار کو کھانے پینے پر زیادہ زبردستی مت کرو (مشکوٰۃ)سنت- ۴:خلاف شرع تعویذ‘ گنڈے‘ ٹونے ٹوٹکے مت کرو (مشکوٰۃ) بچہ پیدا ہونے کے وقت سنت-۱: جب بچہ پیدا ہو تو اس کے دائیں کان میں اذان...

read more

حقوق العباد کے متعلق سنتیں

حقوق العباد کے متعلق ہدایات اور سنتیں اولاد کے حقوق حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات ہیں کہ: ٭ مسلمانو! خدا چاہتا ہے کہ تم اپنی اولاد کے ساتھ برتائو کرنے میں انصاف کو ہاتھ سے نہ جانے دو۔۔۔۔ ٭ جو مسلمان اپنی لڑکی کی عمدہ تربیت کرے اور اس کو عمدہ تعلیم دے اور...

read more

عادات برگزیدہ خوشبو کے بارے میں

عادات برگزیدہ خوشبو کے بارے میں آپ خوشبو کی چیز اور خوشبو کو بہت پسند فرماتے تھے اور کثرت سے اس کا استعمال فرماتے اور دوسروں کو بھی اس کی ترغیب دیتے تھے۔۔۔۔ (نشرالطیب)آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم آخر شب میں بھی خوشبو لگایا کرتے تھے۔۔۔۔ سونے سے بیدار ہوتے تو قضائے حاجت سے...

read more