ستائیس سال کے بعد اللہ کے راستہ سے واپس آنا

ستائیس سال کے بعد اللہ کے راستہ سے واپس آنا

حضرت امام ربیعۃ الرائے رحمہ اللہ تعالیٰ کے والد ابو عبدالرحمن فروخ کو بنو اُمیہ کے عہد میں خراسان کی طرف ایک مہم پر جانا پڑا۔ اس وقت ربیعہ شکم مادر میں تھے‘ فروخ نے چلتے وقت اپنی بیوی کے پاس تیئس (۲۳) ہزار دینار گھر کے اخراجات کے لیے چھوڑ دیئے تھے۔ خراسان پہنچ کر کچھ ایسے اتفاقات پیش آئے کہ فروخ پورے ستائیس برس تک وطن (مدینہ) واپس نہ آسکے۔
ربیعہ کی والدہ نہایت روشن خیال اور عقل مند تھیں۔ ربیعہ سن شعور کو پہنچے تو انہوں نے ان کے لیے تعلیم کا اعلیٰ سے اعلیٰ انتظام کیا اور اس سلسلہ میں جتنا روپیہ ان کے پاس تھا سب خرچ کر ڈالا‘ ستائیس برس کے بعد جب فروخ مدینہ واپس آئے تو اس شان سے کہ گھوڑے پر سوار تھے اور ہاتھ میں ایک نیزہ تھا مکان پر پہنچ کر نیزے کی نوک سے دروازہ کھٹکھٹایا۔ دستک سن کر ربیعہ دروازے پر آئے‘ باپ بیٹے آمنے سامنے لیکن ایک دوسرے سے بالکل ناآشنا تھے‘ ربیعہ نے فروخ کو اجنبی سمجھ کر کہا:۔
ترجمہ:…’’اے اللہ کے دشمن! تو میرے مکان پر حملہ کرتا ہے‘ فروخ بولے: نہیں‘ بلکہ اے اللہ کے دشمن! تو میرے حرم میں گھسا ہوا ہے۔‘‘اسی میں بات بڑھ گئی اور نوبت یہاں تک پہنچی کہ دونوں ایک دوسرے سے دست و گریبان ہوگئے‘ اس شوروغل اور ہنگامہ کی آواز سے آس پاس کے لوگ جمع ہوگئے۔ شدہ شدہ خبر امام مالک بن انس رحمہ اللہ تعالیٰ کو بھی پہنچ گئی۔
ربیعہ اس وقت عمر کے لحاظ سے نوجوان تھے لیکن ان کے علم و فضل کا چرچا دور دور تک پھیل گیا تھا اور امام مالک رحمہ اللہ تعالیٰ جیسے آئمہ حدیث ان کے درس میں شریک ہوتے تھے … امام مالک رحمہ اللہ تعالیٰ اور ان کے بعض دوسرے مشائخ وقت اس لیے یہاں آئے تھے کہ اپنے استاد حضرت ربیعہ کی امداد کریں۔ امام مالک رحمہ اللہ تعالیٰ جس وقت یہاں پہنچے تو ربیعہ اس وقت فروخ سے کہہ رہے تھے۔
خدا کی قسم! میں تم کو بادشاہ کے پاس لے جائے بغیر نہیں مانوں گا۔ اس وقت فروخ کہتے ہیں اور میں تم کو کس طرح بادشاہ کے سامنے پیش کرنے سے باز رہ سکتا ہوں جب کہ تم یہاں میری بیوی کے پاس ہو‘ لوگ درمیان میں بیچ بچائو کرا رہے تھے‘ شوروشغب برابر بڑھتا ہی رہا‘ یہاں تک کہ لوگوں نے امام عالی حضرت مالک بن انس رحمہ اللہ تعالیٰ کو آتے ہوئے دیکھا تو سب چپ ہوگئے۔ امام مالک رحمہ اللہ تعالیٰ نے آتے ہی فروخ سے مخاطب ہوکر فرمایا‘ بڑے میاں! آپ کسی دوسرے گھر میں قیام کرلیجئے‘ فروخ بولے: یہ تو میرا ہی گھر ہے‘ میرا نام فروخ ہے اور میں فلاں کا غلام ہوں۔
حضرت ربیعہ کی ماں نے اندر سے جو یہ سنا تو باہر نکل آئیں اور انہوں نے کہا: ہاں‘ یہ فروخ میرے شوہر ہیں اور یہ ربیعہ میرے لڑکے ہیں‘ فروخ جب خراسان کی مہم پر جارہے تھے‘ ربیعہ میرے شکم میں تھے‘اس حقیقت کے کھل جانے پر باپ بیٹے دونوں نے معانقہ کیا اور خوب مل کر روئے اور فروخ گھر میں داخل ہوئے اور بیوی سے ربیعہ کی طرف اشارہ کرکے پوچھا یہ میرا لڑکا ہے؟ وہ بولیں ہاں!
تھوڑی دیر کے بعد فروخ نے بیوی سے اس روپیہ کے متعلق دریافت کیا جو خراسان جاتے ہوئے ان کو دے گئے تھے اور کہا کہ لو میرے ساتھ یہ چار ہزار دینار ہیں‘ یہاں یہ سب روپیہ حضرت ربیعہ رحمہ اللہ تعالیٰ کی تعلیم پر خرچ ہوچکا تھا۔ بیوی بولیں میں نے وہ مال دفن کردیا ہے چند روز میں نکال دوں گی‘ ابھی ایسی جلدی کیا ہے؟ معمول کے مطابق حضرت ربیعہ رحمہ اللہ تعالیٰ وقت پر مسجد میں تشریف لے گئے اور درس شروع کردیا۔ درس میں حضرت امام مالک‘ حسن بن زید‘ ابن علی رحمہم اللہ تعالیٰ اور دوسرے اعیان مدینہ شریک تھے۔
والدۂ ربیعہ نے درس کا وقت پہچان کر فروخ سے کہا جائو نماز مسجد نبوی میں پڑھنا۔ اب فروخ یہاں آئے نماز پڑھی‘ پھر انہوں نے دیکھا کہ درس حدیث کا ایک زبردست حلقہ قائم ہے۔ ان کو سننے کا شوق ہوا‘ حلقہ کے قریب چلے آئے‘ لوگوں نے اُن کو دیکھ کر راستہ دینا شروع کیا۔ حضرت ربیعہ رحمہ اللہ تعالیٰ نے درس میں خلل پڑنے کے خیال سے سر جھکالیا اور ایسے ہوگئے کہ گویا انہوں نے دیکھا ہی نہیں۔ فروخ اس حالت میں ان کو شناخت نہ کرسکے‘ لوگوں سے پوچھا:۔
ترجمہ:…’’یہ کون ہیں؟ لوگوں نے ان کو جواب دیا: ربیعہ بن ابی عبدالرحمن۔‘‘۔
ابو عبدالرحمن فروخ فرط مسرت سے بے تاب ہوگئے اور کہنے لگے اللہ تعالیٰ نے میرے بیٹے کا مرتبہ بلند کیا ہے۔ گھر واپس آئے تو بیوی سے بولے میں نے آج تمہارے بیٹے کو ایسی شان میں دیکھا ہے کہ کسی صاحب علم و فقہ کو نہیں دیکھا۔
اب حضرت ربیعہ رحمہ اللہ تعالیٰ کی والدہ نے کہا آپ کو کیا چیز زیادہ پسند ہے؟ وہ (۲۳) ہزار دینار یا یہ جاہ منزلت علمی؟ فروخ بولے: اللہ تعالیٰ کی قسم! یہ وجاہت زیادہ محبوب ہے‘ کہنے لگیں‘ میں نے وہ سب روپیہ اس پر صرف کردیا ہے‘ فروخ نے کہا تم نے وہ روپیہ صحیح مصرف میں خرچ کیا ہے۔ (تاریخ بغداد جلد ۸صفحہ ۴۲۰)

اگرآپ کو یہ واقعہ پسند آیا ہے تو اسکو شئیر ضرور کریں اور اس طرح کے دیگر اسلامی واقعات اور اولیاء اللہ کے حالات و تذکرے آپ ہمارے ویب سائٹ
https://readngrow.online
پر بالکل مفت میں پڑھ سکتے ہیں ۔
تمام اسلامی مواد اور دیگر کیٹگریز کو دیکھنے کے لئے یہ لنک وزٹ کریں
https://readngrow.online/readngrow-categories/
نیز ہم اس ویب سائٹ کی مفید چیزوں کو اس واٹس ایپ چینل پر بھی شئیر کرتے رہتے ہیں ۔
https://whatsapp.com/channel/0029VaviXiKHFxP7rGt5kU1H
یہ چینل فالو کرلیں ۔

Most Viewed Posts

Latest Posts

ایک گنہگار کو توبہ کی توفیق

ایک گنہگار کو توبہ کی توفیق ایک واقعہ سنئے! سیدنا موسیٰ علیہ السلام کے زمانے میں ایک نوجوان کو گناہ کی عادت تھی۔ لوگوں نے بات موسیٰ علیہ السلام تک پہنچائی، حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اس کو بلا کر سمجھایا۔ وہ پھر بھی مرتکب ہو گیا، پھر سمجھایا، پھر مرتکب ہو گیا۔ حضرت...

read more

خواب ہدایت کا ذریعہ بنا

خواب ہدایت کا ذریعہ بنا ہم ایک دفعہ رشیا گئے ، ماسکو میں ایک نوجوان ملا، اس سے بات ہوئی تو اس نے کہا کہ کلمہ پڑھایئے، ہم نے کلمہ پڑھا دیا اور وہ مسلمان بن گیا۔ اس نے کہا کہ میں بائیس گھنٹے کی مسافت سے آیا ہوں، ہمارا ایک کلب ہے ’’ پریذیڈنٹ کلب‘‘ جس میں پینتالیس مرد...

read more

ایک گنہگار کو توبہ کی توفیق

ایک گنہگار کو توبہ کی توفیق ایک واقعہ سنئے! سیدنا موسیٰ علیہ السلام کے زمانے میں ایک نوجوان کو گناہ کی عادت تھی۔ لوگوں نے بات موسیٰ علیہ السلام تک پہنچائی، حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اس کو بلا کر سمجھایا۔ وہ پھر بھی مرتکب ہو گیا، پھر سمجھایا، پھر مرتکب ہو گیا۔ حضرت...

read more