سب و شتم کا انجام
پھر جیسے فضا تک کوئی گندگی نہیں پہنچتی اور پہنچائی بھی جائے تو وہ لوٹ کر پہنچانے والے ہی پر گرتی ہے۔ فضا اس سے گندی نہیں ہوتی۔ ایسے ہی حضرات صحابہ کرام رضی اﷲ عنہم کا طبقہ جو روحانی فضا کی مانند ہے۔ اُمت کی تنقیدوںسے بالا تر ہے۔ اگر ان کی شان میں کوئی طبقہ سب و شتم یا گستاخی یا سوئِ ادب یا جسارت و بے باگی یا ان پر اپنی تنقیدی تحقیر کی گندگی اُچھالے گا تو اس کی یہ ناپاکی اُسی کی طرف لوٹ آئے گی۔ اس فضاء شفاف پر اس کا کوئی اثر نہ ہوگا۔ بہرحال حضرات صحابہ رضی اﷲ عنہم فضاء قریب کی مانند ہیں کہ انہیںشفافی میں بھی آفتاب سے مناسبت ہے وہ آفتابِ نبوت سے نزدیک تر بھی ہیں۔ بلاواسطہ اس سے ملحق بھی ہیں۔ وہ زمین کی کدورتوں سے بالاتر بھی ہیں اور وہ آفتاب کے نور میں فانی بھی ہیں کہ اس نور کی نمائش گاہ بن کر رہ گئے ہیں جن میں اپنی خصوصیت بجزانفعال اور قبولِ حق کے دوسری نہیں رہ گئی تھی۔
