سب و شتم کا انجام

سب و شتم کا انجام

پھر جیسے فضا تک کوئی گندگی نہیں پہنچتی اور پہنچائی بھی جائے تو وہ لوٹ کر پہنچانے والے ہی پر گرتی ہے۔ فضا اس سے گندی نہیں ہوتی۔ ایسے ہی حضرات صحابہ کرام رضی اﷲ عنہم کا طبقہ جو روحانی فضا کی مانند ہے۔ اُمت کی تنقیدوںسے بالا تر ہے۔ اگر ان کی شان میں کوئی طبقہ سب و شتم یا گستاخی یا سوئِ ادب یا جسارت و بے باگی یا ان پر اپنی تنقیدی تحقیر کی گندگی اُچھالے گا تو اس کی یہ ناپاکی اُسی کی طرف لوٹ آئے گی۔ اس فضاء شفاف پر اس کا کوئی اثر نہ ہوگا۔ بہرحال حضرات صحابہ رضی اﷲ عنہم فضاء قریب کی مانند ہیں کہ انہیںشفافی میں بھی آفتاب سے مناسبت ہے وہ آفتابِ نبوت سے نزدیک تر بھی ہیں۔ بلاواسطہ اس سے ملحق بھی ہیں۔ وہ زمین کی کدورتوں سے بالاتر بھی ہیں اور وہ آفتاب کے نور میں فانی بھی ہیں کہ اس نور کی نمائش گاہ بن کر رہ گئے ہیں جن میں اپنی خصوصیت بجزانفعال اور قبولِ حق کے دوسری نہیں رہ گئی تھی۔

Most Viewed Posts

Latest Posts

مسئلے کی خاصیت جھگڑا نہیں

مسئلے کی خاصیت جھگڑا نہیں حکیم الاسلام حضرت مولانا قاری محمد طیب صاحب رحمہ اللہ فرماتے ہیں:۔۔’’اگر اختلاف حجت سے ہو تو وہ دین کا ایک پہلو ہو گا وہ اختلاف تو ہو گا مگر جھگڑا نہ ہو گا کیونکہ اس میں حجت موجود ہے۔ یہ جھگڑے اصل میں ہم اپنی جذبات سے کرتے ہیں اور مسئلوں کو...

read more

صحابہ رضی اللہ عنہم معیار حق

صحابہ رضی اللہ عنہم معیار حق اس تحریر کو فقیہ الامت عبداللہ بن مسعودؓ کے ارشاد پر ختم کرتا ہوں تاکہ ان کے ارشاد سے مودودی صاحب کے فرامین کا معیار حق تمہیں معلوم ہوسکے۔حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ تم میں سے جس کو کسی کی اقتدا کرنی ہو تو ان حضرات کی...

read more

مودودی صاحب کا حق تنقید اور اس کے مہلک اثرات

مودودی صاحب کا حق تنقید اور اس کے مہلک اثرات افسوس ہے کہ جناب مودودی صاحب نے بھی اپنی اسلامی تحریک کی بنیاد اسی نظریہ پر اٹھائی ہے۔ ہم جب خارجیوں کے حالات پڑھتے تھے تو ہمیں ان کی جرأت پر تعجب ہوتا تھا کہ وہ ایک ایسی شخصیت کے مقابلہ میں دین فہمی کا دعویٰ کررہے ہیں جس...

read more