سادہ بابرکت نکاح کا حیرت انگیز واقعہ

سادہ بابرکت نکاح کا حیرت انگیز واقعہ

حضرت مولانا احمد علی لاہوری رحمۃ اللہ علیہ کا تعلق ایک سکھ گھرانے سے تھا۔۔۔ آپ ابتدائے جوانی میں مسلمان ہوگئے اور دارالعلوم دیوبند میں داخلہ لے لیا۔۔۔ حتیٰ کہ آپ دورۂ حدیث کے درجے تک پہنچ گئے۔۔۔
حضرت لاہوری ر حمہ اللہ اپنے نکاح کا واقعہ خود سنایا کرتے تھے کہ جب میرے سسر کو ان کے گھر والوں نے کہا کہ اب ہماری لڑکی جوان ہے۔۔۔ اس لیے مناسب رشتہ تلاش کرکے نکاح کردینا چاہیے تو وہ پنجاب کے مدارس کے دورے پر نکلے۔۔۔ تاکہ انہیں اپنی بچی کے لیے کوئی عَالِم فاضل نوجوان مل سکے۔ چلتے چلتے وہ دارالعلوم دیوبند پہنچ گئے۔۔۔ جب انہوں نے دورۂ حدیث کی کلاس کو دیکھا تو ان کی نگاہیں میرے اوپر ٹک گئیں۔۔۔ شیخ الہند حضرت مولانا محمود حسن رحمۃ اللہ علیہ نے بتایا کہ یہ سکھ گھرانے سے تعلق رکھتا ہے اور مسلمان ہوکر ہمارے پاس علم حاصل کررہا ہے۔۔۔ انہوں نے پوچھا کیا یہ شادی شدہ ہے؟ شیخ الہند رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا نہیں پھر مجھ سے پوچھا، کیا تم شادی کرنے کیلئے تیار ہو؟ میں نے عرض کیا حضرت !میں مسلمان ہوں اور میرا سارا خاندان کافر ہے۔۔۔ اب مجھ اکیلے کو کون اپنی بیٹی دیگا؟ انہوں نے فرمایا کہ اگر کوئی اپنی بیٹی آپ کو دے تو آپ کی کیا رائے ہے؟ میں نے کہا، حضرت! میں اس سنت کو ضرور ادا کروں گا۔۔۔ چنانچہ میرے سسر صاحب نے فرمایا کہ کل عصر کے بعد نکاح ہوگا۔
اس کے بعد میں اپنے دوستوں کے پاس آیا اور انہیں بتایا کہ کل میرا نکاح ہے۔۔۔ ایک دوست نے کہا:۔۔۔۔ جی آپ کے کپڑے بڑے میلے ہیں۔۔۔ آپ اسی سوٹ کو دھو کر دوبارہ پہن لیں۔۔۔
میں نے اپنے دوستوں کی بات مان لی۔۔۔ چنانچہ میں نے اگلے دن دھوتی باندھی اور کپڑوں کا ایک ہی جوڑا تھا جو میں نے پہنا ہوا تھا اس کو دھولیا۔۔۔ موسم سردی کا تھا اور اوپر سے آسمان ابرآلود ہوگیا۔۔۔ عصر کا وقت آگیا۔۔۔ میں نے مسجد کے ایک طرف کپڑے ہوا میں لہرانے شروع کردیئے اور ساتھ ہی دُعائیں بھی مانگنی شروع کردیں کہ اے اللہ! ان کپڑوں کو خشک فرما دے جبکہ موسم کی خرابی کی وجہ سے کپڑے خشک ہونے پر نہیں آرہے تھے۔۔۔ حتیٰ کہ عصر کی اذان ہوگئی۔۔۔ چنانچہ میں نے سردی کے موسم میں گیلے کپڑے پہنے اور مجمع میں آکر بیٹھ گیا۔۔۔۔ لیکن میرے سسر کا دل بھی سونے کا بنا ہوا تھا کہ ان کی نظر ان چیزوں پر بالکل نہیں تھی۔۔۔ انہوں نے دیکھا کہ کل بھی یہی کپڑے تھے اور میلے تھے اور آج بھی وہی کپڑے ہیں اور اس کے پاس کوئی دوسرا جوڑا بھی نہیں ہے۔۔۔۔ اس کے باوجود انہوں نے نکاح کردیا اور کچھ عرصے کے بعد رُخصتی بھی ہوگئی۔
ابتدائی دنوں میں میرے اوپر فاقے آئے کیوں کہ میں طالب علم تھا۔۔۔ تازہ تازہ پڑھ کر فارغ ہوا تھا۔۔۔ کمائی کا کوئی ایسا سلسلہ بھی نہیں تھا، کبھی کھانے کو ملتا اور کبھی نہ ملتا۔۔۔ کچھ عرصے تک میری دُلہن میرے گھر رہی۔۔۔ اسکے بعد وہ اپنے والدین کے گھر گئی تو اس کی والدہ نے اس سے پوچھا: بیٹی! تونے اپنے نئے گھر کو کیسے پایا؟ فرماتے ہیں کہ میری بیوی بڑی نیک اور پاک عورت تھی۔۔۔ اس کی نظر ان فانی چیزوں پر نہیں تھی۔۔۔ چنانچہ اس نے اپنی والدہ سے کہا:’’اماں میں تو سمجھتی تھی کہ مر کر جنت میں جائیں گے لیکن میں تو زندگی میں جنت پہنچ گئی ہوں۔۔۔‘‘(بشکریہ خواتین کا اسلام)

اگرآپ کو یہ واقعہ پسند آیا ہے تو اسکو شئیر ضرور کریں اور اس طرح کے دیگر اسلامی واقعات اور اولیاء اللہ کے حالات و تذکرے آپ ہمارے ویب سائٹ
https://readngrow.online
پر بالکل مفت میں پڑھ سکتے ہیں ۔
تمام اسلامی مواد اور دیگر کیٹگریز کو دیکھنے کے لئے یہ لنک وزٹ کریں
https://readngrow.online/readngrow-categories/
نیز ہم اس ویب سائٹ کی مفید چیزوں کو اس واٹس ایپ چینل پر بھی شئیر کرتے رہتے ہیں ۔
https://whatsapp.com/channel/0029VaviXiKHFxP7rGt5kU1H
یہ چینل فالو کرلیں ۔

Most Viewed Posts

Latest Posts

ایک گنہگار کو توبہ کی توفیق

ایک گنہگار کو توبہ کی توفیق ایک واقعہ سنئے! سیدنا موسیٰ علیہ السلام کے زمانے میں ایک نوجوان کو گناہ کی عادت تھی۔ لوگوں نے بات موسیٰ علیہ السلام تک پہنچائی، حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اس کو بلا کر سمجھایا۔ وہ پھر بھی مرتکب ہو گیا، پھر سمجھایا، پھر مرتکب ہو گیا۔ حضرت...

read more

خواب ہدایت کا ذریعہ بنا

خواب ہدایت کا ذریعہ بنا ہم ایک دفعہ رشیا گئے ، ماسکو میں ایک نوجوان ملا، اس سے بات ہوئی تو اس نے کہا کہ کلمہ پڑھایئے، ہم نے کلمہ پڑھا دیا اور وہ مسلمان بن گیا۔ اس نے کہا کہ میں بائیس گھنٹے کی مسافت سے آیا ہوں، ہمارا ایک کلب ہے ’’ پریذیڈنٹ کلب‘‘ جس میں پینتالیس مرد...

read more

ایک گنہگار کو توبہ کی توفیق

ایک گنہگار کو توبہ کی توفیق ایک واقعہ سنئے! سیدنا موسیٰ علیہ السلام کے زمانے میں ایک نوجوان کو گناہ کی عادت تھی۔ لوگوں نے بات موسیٰ علیہ السلام تک پہنچائی، حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اس کو بلا کر سمجھایا۔ وہ پھر بھی مرتکب ہو گیا، پھر سمجھایا، پھر مرتکب ہو گیا۔ حضرت...

read more