روضہ مبارک سے متعلق ایک ناکام جسارت

روضہ مبارک سے متعلق ایک ناکام جسارت

حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے چند صدی بعد (سلطان نور الدین زنگی رحمہ اللہ کے درو میں ) دو شخص مدینہ میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے جسد اطہر کو نکالنے کے لیے آئے تھے۔۔۔ مسجد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک مکان کرایہ پرلے لیا تھا اور دن بھر نماز و تسبیح میں مشغول رہتے تھے۔۔۔ لوگ ان کے معتقد بھی ہوگئے تھے‘ زاہد مشہور ہوگئے تھے۔۔۔ وہ کم بخت رات کے وقت اس مکان سے قبر شریف کی طرف سرنگ کھودتے تھے اور جس قدر سرنگ کھود لیتے راتوں رات مٹی مدینہ سے باہر پھینک آتے تھے اور جگہ برابر کردیتے تھے تاکہ کسی کو پتہ نہ چلے کئی ہفتہ تک وہ لوگ سرنگ کھودنے میں مشغول رہے ۔۔۔جب ادھر ان لوگوں نے یہ کام شروع کیا حق تعالیٰ نے اس زمانہ کے سلطان کو (نام یاد نہیں رہا) بذریعہ خواب کے متنبہ کردیا۔۔۔ خواب میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ کے چہرہ مُبارک پر حزن و غم کے آثار ہیں اور آپ اس بادشاہ کا نام لے کر فرمارہے ہیں کہ مجھے ان دو شخصوں نے بہت ایذا دے رکھی ہے جلد مجھے ان سے نجات دو۔۔۔ خواب میں دونوں شخصوں کی صورت بھی بادشاہ کو دکھلادی گئی۔۔۔ خواب سے بیدار ہوکر بادشاہ نے وزیر سے اس کا تذکرہ کیا۔۔۔ وزیر نے کہا معلوم ہوتا ہے کہ مدینہ میں کوئی حادثہ پیش آیا ہے آپ جلد مدینہ تشریف لے جائیں۔۔۔ بادشاہ نے فوراً فوج لے کر بہت تیزی کے ساتھ مدینہ کی طرف سفر شروع کیا اور بہت جلد مدینہ پہنچ گیا۔۔۔ اس عرصہ میں وہ لوگ بہت سرنگ کھود چکے تھے اور بالکل جسد اطہر کے قریب پہنچ گئے تھے۔۔۔ ایک دن کی بادشاہ کو اور تاخیر ہوجاتی تو وہ لوگ اپنا کام پورا کرلیتے۔۔۔ بادشاہ نے مدینہ پہنچ کر تمام لوگوں کی مدینہ سے باہر دعوت کی اور سب کو مدینہ سے ایک خاص دروازہ سے باہر نکلنے کا حکم کیا اور خود دروازہ پر کھڑے ہوکر ہر شخص کو خوب غور سے دیکھتا جاتا تھا۔۔۔ یہاں تک کہ مدینہ کے سب مرد شہر سے باہر نکل آئے مگر ان دو شخصوں کی صورت نظر نہ پڑی ۔۔۔جن کو خواب میں دیکھا تھا۔۔۔ اس لیے بادشاہ کو سخت حیرت ہوئی اور لوگوں سے کہا کہ کیا سب لوگ باہر آگئے۔۔۔ لوگوں نے کہا کہ اب کوئی اندر نہیں رہا۔۔۔ بادشاہ نے کہا یہ ہرگز نہیں ہوسکتا۔۔۔ ضرور کوئی اندر رہا ہے‘ لوگوں نے کہا کہ دو زاہد اندر رہ گئے ہیں وہ کسی کی دعوت میں جایا نہیں کرتے اور نہ کسی سے ملتے ہیں۔۔۔ بادشاہ نے کہا مجھے ان ہی سے کام ہے۔۔۔ چنانچہ جب وہ پکڑ کر لائے گئے تو وہ بعینہ وہ دو صورتیں نظر پڑیں جو خواب میں دکھلائی گئی تھیں ان کو فوراً قید کرلیا گیا اور پوچھا گیا کہ تم نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو کیا ایذا دی ہے۔۔۔
چنانچہ بڑی دیر کے بعد انہوں نے اقرار کیا کہ ہم نے جسد اطہر کے نکالنے کیلئے سرنگ کھودی ہے۔۔۔ چنانچہ بادشاہ نے وہ سرنگ دیکھی تو معلوم ہوا کہ قدم مُبارک تک پہنچ چکی ہے۔۔۔ بادشاہ نے قدم مُبارک کو بوسہ دے کر سرنگ بند کرادی اور زمین کو پانی کی تہ تک کھدوا کر قبر مُبارک کے چاروں طرف سیسہ پلادیا تاکہ آئندہ کوئی سرنگ نہ لگاسکے۔۔۔
اس واقعہ سے معلوم ہوا کہ مخالفین کو بھی جسد اطہر کے صحیح و سالم ہونے کا ایسا پختہ اعتقاد ہے کہ کئی سو برس کے بعد بھی اس کے نکالنے کی کوشش کی اگر ان کو جسد اطہر کے محفوظ ہونے کا یقین نہ ہوتا تو وہ سرنگ کیوں لگاتے۔۔۔ محض وہم و شبہ پر اتنا بڑا خطرہ کا کام کوئی نہیں کرتے جو لوگ اہل کتاب ہیں وہ بھی خوب سمجھتے ہیں کہ نبی کے جسم کو زمین نہیں کھا سکتی۔۔۔ وہ خوب جانتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نبی برحق تھے۔۔۔ مگر بوجہ عناد کے اقرار نہیں کرتے۔۔۔ (خطبات حکیم الامت جلد ۳۱)

اگرآپ کو یہ واقعہ پسند آیا ہے تو اسکو شئیر ضرور کریں اور اس طرح کے دیگر اسلامی واقعات اور اولیاء اللہ کے حالات و تذکرے آپ ہمارے ویب سائٹ
https://readngrow.online
پر بالکل مفت میں پڑھ سکتے ہیں ۔
تمام اسلامی مواد اور دیگر کیٹگریز کو دیکھنے کے لئے یہ لنک وزٹ کریں
https://readngrow.online/readngrow-categories/
نیز ہم اس ویب سائٹ کی مفید چیزوں کو اس واٹس ایپ چینل پر بھی شئیر کرتے رہتے ہیں ۔
https://whatsapp.com/channel/0029VaviXiKHFxP7rGt5kU1H
یہ چینل فالو کرلیں ۔

Most Viewed Posts

Latest Posts

ایک گنہگار کو توبہ کی توفیق

ایک گنہگار کو توبہ کی توفیق ایک واقعہ سنئے! سیدنا موسیٰ علیہ السلام کے زمانے میں ایک نوجوان کو گناہ کی عادت تھی۔ لوگوں نے بات موسیٰ علیہ السلام تک پہنچائی، حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اس کو بلا کر سمجھایا۔ وہ پھر بھی مرتکب ہو گیا، پھر سمجھایا، پھر مرتکب ہو گیا۔ حضرت...

read more

خواب ہدایت کا ذریعہ بنا

خواب ہدایت کا ذریعہ بنا ہم ایک دفعہ رشیا گئے ، ماسکو میں ایک نوجوان ملا، اس سے بات ہوئی تو اس نے کہا کہ کلمہ پڑھایئے، ہم نے کلمہ پڑھا دیا اور وہ مسلمان بن گیا۔ اس نے کہا کہ میں بائیس گھنٹے کی مسافت سے آیا ہوں، ہمارا ایک کلب ہے ’’ پریذیڈنٹ کلب‘‘ جس میں پینتالیس مرد...

read more

ایک گنہگار کو توبہ کی توفیق

ایک گنہگار کو توبہ کی توفیق ایک واقعہ سنئے! سیدنا موسیٰ علیہ السلام کے زمانے میں ایک نوجوان کو گناہ کی عادت تھی۔ لوگوں نے بات موسیٰ علیہ السلام تک پہنچائی، حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اس کو بلا کر سمجھایا۔ وہ پھر بھی مرتکب ہو گیا، پھر سمجھایا، پھر مرتکب ہو گیا۔ حضرت...

read more