رزق کی ناقدری سے بچئے

رزق کی ناقدری سے بچئے

شیخ عبدالحق مدنی رحمہ اللہ کی عادت تھی کہ جب بھی مدینہ منورہ کی گلیوں سے گزرتے تو جوگری پڑی روٹی ملتی اٹھا لیتے اس پر ایک مرتبہ فرمایا کہ جب اور جہاں بھی نعمت کی ناقدری ہوتی ہے اللہ تعالیٰ اس نعمت کو واپس لے لیتے ہیں۔ یہ یہاں بھی ہوسکتا ہے۔ لہٰذا مجھے ڈر لگا رہتا ہے کہ کہیں اہل مدینہ کی پکڑ نہ ہوجائے۔ اس لئے میں جب بھی روٹیوں کے ٹکڑے اٹھاتا ہوں تو دعا کرتا ہوں کہ یا الٰہی! اگرچہ یہ لوگ ناقدری کرتے ہیں اور نادان بھی ہیں مگر میں نے حتی الامکان قدر کرنے کی کوشش کی ہے تو انہیں معاف کردینا۔(تجلیات غفوری)
شیخ الاسلام مولانا مفتی محمد تقی عثمانی مدظلہ فرماتے ہیں ایک مرتبہ میرے والد ماجدؒ مولانا سید اصغر حسین صاحب رحمہ اللہ کے گھر ملاقات کے لیے گئے ہوئے تھے ٗ کھانے کا وقت آگیا تو بیٹھک میں دسترخوان بچھا کر کھانا کھایا گیا ٗ کھانے سے فارغ ہونے پر والد صاحبؒ دستر خوان سمیٹنے لگے ٗ تاکہ اسے کہیں صاف کر آئیں ٗ حضرت میاں صاحبؒ نے پوچھا: ’’ یہ آپ کیا کررہے ہیں ؟‘‘ والد صاحبؒ نے عرض کیا کہ ’’ حضرت دسترخوان سمیٹ رہا ہوں تاکہ اسے کسی مناسب جگہ پر صاف کر دوں ‘‘ میاں صاحبؒ بولے ’’ کیا آپ کو دسترخوان سمیٹنا آتا ہے ؟‘‘ والد صاحبؒ نے کہا کہ ’’ کیا دسترخوان سمیٹنا بھی کوئی فن ہے جسے سیکھنے کی ضرورت ہو؟‘‘ میاں صاحبؒ نے جواب دیا : ’’جی ہاں یہ بھی ایک فن ہے اوراسی لیے میں نے آپ سے پوچھا کہ آپ کو یہ کام آتا ہے یا نہیں ؟‘‘ والد صاحبؒ نے درخواست کی کہ ’’ حضرت! پھر تو یہ فن ہمیں بھی سکھا دیجئے۔ ‘‘ میاں صاحبؒ نے فرمایا کہ آئیے میں آپ کو یہ فن سکھائوں۔
یہ کہہ کر انہوں نے دسترخوان پر بچی ہوئی بوٹیاں الگ کیں ٗ ہڈیوں کو الگ جمع کیا ٗ روٹی کے جو بڑے بڑے ٹکڑے بچ گئے تھے ٗ انہیں الگ رکھا پھرروٹی کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے جو برادے کی سی شکل میں پڑے رہ گئے تھے انہیں چن چن کر الگ اکٹھا کرلیا ٗ پھر فرمایا کہ ’’ میں نے ان میں سے ہر چیز کی الگ جگہ مقرر کی ہوئی ہے ٗ یہ بوٹیاں میں فلاں جگہ اٹھا کر رکھتا ہوں ٗ وہاں روزانہ ایک بلی آتی ہے ٗ اوریہ بوٹیاں کھا لیتی ہے ٗ ان ہڈیوں کی الگ جگہ مقرر ہے ٗ کتے کو وہ جگہ معلوم ہے اور وہ وہاں سے آکر یہ ہڈیاں اٹھا لیتا ہے اور روٹی کے یہ بڑے ٹکڑے میں فلاں جگہ رکھتا ہوں وہاں پرندے آتے ہیں اور یہ ٹکڑے ان کے کام آجاتے ہیں ٗ اور یہ جو روٹی کے بہت چھوٹے چھوٹے ٹکڑے ہیں ٗ یہ میں چیونٹیوں کے کسی بل کے پاس رکھ دیتا ہوں اور یہ ان کی غذا بن جاتی ہے ‘‘۔
پھر فرمایا کہ : ’’ یہ ساری چیزیں اللہ تعالیٰ کا رزق ہیں ٗ ان کا کوئی حصہ اپنے امکان کی حد تک ضائع نہیں ہونا چاہیے ‘‘یہ تھا ایک حقیقی اسلامی معاشرے کا وہ مزاج و مذاق جو قرآن و سنت کے دلکش رنگ میں ڈھلا ہوا تھا۔ چونکہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں بے حساب رزق عطا فرما یا ہوا ہے اس لیے اس کے چھوٹے چھوٹے اور تھوڑے تھوڑے حصوں کی ہمیں نہ صرف یہ کہ قدر نہیںہوتی ٗ بلکہ بسا اوقات ہم اس کی بے حرمتی تک پر آمادہ ہو جاتے ہیں لیکن اگر کسی وقت خدانخواستہ اسی روز کی قلت پیدا ہو جائے تو پتہ چلے کہ ایک ایک ذرے کی کیا قدروقیمت ہے ؟
اللہ تعالیٰ ہمیں نعمت کی ناقدری سے بچائے آمین

اگرآپ کو یہ واقعہ پسند آیا ہے تو اسکو شئیر ضرور کریں اور اس طرح کے دیگر اسلامی واقعات اور اولیاء اللہ کے حالات و تذکرے آپ ہمارے ویب سائٹ
https://readngrow.online
پر بالکل مفت میں پڑھ سکتے ہیں ۔
تمام اسلامی مواد اور دیگر کیٹگریز کو دیکھنے کے لئے یہ لنک وزٹ کریں
https://readngrow.online/readngrow-categories/
نیز ہم اس ویب سائٹ کی مفید چیزوں کو اس واٹس ایپ چینل پر بھی شئیر کرتے رہتے ہیں ۔
https://whatsapp.com/channel/0029VaviXiKHFxP7rGt5kU1H
یہ چینل فالو کرلیں ۔

Most Viewed Posts

Latest Posts

ایک گنہگار کو توبہ کی توفیق

ایک گنہگار کو توبہ کی توفیق ایک واقعہ سنئے! سیدنا موسیٰ علیہ السلام کے زمانے میں ایک نوجوان کو گناہ کی عادت تھی۔ لوگوں نے بات موسیٰ علیہ السلام تک پہنچائی، حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اس کو بلا کر سمجھایا۔ وہ پھر بھی مرتکب ہو گیا، پھر سمجھایا، پھر مرتکب ہو گیا۔ حضرت...

read more

خواب ہدایت کا ذریعہ بنا

خواب ہدایت کا ذریعہ بنا ہم ایک دفعہ رشیا گئے ، ماسکو میں ایک نوجوان ملا، اس سے بات ہوئی تو اس نے کہا کہ کلمہ پڑھایئے، ہم نے کلمہ پڑھا دیا اور وہ مسلمان بن گیا۔ اس نے کہا کہ میں بائیس گھنٹے کی مسافت سے آیا ہوں، ہمارا ایک کلب ہے ’’ پریذیڈنٹ کلب‘‘ جس میں پینتالیس مرد...

read more

ایک گنہگار کو توبہ کی توفیق

ایک گنہگار کو توبہ کی توفیق ایک واقعہ سنئے! سیدنا موسیٰ علیہ السلام کے زمانے میں ایک نوجوان کو گناہ کی عادت تھی۔ لوگوں نے بات موسیٰ علیہ السلام تک پہنچائی، حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اس کو بلا کر سمجھایا۔ وہ پھر بھی مرتکب ہو گیا، پھر سمجھایا، پھر مرتکب ہو گیا۔ حضرت...

read more