دین کے معاملے میں جرأت بے جا

دین کے معاملے میں جرأت بے جا

فرمایا کہ ساری دنیا کے بڑے بڑے لکھے پڑھے ماہر محقق جس فن کو نہیں جانتے اس میں ان کو یہ کہنے میں کوئی تکلف نہیں ہوتا کہ میں اس فن سے واقف نہیں ۔ کسی انجینئر سے طب اورڈاکٹری کا مسئلہ پوچھا جاتا ہے تو بے تکلف کہہ دیتا ہے کہ میں ڈاکٹر نہیں۔ ڈاکٹر سے انجینئر کی بات پوچھی جائے تو کہہ دیتا ہے کہ میں انجینئر نہیں مگر قرآن اوردین کو لوگوں نے معلوم نہیں کیوں ایسا سمجھ رکھا ہے کہ ہر شخص چاہے اس نے اس کے مبادی بھی کبھی نہ پڑھے دیکھے ہوں اس میں بے دریغ رائے زنی اور جو کچھ اپنی سمجھ میں آ جائے اس پر اصرار کرنے لگتے ہیں۔ (بظاہر سبب یہ ہے کہ دین کی عظمت قلوب میں نہیں رہی۔ اس لئے اس کو ایک سرسری چیز سمجھ لیا ہے )۔
حکومت کے ایک افسر صاحب کو سود حلال کرنے کی بڑی فکر رہتی تھی اور کہتے تھے کہ مسلمان دوسری قوموں سے پیچھے اس لئے رہ گئے کہ ان کے یہاں سود حرام ہے ۔ حضرتؒ نے فرمایا کہ بنو امیہ نے جو دنیا میں ترقی کی کیا انہوں نے بھی سود کو حلال کیا تھا ۔ اگر نہیں تو معلوم ہوا کہ دنیا کی ترقی بھی سود پر موقوف نہیں۔ وہ ایک آیت کی غلط تفسیر کرتے تھے اور اس پر اصرار تھا اور شہادت میں یہ پیش کرتے تھے کہ خواجہ حسن نظامی نے اس آیت کا یہ مطلب لکھا ہے ۔ یہ صاحب مقدمات کے فیصلے کیا کرتے تھے ۔ حضرتؒ نے فرمایا کہ اگر میں کسی مقدمہ کا وکیل ہو کر آپ کے سامنے پیش ہوں اور زیر بحث قانون کی ایسی تشریح بیان کروں جو اس کے الفاظ پر پوری اترتی ہے مگر ہائی کورٹ کی مانی ہوئی تعبیر و تشریح کے خلاف ہے۔ کیا آپ میرے بیان کئے ہوئے معنی و مطلب کی بنیاد پر مقدمہ کی ڈگری دیں گے اور یہ لکھ دیں گے کہ اشرف علی نے اس قانون کی یہ تشریح کی ہے ۔اگر آپ ایسا کرلیں تو پھر دیکھئے گورنمنٹ کی طرف سے آپ کو کیا کیا خطابات ملتے ہیں۔(ملفوظات حکیم الامت جلد نمبر ۲۴)

Most Viewed Posts

Latest Posts

تقلید کا دور کبھی ختم نہیں ہو سکتا

تقلید کا دور کبھی ختم نہیں ہو سکتا حکیم الاسلام حضرت مولانا قاری محمد طیب صاحب رحمہ اللہ فرماتے ہیں:۔۔’’اجتہاد فی الدین کا دور ختم ہو چکا توہو جائے مگر اس کی تقلید کا دور کبھی ختم نہیں ہو سکتا‘ تقلید ہر اجتہاد کی دوامی رہے گی خواہ وہ موجودہ ہو یا منقضی شدہ کیونکہ...

read more

طریق عمل

طریق عمل حقیقت یہ ہے کہ لوگ کام نہ کرنے کے لیے اس لچر اور لوچ عذر کو حیلہ بناتے ہیں ورنہ ہمیشہ اطباء میں اختلاف ہوتا ہے وکلاء کی رائے میں اختلاف ہوتا ہے مگر کوئی شخص علاج کرانا نہیں چھوڑتا مقدمہ لڑانے سے نہیں رکتا پھر کیا مصیبت ہے کہ دینی امور میں اختلاف علماء کو حیلہ...

read more

اہل علم کی بے ادبی کا وبال

اہل علم کی بے ادبی کا وبال مذکورہ بالا سطور سے جب یہ بات بخوبی واضح ہوگئی کہ اہل علم کا آپس میں اختلاف امر ناگزیر ہے پھر اہل علم کی شان میں بے ادبی اور گستاخی کرنا کتنی سخت محرومی کی بات ہے حالانکہ اتباع کا منصب یہ تھا کہ علمائے حق میں سے جس سے عقیدت ہو اور اس کا عالم...

read more