دین امتثالِ امر کا نام ہے
ملفوظاتِ حکیم الامت مجدد الملت حضرت مولانا محمد اشرف علی تھانوی رحمۃ اللہ علیہ
ارشاد فرمایا کہ حدیث میں ہے کہ ایسی حالت میں نماز نہ پڑھو کہ تم کو بول و براز کا تقاضا ہو۔ اب دیکھئے کہ ایسے وقت کی نماز پڑھنا حرام ہے اور پیشاب و پاخانہ سے فراغت کرنا واجب ہے اور یہ شخص دنیا کے کام میں نہیں بلکہ دین کے کام میں ہے کیونکہ اس حالت میں یہ حکمِ شرعی کا امتثال کر رہا ہے۔ پس دین کی حقیقت امتثالِ امر ہے، جس وقت جس کام کا شریعت امر کرے اس وقت وہی دین ہے۔فقط نماز روزہ ہی دین نہیں بلکہ نماز وغیرہ بھی اسی وقت تک دین کے کام ہیں جب کہ امر کے موافق ہوں، اگر امتثالِ امر نہ ہو تو یہ پھر دین میں داخل نہیں۔ مثلاً نماز خلافِ امر ہو جیسے طلوع یا غروب کے وقت پڑھی جائے تو بجائے ثواب کے گناہ ہوگا۔ روزہ کیسی اچھی عبادت ہے مگر خلافِ امر ہو تو وہ بھی دین کا کام نہیں ، مثلاً کوئی شخص عید کے دن روزہ رکھے اور تمام دن غیبت بھی نہ کرے، ذکر وشغل ہی میں مشغول رہے، اور تمام آدابِ صیام کی رعایت کرے مگر شام کو یہ شخص مردود ہے کیونکہ اس دن روزہ رکھنا خلافِ امر ہے۔ ایسے ہی کوئی شخص حج کرے مگر ذوالحجہ کی نویں تاریخ کی بجائے دسویں کو وقوفِ عرفہ کرے تو اس کا حج مردود ہے کیونکہ اس نے خلافِ امر کیا ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ دین کی حقیقت امتثالِ امر ہے۔
نوٹ:- یہ ملفوظات ڈاکٹر فیصل صاحب (خلیفہ شیخ الحدیث حضرت مولانا عبدالمتین بن حسین شاہ صاحب دامت برکاتہم العالیہ) نے انتخاب فرمائے ہیں۔ اور انکو حضرت مولانا محمد زبیر صاحب (فاضل جامعہ دارالعلوم الاسلام لاہور 2023) نے تحریر فرمایا ہے ۔
یہ ملفوظات آپ ہماری ویب سائٹ
https://readngrow.online
پر بالکل مفت میں پڑھ سکتے ہیں ۔
براہ مہربانی یہ پوسٹ اپنے واٹس ایپ اور دیگر سوشل میڈیا پر شئیر کریں ۔

