دینی امور دنیا میں مخل نہیں
ملفوظاتِ حکیم الامت مجددالملت حضرت مولانا محمد اشرف علی تھانوی رحمۃ اللہ علیہ
فرمایا کہ لوگ خواہ مخواہ دین کو بدنام کرتے ہیں کہ دنیا کے لئے دین مخل ہے۔ یہ سخت غلطی ہے۔ اگر دین امور دنیا میں معین نہیں تو مخل بھی نہیں۔ دین کا ایسا حصہ جس میں اخلالِ دنیا کا شبہ ہے زیادہ تر وہ ہے جس میں یہ حکم ہے کہ یہ کام نہ کرو گناہ ہوگا، وہ نہ کرو گناہ ہوگا مگر وہ چیزیں خود ایسی ہیں جو عقلاً بھی قابل ترک ہیں مثلاً جھوٹ ہے، فریب ہے، غیبت ہے علی ھذا تو ان کے ترک میں کوئی وقت صرف نہیں ہوتا جو کسب دنیا میں مخل ہو بلکہ ارتکاب میں تو کچھ وقت صرف ہوتا بھی ہے، اسی قدر وہ دنیا میں مخل ہو سکتا ہے۔ ترک میں کچھ بھی صرف نہیں ہوتا۔ ہاں جن چیزوں کا حکم ہے مثلاً نماز ہے اس کی پابندی سے بعض کاموں میں مزاحمت ہوتی ہے تو جو کرنے والے ہیں وہ کرتے ہیں اور اگر تعمیق کی نظر سے دیکھا جائے تو اس میں بھی کوئی مزاحمت نہیں۔ اس لئے کہ آخر اور بھی تو ایسی چیزیں ہیں جو طبعاً ضروری ہیں اور ان کو انسان کرتا ہے تو دین ہی کو کیوں تختہ مشق بنایا جاتا ہے۔ ان کو بھی چھوڑ دو مثلاً کھانا ہے، پینا ہے اور حوائج ضروریہ ہیں، ان کی پابندی کیوں کرتے ہو۔ یہ سب شبہات دین سے عدمِ تعلق اور اعتقادِ عدم ضرورت کی وجہ سے سوجھتے ہیں ورنہ ضرورت کی چیز کے متعلق امر فطری ہے کہ کبھی شبہ نہیں ہوا کرتا سو اگر دین کو بھی ضروری سمجھتے تو اس میں بھی شبہ نہ ہوتا۔
نوٹ:- یہ ملفوظات ڈاکٹر فیصل صاحب (خلیفہ شیخ الحدیث حضرت مولانا عبدالمتین بن حسین شاہ صاحب دامت برکاتہم العالیہ) نے انتخاب فرمائے ہیں۔ اور انکو حضرت مولانا محمد زبیر صاحب (فاضل جامعہ دارالعلوم الاسلام لاہور 2023) نے تحریر فرمایا ہے ۔
یہ ملفوظات آپ ہماری ویب سائٹ
https://readngrow.online
پر بالکل مفت میں پڑھ سکتے ہیں ۔
براہ مہربانی یہ پوسٹ اپنے واٹس ایپ اور دیگر سوشل میڈیا پر شئیر کریں ۔

