دہریوں کے ملک میں حفاظت ِ قرآن
ہمارے ایک دوست تھے غالباً 1973ء کی بات ہے۔ اس زمانے میں ایک ایسا وقت آ گیا تھا کہ جب سوشلزم، دہریت، کیمونزم والے بڑے ایکٹو ہو گئے تھے۔ کوئی کہتا تھا کہ ایشیا سرخ ہے، کوئی کہتا تھا کہ ایشیا سبز ہے، وہ عجیب سا سلسلہ تھا۔ اس زمانے میں ہم یونیورسٹی میں تھے، ہمارے ایک دوست سٹیل مل کراچی کے اندر جاب کر رہے تھے۔ مل والوں نے ان کو رشیا بھیجا ٹریننگ حاصل کرنے کے لئے۔ وہ کہتے ہیں کہ جمعہ کا دن تھا میں نے لوگوں سے کہا کہ مجھے مسجد دکھائو، میں مسجد میں جا کر نماز پڑھوں۔ لوگوں نے کہا کہ جی یہاں باقی مسجدیں تو بند ہیں بس ایک دو مسجدیں ٹورسٹ (سیاحوں) کے لئے کھلی ہوئی ہیں۔ آپ یہیں اپنی جگہ پر پڑھ لیں۔ میں نے کہا نہیں میرا دل کافی اداس ہے میں مسجد کے لئے جاتا ہوں مسجد میں۔ میں گیا، وہاں مسجد کا خادم ملا، میں نے کہا کہ مسجد کھولو! اس نے کہا: کہ جی کھول تو میں دیتا ہوں اگر آپ کو پولیس پکڑ کر لے گئی تو ذمہ دار میں نہیں ہوں گا۔ میں نے کہا: کہ مجھے پرواہ نہیں ہے۔ میں اپنے ملک میں بھی مسلمان تھا، یہاں بھی مسلمان ہوں، میں اگر اپنی نماز ادا کروں گا تو کون مجھے پکڑ سکتاہے؟ میں مہمان ہوں، بھاگ کے تو نہیں آیا۔ کہنے لگے: کہ میں نے اذان دی، نماز پڑھی۔ قریب کے گھروں کے جو بچے تھے انہوں نے مجھے دیکھ لیا۔ انہوں نے اپنے گھر والوں کو جا کے بتا دیا، جب میں نماز پڑھ کے نکلنے لگا تو قریب کے چند مرد و عورتیں تھیں، وہ آئے، انہوں نے اشارہ کیا کہ آپ ہمارے پاس چائے کی دعوت قبول فرمائیں۔ میرے پاس بھی وقت تھا، میں نے کہا: بہت اچھا۔ کہنے لگے کہ میں ان کے گھر چلا گیا تو انہوں نے کنڈی لگالی۔ جب انہوں نے دیکھا کہ اب باہر کا بندہ کوئی نہیں تو وہ بڑے مطمئن ہو گئے کہ چلو سب اپنے ہیں، اب کوئی انٹیلی جنس والا نہیں جو شکایت لگا کر مصیبت کھڑی کرے گا۔ کہنے لگے کہ انہوں نے کھانا کھلایا، چائے پلائی، پھر پاکستان کے بارے میں ، مسلمانوں کے بارے میں باتیں پوچھنے بیٹھ گئے۔ اب صورت حال ایسی تھی کہ جہاں میں بیٹھا تھا میرے آگے چھوٹے چھوٹے بچے تھے، ان کے پیچھے مرد تھے اور مردوں کے پیچھے گھروں کی عورتیں بھی تھیں۔ قدرتاً میرے دل میں خیال آیا میں نے آگے بیٹھے بچے سے پوچھا کہ بچے تم قرآن پاک پڑھنا جانتے ہو؟ اس نے سر ہلایا کہ ہاں میں جانتا ہوں، میں نے اپنی جیب سے چھوٹا قرآن مجید نکالا اور اس کے سامنے یوں کر کے کہا کہ اچھا یہاں سے پڑھو! اب وہ بچہ کبھی قرآن مجید کو دیکھتا ہے کبھی مجھے دیکھتا ہے، میں نے کہا: کہ پڑھو نا
جیسے ہی میں نے دو لفظ پڑھے تو بچے نے پڑھنا شروع کردیا اور پڑھتا ہی جا رہا تھا۔ مجھے بڑی حیرانگی ہوئی کہ پہلے پڑھتا ہی نہیں تھا، اب پڑھنا شروع کیا تو رکتا ہی نہیں۔ میں نے اس کے والد سے پوچھا کہ یہ کیا مسئلہ ہے؟ تو اس کے والد نے کہا کہ جی بات یہ ہے کہ آپ لوگ خوش نصیب ہیں، مسلمان ہیں، مسلمانوں کا ملک ہے، آپ کے گھروں میں مسجدوں میں ہر جگہ پر اللہ کا کلام موجود ہے، جہاں چاہو بیٹھ کر پڑھو، کوئی روکنے والا نہیں۔ ہم جس ملک میں ہیں یہاں ہم گھروں میں نہیں رکھ سکتے، مسجدوں میں نہیں رکھ سکتے، اگر کسی کے ہاں سے ایک ورق بھی مل جائے تو اس گھر کے لوگوں کو پھانسی کی سزا ملتی ہے۔ چنانچہ ہم نے تو اپنے بچوں کو کبھی قرآن پاک دکھایا بھی نہیں اور دیکھا بھی نہیں۔ ہوتا یہ ہے کہ ہمارے جو پرانے حافظ تھے، جب انقلاب آیا تو ہم اپنے بچوں کو ان کے پاس شاگرد بنا کر بھیج دیتے تھے کہ یہ درزی ہیں اور ہمارا بچہ درزی کا فن سیکھے گا۔ استاد اس کو کپڑے سینا بھی سکھاتا اور ساتھ ساتھ نابینا بچے کی طرح دو دو تین تین آیتیں زبانی بتا دیتا۔ وہ بچہ زبانی یاد کر لیتا ، چنانچہ زبانی سن کر یاد کرتے کرتے ایسا وقت آ جاتا کہ بچہ قرآن پاک کا حافظ تو بن جاتا اس کو قرآن پاک ناظرہ پڑھنا نہیں آتا تھا۔ اس لئے کہ دیکھا تو کبھی نہیں تھا۔ تو جب آپ نے پہلے دکھایا کہ جی یہاں سے پڑھو تو اسے کیا پتہ، اس نے تو کبھی قرآن پاک دیکھا ہی نہیں۔ وہ کہنے لگے کہ میں حیران ہوا کہ لوگو! تم کاغذ پر لکھے ہوئے قرآن پر تو پابندیاں عائد کر سکتے ہو، جو سینوں میں لکھا ہوا ہے، تم اس پر کیسے پابندی عائد کر سکتے ہو؟(ج 27ص87)
اگرآپ کو یہ واقعہ پسند آیا ہے تو اسکو شئیر ضرور کریں اور اس طرح کے دیگر اسلامی واقعات اور اولیاء اللہ کے حالات و تذکرے آپ ہمارے ویب سائٹ
https://readngrow.online
پر بالکل مفت میں پڑھ سکتے ہیں ۔
تمام اسلامی مواد اور دیگر کیٹگریز کو دیکھنے کے لئے یہ لنک وزٹ کریں
https://readngrow.online/readngrow-categories/
نیز ہم اس ویب سائٹ کی مفید چیزوں کو اس واٹس ایپ چینل پر بھی شئیر کرتے رہتے ہیں ۔
https://whatsapp.com/channel/0029VaviXiKHFxP7rGt5kU1H
یہ چینل فالو کرلیں ۔

