دور اندیشی
ارشاد فرمایا کہ اگر ذرا حوصلے سے نبوی طریقے کے مطابق دوسروں کی غلطیوں کو معاف کر دیا جائے تو اگر روزِ قیامت رب ِ کائنات کے دربار میں فیصلہ ہمارے خلاف ہوا تو بھی اخلاص و خیر خواہی کی برکت سے قوی امید ہے کہ اللہ کریم ان کے دلوں کو ہماری طرف سے صاف فرما کر ڈھیروں اجر عطا کر کے راضی فرما لیں گے اور ہم وہاں کی رسوائی سے بچ سکیں گے ۔ اور اگر ہمارا ہی حق تھا تو معاف کر کے ہم اللہ کو راضی کر کے اس سے کئی گنا زیادہ اجر کے مستحق بن گئے ۔ ہر حال میں جیت ہی جیت ہے۔ بتائیے یہ سودا بہتر ہے کہ معاف کردیا جائے یا دوسرا؟
( مؤرخہ۳ اپریل ۲۰۱۹ء،درس صحیح بخاری،بمقام دارالحدیث، اسلامک دعوۃ اکیڈمی، لیسٹر، برطانیہ)
ازافادات محبوب العلماء حضرت مولانا سلیم دھورات مدظلہ العالی (خلیفہ مجاز مولانا یوسف لدھیانوی شہید رحمہ اللہ تعالیٰ)۔
نوٹ: اس طرح کے دیگر قیمتی ملفوظات جو اکابر اولیاء اللہ کے فرمودہ قیمتی جواہرات ہیں ۔ آپ ہماری ویب سائٹ
https://readngrow.online/
پر بالکل مفت میں پڑھ سکتے ہیں ۔ براہ مہربانی یہ پوسٹ اپنے واٹس ایپ ودیگر سوشل میڈیا پر شئیر کریں ۔
اور ایسے قیمتی ملفوظات ہمارے واٹس ایپ چینل پر بھی مستقل شئیر کئے جاتے ہیں ۔ چینل کو فالو کرنے کے لئے یہ لنک وزٹ کریں
https://whatsapp.com/channel/0029VaJtUph4yltKCrpkkV0r
شکریہ ۔

