دورانِ نماز کتنی توجہ اور حضورِ قلب ضروری ہے؟
ملفوظاتِ حکیم الامت مجدد الملت حضرت مولانا محمد اشرف علی تھانوی رحمۃ اللہ علیہ
ارشاد فرمایا کہ نماز وغیرہ میں جو توجہ اور حضورِ قلب ضروری ہے تو اس کی حد یہ ہے کہ اتنی توجہ اور اتنا حضور ہو جتنا اس قرآن شریف پڑھنے والے کو قرآن شریف کی طرف ہوتا ہے جس کو کچا یاد ہو اور وہ سوچ سوچ کر پڑھتا ہے۔ اگر باوجود کوشش و تدبیر کے توجہ تام نہ ہو تو اس پر قلق نہ کرے( نماز وغیرہ میں) کیونکہ پھر یہ قلق کی طرف توجہ ہوجائے گی۔ غرض یہ کہ اگر سعی ( کوشش) پر بھی کامیابی نہ ہو تو پھر اس قلق میں نہ پڑے کہ ہائے اب تک کیا ہوا، آئندہ کیسے ہوگا۔
نوٹ:- یہ ملفوظات ڈاکٹر فیصل صاحب (خلیفہ عبدالمتین شاہ صاحب دامت برکاتہم العالیہ) نے انتخاب فرمائے ہیں۔ اور انکو حضرت مولانا محمد زبیر صاحب (فاضل جامعہ دارالعلوم الاسلام لاہور 2023) نے تحریر فرمایا ہے ۔
یہ ملفوظات آپ ہماری ویب سائٹ
https://readngrow.online
پر بالکل مفت میں پڑھ سکتے ہیں ۔
براہ مہربانی یہ پوسٹ اپنے واٹس ایپ اور دیگر سوشل میڈیا پر شئیر کریں ۔

