دانا استاد
ایک فاضل استاد ایک شہزادے کو تعلیم دے رہا تھا اور بے دھڑک مارتا تھا۔۔۔۔۔ اور بے حد جھڑکتا تھا۔۔۔۔۔ ایک دن لڑکے نے تاب نہ لا کر باپ کے سامنے شکایت کی اور اپنے دردمند جسم سے کپڑے اتارے۔۔۔۔۔ باپ کا دل بھر آیا ۔۔۔۔۔ استاد کو بلایا اور کہا رعایا کے لڑکوں پر اتنی سختی نہیں کرتے جتنی کہ میرے بچوں پر‘ اس کا سبب کیا ہے کہا اس کا سبب یہ ہے کہ سنجیدہ گفتگو کرنی اور پسندیدہ حرکات عام طور پر لوگوں کے لئے ضروری ہیں اور بادشاہوں کے لئے خاص طور پر اس وجہ سے کہ جو کچھ ان کے ہاتھ سے ہو گا اور زبان سے نکلے گا وہ یقیناً لوگوں میں مشہور ہو جائے گا اور عام لوگوں کے قول و فعل کا اتنا اعتبار نہیں ہے۔۔۔۔۔
پس بادشاہزادے کے استاد پر فرض ہے کہ شہزادوں کے اخلاق کی آراستگی میں (اللہ ان کو اچھی ترقی عطا فرمائے) اس سے زیادہ کوشش کریں جتنی کہ عام لوگوں کے حق میں کی جاتی ہے۔۔۔۔۔ بادشاہ کو عالم کی اچھی تدبیر اور اس کا خوبی سے جواب دینا پسند آیا۔۔۔۔۔ خلعت اور نعمت عطا کیا اور اس کے عہدے درجہ کو بلند کر دیا۔۔۔۔۔(گلستان سعدی)
اگرآپ کو یہ واقعہ پسند آیا ہے تو اسکو شئیر ضرور کریں اور اس طرح کے دیگر اسلامی واقعات اور اولیاء اللہ کے حالات و تذکرے آپ ہمارے ویب سائٹ
https://readngrow.online
پر بالکل مفت میں پڑھ سکتے ہیں ۔
تمام اسلامی مواد اور دیگر کیٹگریز کو دیکھنے کے لئے یہ لنک وزٹ کریں
https://readngrow.online/readngrow-categories/
نیز ہم اس ویب سائٹ کی مفید چیزوں کو اس واٹس ایپ چینل پر بھی شئیر کرتے رہتے ہیں ۔
https://whatsapp.com/channel/0029VaviXiKHFxP7rGt5kU1H
یہ چینل فالو کرلیں ۔

