خزانہ نہ لینے پر مقدمہ
رزق حلال کے معاملے میں بہت زیادہ احتیاط کیا کرتے تھے حتیٰ کہ تابعین کا واقعہ ہے اوربعض حضرات حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا واقعہ کہتے ہیں کہ ایک صاحب نے زمین خریدی اور دوسرے نے بیچی۔ جب خریدنے والے نے اس میں ہل چلائے تو ایک جگہ سے اس میں خزانہ نکل آیا۔ اب وہ مالک کے پاس گیا کہ میں نے آپ سے زمین خریدی زمین کے اندرکا خزانہ تو نہیں خریدا، تو آپ اس کو لے لیجئے۔ وہ کہنے لگا کہ جناب جب میں نے زمین بیچ دی تو زمین کے اندر سے جوکچھ نکلے گا وہ تمہارا ہے، قسمت تمہاری، یہ تمہارا مال ہے۔ اب دونوں کا یہ اصرار تھا کہ یہ تمہارا مال ہے۔ اب فیصلہ کون کرے؟ قاضی کی عدالت میں مقدمہ آیا۔ کتنی حیرت کی بات ہے کہ مسلمانوں کی زندگی ایک وقت میں ایسی تھی کہ مقدمہ یہ آیا کہ ہر آدمی کہہ رہا ہے کہ یہ دوسرے کا مال ہے اس کو دیں۔ اس وقت اللہ تعالیٰ نے قاضیوں کو بھی دیدو دانش عطا کی تھی۔ چنانچہ قاضی صاحب نے عجیب قسم کا مقدمہ سنا اوراس کے بعد ان سے حالات زندگی پوچھے۔ پتہ چلا کہ ایک کا بیٹا جوان ہے اور ایک کی بیٹی جوان ہے، قاضی نے مشورہ دیا کہ تم اپنے بیٹے اور بیٹی کا آپس میں نکاح کردو اور یہ خزانہ جہیز میں ان کو دے دو۔ ایک وقت تھا کہ مسلمانوں کی زندگی میں حلال کے لئے اتنی کوششیں ہوا کرتی تھیں۔
(ج 27ص200)
اگرآپ کو یہ واقعہ پسند آیا ہے تو اسکو شئیر ضرور کریں اور اس طرح کے دیگر اسلامی واقعات اور اولیاء اللہ کے حالات و تذکرے آپ ہمارے ویب سائٹ
https://readngrow.online
پر بالکل مفت میں پڑھ سکتے ہیں ۔
تمام اسلامی مواد اور دیگر کیٹگریز کو دیکھنے کے لئے یہ لنک وزٹ کریں
https://readngrow.online/readngrow-categories/
نیز ہم اس ویب سائٹ کی مفید چیزوں کو اس واٹس ایپ چینل پر بھی شئیر کرتے رہتے ہیں ۔
https://whatsapp.com/channel/0029VaviXiKHFxP7rGt5kU1H
یہ چینل فالو کرلیں ۔

