ختم نبوت کیلئے بیٹے کی قربانی
۔’’آپ کا بیٹا بس آج شام تک کا مہمان ہے۔۔۔۔ اس کا کوئی علاج نہیں‘‘۔
ڈاکٹر کے یہ الفاظ سن کر مولانا روپڑے۔۔۔۔ اپنے بیٹے کو گھر لے آئے۔۔۔۔ گھر میں کھڑے اپنے بیٹے کی تیمار داری کررہے تھے کہ دروازے پر دستک ہوئی۔۔۔۔ مولانا دروازے پر گئے ۔۔۔۔باہر ایک بوڑھے شخص کو کھڑے پایا۔۔۔۔ حضرتؒ نے سلام و دعا کے بعد پوچھا بابا جی! خیریت سے آئے ہو؟ وہ کہنے لگا خیریت سے کہاں آیا ہوں۔۔۔۔ ہمارے علاقے میں ایک قادیانی مبلغ آیا ہوا ہے وہ لوگوں کو گمراہ کررہا ہے۔۔۔۔ پوری امت گمراہ ہورہی ہے اور آپ گھر میں کھڑے ہیں۔۔۔۔
مولانا نے جیسے ہی یہ بات سنی آپؒ کی آنکھوں سے آنسو بہ پڑے۔۔۔۔ بیوی سے فرمایا بی بی! میرا بیگ کہاں ہے؟ بیوی نے بیگ اٹھا کر دیا اور آپؒ بیگ ہاتھ میں پکڑے گھر سے روانہ ہونے لگے۔۔۔۔ بیوی نے دامن پکڑ لیا اور کہنے لگی۔۔۔۔ مولانا! آخری لمحات میں اپنے نوجوان بیٹے کو اس حالت میں چھوڑ کر جارہے ہو؟ مولانا نے آسمان کی طرف نظریں اٹھائیں اور رو کر روانہ ہونے لگے تو جاں بلب بیٹے نے کہا ابا جان! میں آج کا مہمان ہوں چند لمحے تو انتظار کرلیجئے میری روح نکل رہی ہے مجھے اس حال میں چھوڑ کر جارہے ہو؟
مولانا نے اپنے نوجوان بیٹے کو بوسہ دیا رونے لگے اور فرمایا۔۔۔۔ اے بیٹے! بات یہ ہے کہ میں محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دین کی خاطر جارہا ہوں کل قیامت کے دن حوض کوثر پر ہماری تمہاری ملاقات ہوجائے گی۔۔۔۔ یہ فرمایا اور گھر سے روانہ ہوگئے۔۔۔۔ اڈے پر پہنچے ابھی بس میں بیٹھے ہی تھے کہ چند لوگ دوڑے آئے اور کہنے لگے کہ مولانا! آپ کا بیٹا فوت ہوچکا ہے۔۔۔۔ اس کا جنازہ پڑھاتے جائیے۔۔۔۔ مولانا نے آسمان کی طرف نظریں اٹھائیں اور رو کر فرمانے لگے ۔۔۔۔ جنازہ پڑھانا فرض کفایہ ہے اور امت محمدیہ کو گمراہی سے بچانا فرض عین ہے۔۔۔۔ فرض عین چھوڑ کر فرض کفایہ کی طرف نہیں جاسکتا۔۔۔۔ پھر وہاں سے روانہ ہوگئے اس علاقے میں پہنچے اللہ تعالیٰ نے کامیابی عطا کی وہ قادیانی مبلغ بھاگ گیا۔۔۔۔ مولانا تین دن کے بعد گھر واپس پہنچے۔۔۔۔ بیوی قدموں میں گر گئی اور رو کر کہنے لگی۔۔۔۔ مولانا! جب آپ جارہے تھے تو بیٹا آپ کی راہ تکتا رہا اور کہتا رہا جب ابا جان واپس آجائیں تو انہیں میرا سلام عرض کردینا۔۔۔۔ مولانا نے جب یہ سنا تو فوراً اپنے بیٹے کی قبر پر گئے اور دعا مانگنے لگے اے اللہ! ختم نبوت کے وسیلے سے میرے بیٹے کی قبر کو جنت کا باغ بنادے ۔مولانا دُعا مانگ کر گھر واپس آئے تو رات بیٹے کو خواب میں دیکھا۔۔۔۔ بیٹے نے اپنے ابا سے ملاقات کی اور کہا کہ رب محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قسم! ختم نبوت کے وسیلے سے اللہ تعالیٰ نے میری قبر کو جنت کا باغ بنادیا ہے۔
ختم نبوت کے اس مجاہد کو دنیا مولانا غلام غوث ہزاروی رحمہ اللہ کے نام سے جانتی ہے۔ (بشکریہ ماہنامہ تذکرہ دارالعلوم کبیر والا)
اگرآپ کو یہ واقعہ پسند آیا ہے تو اسکو شئیر ضرور کریں اور اس طرح کے دیگر اسلامی واقعات اور اولیاء اللہ کے حالات و تذکرے آپ ہمارے ویب سائٹ
https://readngrow.online
پر بالکل مفت میں پڑھ سکتے ہیں ۔
تمام اسلامی مواد اور دیگر کیٹگریز کو دیکھنے کے لئے یہ لنک وزٹ کریں
https://readngrow.online/readngrow-categories/
نیز ہم اس ویب سائٹ کی مفید چیزوں کو اس واٹس ایپ چینل پر بھی شئیر کرتے رہتے ہیں ۔
https://whatsapp.com/channel/0029VaviXiKHFxP7rGt5kU1H
یہ چینل فالو کرلیں ۔

