خاتمہ بالخیر ہونے کا ایک پر اثر واقعہ

خاتمہ بالخیر ہونے کا ایک پر اثر واقعہ

سعودی عرب کے رہائشی ایک شخص نے خواب دیکھا کہ ایک شخص اس سے کہہ رہا تھا: اس فون نمبر پر موجود فلاں شخص کو عمرہ کرائو۔۔۔ فون نمبر بڑا واضح تھا۔۔۔ نیند سے بیدار ہوا تو اسے خواب اچھی طرح یاد تھا۔۔۔ مگر اس نے اسے وہم جانا اور خواب کو نظر انداز کر دیا۔۔۔اگلے روز پھر اسے وہی خواب آیا کہ اسے کوئی شخص کہہ رہا ہے کہ یہ فون ملائو اور فلاں شخص کو عمرہ کرائو۔۔۔ دوسرے دن کے خواب کے بعد یہ شخص اپنے محلہ کے امام مسجد کے پاس گیا اور اسے بتایا: میں نے مسلسل دو دن یہ خواب دیکھا ہے۔۔۔ امام مسجد نے کہا: اگر تم نے پھر یہ خواب دیکھا تو اس فون نمبر کو اچھی طرح یاد رکھنا اور ممکن ہو تو اسے لکھ لینا اور پھر اس شخص سے رابطہ کرکے اسے عمرہ کروا دینا۔۔۔ تیسرے روز پھر اس نے خواب دیکھا کہ اسے کہا جا رہا ہے: اس فون نمبر پر فلاں نام کے شخص کو عمرہ کرو ا دو۔۔۔
اگلے روز اس شخص نے خواب میں بتلایا ہوا فون ڈائل کیا جس شخص نے فون اٹھایا اس سے ضروری تعارف کے بعد اس نے کہا: مجھے خواب میں کہا گیا ہے کہ میں تمہیں عمرہ کرائوں‘ لہٰذا میں اس نیکی کے کام کی تکمیل کرنا چاہتا ہوں۔۔۔ جس شخص کو اس آدمی نے فون کیا وہ زور سے ہنسا اور کہنے لگا: کون سے عمرہ کی بات کرتے ہو؟ میں نے تو مدت ہوئی کبھی فرض نماز بھی ادا نہیں کی اور تم کہتے میں تجھے عمرہ کروا نا چاہتا ہوں!!۔
جس شخص نے خواب دیکھا وہ اس سے اصرار کرنے لگا۔۔۔ اس کی منت سماجت کی اور کہا: دیکھو میرے بھائی! میں تمہیں عمرہ کروانا چاہتا ہوں‘ سارا خرچ میرا ہوگا۔۔۔ خاصی بحث و تمحیص کے بعد وہ اس شرط پر رضا مند ہوا کہ ٹھیک ہے میں تمہارے ساتھ عمرہ کروں گا مگر تم مجھے واپس ریاض لے کر آئو گے اور تمام تر اخراجات تمہارے ذمہ ہوں گے۔۔۔ اس نے موافقت ظاہر کر دی۔۔۔
وقت مقررہ پر جب وہ ایک دوسرے کو ملے تو خواب والے شخص نے دیکھا کہ واقعی وہ شکل و صورت سے کوئی اچھا انسان نہیں دکھائی دیتا تھا۔۔۔اس کے چہرے سے عیاں تھا کہ وہ شرابی ہے اور نماز کم ہی پڑھتا ہے۔۔۔ اس کو بڑا تعجب ہوا کہ یہ وہی شخص ہے جس کے بارے میں تین مرتبہ اسے خواب میں عمرہ کروانے کے لیے کہا گیا ہے۔۔۔ دونوں شخص عمرہ کے لیے مکہ مکرمہ روانہ ہوگئے۔۔۔ میقات پر پہنچے تو انہوں نے غسل کرکے احرام باندھا اور حرم شریف کی جانب رواں دواں ہوگئے۔۔۔
انہوں نے بیت اللہ کا طواف کیا۔۔۔ مقام ابراہیم پر دو رکعت نماز ادا کی۔۔۔ صفا و مروہ کے درمیان سعی کی۔۔۔ اپنے سروں کو منڈوایا اور اس طرح عمرہ مکمل ہوگیا۔۔۔ اب انہوں نے واپسی کی تیاری شروع کر دی۔۔۔ حرم سے نکلنے لگے تو وہ شخص‘ جسے اس نے بہت کوشش اور منت سماجت سے عمرہ پر آمادہ کیا تھا۔۔۔ کہنے لگا: دوست حرم چھوڑنے سے پہلے میں دو رکعت نفل ادا کرنا چاہتا ہوں۔۔۔ اس نے اس کے سامنے نفل ادا کرنے شروع کر دئیے۔۔۔ جب وہ سجدہ میں گیا تو اس کا سجدہ طویل سے طویل تر ہوتا چلاگیا۔۔۔ جب کافی دیر گزر گئی تو اس کے دوست نے اسے ہلایا۔۔۔ جب کوئی حرکت اس کے جسم میں نہ ہوئی تو اس نے اسے ٹٹولا۔۔۔ اچانک اس پر انکشاف ہوا کہ اس کے ساتھی کی روح حالت سجدہ ہی میں پرواز کر چکی تھی۔۔۔
اپنے ساتھی کی ایسی موت پر اسے بڑا رشک آیا اور وہ رو پڑا کہ یہ تو حسن خاتمہ ہے۔۔۔ کاش !ایسی موت میرے بھی نصیب میں ہوتی۔۔۔ ایسی موت تو ہر کسی کو نصیب ہو۔۔۔ وہ اپنے آپ سے کہہ رہا تھا۔۔۔
قارئین کرام! یہ بات بتانے کی ضرورت نہیں کہ اس خوش قسمت کو آب زمزم سے غسل دیا گیا اس کو احرام پہنا کر حرم میں ہی اس کی نماز جنازہ ادا کی گئی۔۔۔ لاکھوں فرزند ان اسلام نے اس کا جنازہ پڑھا اور اس کی مغفرت کے لیے دعا کی گئی۔۔۔
اس دوران ریاض میں اس کی وفات کی اطلاع دی جا چکی تھی۔۔۔ خواب دیکھنے والے شخص نے اپنے وعدہ کے مطابق اس کی میت کو ریاض پہنچا دیا جہاں اسے دفن کر دیا گیا۔۔۔
اس کے گھرمیں رشتہ دار تعزیت کے لیے آتے رہے۔۔۔ چند دن گزرنے کے بعد جس شخص کو خواب میں عمرہ کروانے کا حکم دیا گیا تھا اس نے فوت ہونے والے کی بیوہ کو فون کیا۔۔۔ تعزیت کے بعد اس نے کہا: میں جاننا چاہتا ہوں کہ تمہارے خاوند کی کونسی ایسی نیکی تھی کہ اس کا انجام اس قدر عمدہ ہوا۔۔۔ اسے حرم کعبہ میں سجدہ کی حالت میں موت آئی۔۔۔ اس موت پر تو صلحاء اور متقین رشک کرتے ہیں اور ایسی موت کی تمنا کرتے ہیں۔۔۔
بیوہ نے کہا: بھائی !تم درست کہتے ہو میرا خاوند کوئی اچھا آدمی نہ تھا۔۔۔ اس نے ایک لمبی مدت سے نماز اور روزہ چھوڑ رکھا تھا۔۔۔ وہ شراب کا رسیا تھا اکثر و بیشتر شراب کی بوتل اس کے بستر پر ہوتی تھی۔۔۔ وہ رات کو شراب پی کر سوتا تھا۔۔۔ اور جہاں بھی جاتا اس کی کوشش ہوتی کہ اسے چھوڑ کر نہ جائے۔۔۔ میں اس کی کوئی خاص خوبی بیان نہیں کر سکتی۔۔۔ ہاں ایک خوبی جو اس میں تھی وہ یہ تھی کہ ہمارے ہمسایہ میں ایک نہایت فقیر بیوہ رہتی ہے۔۔۔ جس کے چھوٹے چھوٹے بچے ہیں۔۔۔ میرا خاوند روزانہ رات کو بازار جاتا تو جہاں وہ اپنے بچوں کے لیے کھانا خریدتا وہیں اس بیوہ اور اس کے یتیم بچوں کے لیے بھی کھانا لے آتا اور اس کے دروازے پر کھانا رکھ کر اسے آواز دیتا کہ میں نے کھانا باہر رکھ دیا ہے۔۔۔ اسے اٹھا لو۔۔۔
یہ بیوہ عورت کھانا اٹھاتی اور ساتھ ہی میرے خاوند کے لیے دعا کرتی:۔
ترجمہ
’’اللہ تمہارا خاتمہ بخیر کرے۔۔۔‘‘
قارئین کرام! اس طرح اس بیوہ کی دعا اللہ تعالیٰ نے قبول فرمالی۔۔۔ یہ اس بیوہ کی دعا کانتیجہ تھا کہ اس شرابی کا اتنے عمدہ طریقے پر خاتمہ ہوا کہ اس پر ہر مسلمان کو رشک آتا ہے۔۔۔
اس بات کو ہمیشہ یاد رکھیے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے سچ فرمایا ہے کہ
۔’’بھلائی کے کام آدمی کو بری موت سے بچاتے ہیں۔۔۔‘‘ (دُعائوں کے سنہرے واقعات)

اگرآپ کو یہ واقعہ پسند آیا ہے تو اسکو شئیر ضرور کریں اور اس طرح کے دیگر اسلامی واقعات اور اولیاء اللہ کے حالات و تذکرے آپ ہمارے ویب سائٹ
https://readngrow.online
پر بالکل مفت میں پڑھ سکتے ہیں ۔
تمام اسلامی مواد اور دیگر کیٹگریز کو دیکھنے کے لئے یہ لنک وزٹ کریں
https://readngrow.online/readngrow-categories/
نیز ہم اس ویب سائٹ کی مفید چیزوں کو اس واٹس ایپ چینل پر بھی شئیر کرتے رہتے ہیں ۔
https://whatsapp.com/channel/0029VaviXiKHFxP7rGt5kU1H
یہ چینل فالو کرلیں ۔

Most Viewed Posts

Latest Posts

ایک گنہگار کو توبہ کی توفیق

ایک گنہگار کو توبہ کی توفیق ایک واقعہ سنئے! سیدنا موسیٰ علیہ السلام کے زمانے میں ایک نوجوان کو گناہ کی عادت تھی۔ لوگوں نے بات موسیٰ علیہ السلام تک پہنچائی، حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اس کو بلا کر سمجھایا۔ وہ پھر بھی مرتکب ہو گیا، پھر سمجھایا، پھر مرتکب ہو گیا۔ حضرت...

read more

خواب ہدایت کا ذریعہ بنا

خواب ہدایت کا ذریعہ بنا ہم ایک دفعہ رشیا گئے ، ماسکو میں ایک نوجوان ملا، اس سے بات ہوئی تو اس نے کہا کہ کلمہ پڑھایئے، ہم نے کلمہ پڑھا دیا اور وہ مسلمان بن گیا۔ اس نے کہا کہ میں بائیس گھنٹے کی مسافت سے آیا ہوں، ہمارا ایک کلب ہے ’’ پریذیڈنٹ کلب‘‘ جس میں پینتالیس مرد...

read more

ایک گنہگار کو توبہ کی توفیق

ایک گنہگار کو توبہ کی توفیق ایک واقعہ سنئے! سیدنا موسیٰ علیہ السلام کے زمانے میں ایک نوجوان کو گناہ کی عادت تھی۔ لوگوں نے بات موسیٰ علیہ السلام تک پہنچائی، حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اس کو بلا کر سمجھایا۔ وہ پھر بھی مرتکب ہو گیا، پھر سمجھایا، پھر مرتکب ہو گیا۔ حضرت...

read more